بھارت میں آج کل ایک نیا شوق زوروں پر ہے اور وہ ہےخواب دیکھنے کا شوق۔ ویسے خواب دیکھنا کوئی بری بات بھی نہیں ہے مگر مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب آنکھیں ایسے خواب دیکھنے لگیں جن کو حقیقت کا روپ دینے کی آپ کی اوقات نہ ہو۔ نریندر مودی کے بھارت میں یہی کچھ ہو رہا ہے ایک طرف ’’وشو گرو‘‘ بننے کے دعوے ہیں اور دوسری طرف زمینی حقائق ، جو بار بار آ کر یہ پوچھتے ہیں کہ ’’جناب، ذرا نیچے بھی دیکھ لیجیے۔‘‘بھارت میں ہندوتوا کے نام پر ایک ایسا بیانیہ کھڑا کیا گیا ہے جس میں بھارت کو ایک خاص سانچے میں فٹ کرنے کی کوشش جاری ہے۔ اس سانچے میں سب کے لیے جگہ تو موجود ہے مگر برابر کی نہیں ہے۔ کوئی بہت اعلی ہے تو کوئی کمترین اور کچھ ایسے بھی ہیں جن کے لیےجگہ بس کاغذوں تک محدود ہوتی جا رہی ہے۔ مسلمانوں کے حوالے سے جو فضا بنائی گئی ہے وہ کسی تبصرے کی محتاج نہیں۔ کبھی قانون کے ذریعے، کبھی ہجوم کے ذریعے اور کبھی بزبان خاموشی ،پیغام البتہ واضح ہے کہ شناخت اب شہریت سے زیادہ اہم بنتی جا رہی ہے۔ یہ طرزِ فکر نئی نہیں۔ اگر ذرا پیچھے مڑ کر دیکھا جائے تو ایڈولف ہٹلر بھی کچھ ایسا ہی خواب لے کر نکلا تھا، جہاں ایک قوم کو برتری کا احساس دیا گیا اور باقی سب کو کم تر ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ ابتدا میں یہ سب ایک جوشیلے خواب کی طرح لگتا ہےمگر وقت گزرنے کے ساتھ یہی خواب ایک ڈراؤنے انجام میں بدل جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا تاریخ سے واقعی کوئی سبق لیا بھی گیا ہے یا محض اسے نظرانداز کر دینا آسان سمجھ لیا گیا ہے؟
کہانی کا اصل موڑ تب آتا ہے جب یہ بیانیہ سرحدوں سے باہر نکل کر خطے کی سیاست کو متاثر کرنے لگتا ہے کیونکہ جب اندرونی مسائل بڑھنے لگیں تو بیرونی دشمن کا تصور ہمیشہ ایک آسان حل بن جاتا ہے۔ یوں بھارت میں بھی وقتاً فوقتاً جنگی ماحول بنایا جاتا ہے جیسے کوئی اسٹیج تیار ہو اور اس پر ایک ہی ڈرامہ بار بار پیش کیا جا رہا ہو۔ایسے ہی ماحول کے تناظر میں وزیردفاع خواجہ آصف کا بیان کافی دلچسپ ہے، فرماتے ہیں کہ’’ ہماری ایئر فورس نے بھارت کے اندر گھس کر اسے مارا ہے، اگر اس دفعہ بھارت نے کوئی حرکت کی تو کولکتہ تک جا کر پھینٹی لگائیں گے‘‘۔ بظاہر تو یہ ایک سیاسی جملہ ہے مگر اس میں بھارت کے لئے ایک سنجیدہ تنبیہ ہے ۔خواجہ آصف کے مطابق بھارت فالس فلیگ آپریشن کی تیاری میں ہے یعنی حالات خود پیدا کرو اور الزام دوسروں پر ڈال دو۔ اگر یہ سوچ واقعی کسی پالیسی کا حصہ ہے تو یہ صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ بیانات سے زیادہ وزن ہمیشہ حقیقت کا ہوتا ہے۔ بھارت اپنی جس برتری کا ذکر کرتا ہےچاہے وہ معیشت ہو یا فوجی طاقت،اسی کے ساتھ ایک اور حقیقت بھی جڑی ہوئی ہے اور وہ یہ کہ جب بھی عملی امتحان کا وقت آیا، نتائج ہمیشہ بھارتی دعووں کے برعکس ہی نکلے۔پاکستان کی افواج خصوصاً فضائیہ نے ماضی میں ایسے مواقع پر وہ کارکردگی دکھائی ہےجو صرف نعروں تک محدود نہیں تھی اور اب پاکستانی فضائیہ میں 35 سٹیلتھ طیاروں کا حالیہ اضافہ بھی کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ جب فضا میں فیصلہ ہوتا ہے تو وہاں بیانیے نہیں بلکہ مہارت کام آتی ہے۔ طیارے صرف مشینیں نہیں ہوتے، وہ اعتماد اور تربیت کا امتحان بھی ہوتے ہیں اور اسی امتحان میں کئی بار بھارت کو وہ جواب ملا ہے جس کی شاید اسے توقع نہیںہوگی۔ ایک طرف ’’وشو گرو‘‘ بننے کے دعوے اور دوسری طرف یہ حقیقت کہ جب معاملہ عملی میدان میں آتا ہے تو حساب کتاب کچھ اور ہی نکلتا ہےجیسے کوئی شخص آئینے کے سامنے خود کو پہلوان سمجھے مگر میدان میں قدم رکھتے ہی دوسرے فریق کے ہاتھوں لمحوں میں چت ہو جائے۔چت اور پٹ کےاس کھیل میں بھارت متعدد بار بار منہ کی کھا چکا ہے یہ اور بات ہے کہ تسلیم نہیں کرتا۔
جب پاکستان کی جانب سے یہ کہا جاتا ہےکہ بھارت کو جواب صرف الفاظ میں نہیں بلکہ عملاً دیاجائے گا تو یہ محض دعویٰ نہیں بلکہ ایک پیغام ہوتا ہے۔ ایک ایسا پیغام جو شور سے نہیں بلکہ اعتماد سے دیاجاتا ہے۔ بھارت میں شاید یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ جنگ ایک بیانیہ ہےجسے میڈیا، نعروں اورجذبات سےجیتاجا سکتا ہے مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ جنگ وہ میدان ہے جہاں جذبات سے زیادہ حکمت عملی اور تیاری کی اہمیت ہوتی ہے اور یہاں اس میدان میں اکثر دعوے اپنی اصل شکل میں سامنے آجاتے ہیں۔ بھارت ایک ایسے راستے پر چل رہا ہے جہاں وہ خود کو مسلسل یقین دلا رہا ہے کہ وہ سب سے آگے ہے جبکہ حقیقت خاموشی سے اس کے قدموں کے نیچے سے زمین کھینچ رہی ہے۔سوال یہ نہیں کہ بھارت کیا کہہ رہا ہے، سوال یہ ہے کہ حقیقت کیا دکھا رہی ہے۔ اگر خواب حقیقت کے ساتھ جڑا ہو تو ترقی بنتا ہےمگر اگر خواب حقیقت سے کٹ جائے تو وہ ایک مذاق بن جاتا ہے۔ اس وقت صورتحال کچھ ایسی ہی محسوس ہوتی ہے، بھارت کا یہ خواب بہت بڑا ہے مگر اس خواب کی بنیاد کمزور پڑتی جا رہی ہے۔بات بڑی سادہ ہے کہ گرو بننے کے لیے صرف نعرے کافی نہیں ہوتے۔ اس کے لیے جرات ،مہارت اور توازن اور حقیقت پسندی ضروری ہوتی ہے ورنہ تاریخ ہمیشہ ایک ہی سبق دیتی ہے کہ خواب جتنا بڑا ہو، ٹوٹتا ہےتو آواز بھی دور تک جاتی ہےاور یہی وہ آواز ہوتی ہے جو اکثر صرف کانوں تک نہیں رہتی بلکہ تاریخ کے صفحات میں بھی گونجتی رہتی ہے۔ وہ آواز جو وقت گزرنے کے ساتھ مدھم نہیں پڑتی بلکہ مثال بن جاتی ہے۔ مثال اس بات کی کہ طاقت کا اصل معیار دعوے نہیں ہوتے بلکہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب دعووں کا سامنا حقیقت سے ہو جائے اور جب ایسا وقت آتا ہے تو پھر نہ نعرے کام آتے ہیں، نہ تاثر صرف حقیقت اپنا فیصلہ سناتی ہےاور شاید اسی لیے کہاجاتا ہے کہ قومیں خواب دیکھنے سے نہیں گرتیں بلکہ خواب اور زمین کے فاصلے کو نظر انداز کرنے سے گرتی ہیں۔