بلوچستان کی سیاسی اور سماجی تاریخ میں ایک اور خطرناک باب ابھرکر سامنے آیا ہے۔ اگرچہ صوبے میں 1947 سے شورش جاری رہی ہے لیکن اس میں خواتین کا دہشت گردانہ کردار بالکل نیا ہے۔ دستیاب شواہد یہ واضح کرتے ہیں کہ بی وائی سی (BYC) کے قیام سے قبل بلوچستان میں خواتین کی جانب سے خودکش حملوں کی کوئی روایت موجود نہیں تھی۔ یہاں خواتین کی سیاسی اور سماجی شمولیت محدود رہی مگر دہشت گردی کے نئے دور نے روایتی تصورات بدل دیئے اور خواتین کو بھی ہتھیار اٹھانے کے لیے راغب کیا۔بی وائی سی کا قیام 2020 میں عمل میں آیا اور یہ بظاہر انسانی حقوق اور لاپتہ افراد کے معاملات کے لیے سرگرم نظر آتی ہے تاہم حقیقت میں یہ بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے لیے ایک ’’بھرتی مرکز‘‘ یا Recruitment Nursery کے طور پر کام کر رہی ہے۔ اس کے پلیٹ فارم کے ذریعے ریاستِ پاکستان کو ’’قابض، ظالم اور نوآبادیاتی طاقت‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور اس بیانیے کے ذریعہ نوجوان خواتین اور کم عمر بچوں کے ذہنوں میں نفرت اور کینہ پیدا کیا جاتا ہے۔اسی پس منظر میں 2022 میں ایک نہایت سنجیدہ واقعہ سامنے آیا جب اعلیٰ تعلیم یافتہ شاری بلوچ نے کراچی یونیورسٹی میں خودکش حملہ کیا۔ یہ واقعہ بی وائی سی کے قیام کے بعد خواتین کے ذریعے دہشت گردی کا پہلا عملی مظاہرہ تھا۔ شاری بلوچ کی کارروائی نے یہ واضح کر دیا کہ خواتین محض نظریاتی تربیت نہیں لے رہیں بلکہ عملی طور پر حملے کرنے کے لیے بھی تیار کی جا رہی ہیں۔اس کے بعد سمعیہ قلندرانی، ماہکان بلوچ، ماہل بلوچ، زرینہ رفیق بلوچ، ہوا بلوچ، آسیہ مینگل اور دیگر خواتین نے متعدد خودکش حملے کیے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بی وائی سی نے خواتین کو دہشت گردی کے لیے تیار کرنے کا ایک مستقل اور مربوط سلسلہ قائم کر رکھا ہے۔ یہ خواتین محض مظاہروں یا بیانیے تک محدود نہیں رہیں بلکہ عملی میدان میں بھی حصہ لے رہی ہیں۔ درجنوں خواتین اس وقت بی ایل اے کے کیمپس میں تربیت حاصل کر رہی ہیں اور ان کی تیاری کی ویڈیوز خود بی ایل اے جاری کرتا ہے۔ یہ مواد واضح طور پر یہ پیغام دیتا ہے کہ خواتین اب اس دہشت گردانہ دھندے کا فعال حصہ ہیں اور انہیں حملوں کے لیے مستعد بنایا جا رہا ہے۔ بی وائی سی وہ خام مواد فراہم کرتی ہے جسے بی ایل اے کا ’’مجید بریگیڈ‘‘ بارود میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اس نے بلوچستان میں خودکش حملوں کے نئے مرحلے کی بنیاد رکھی ہے۔بی وائی سی کے پلیٹ فارم پر صبیحہ بلوچ اور دیگر رہنماؤں کی تقریروں میں مسلسل ’’بلوچ راج‘‘ اور ریاست کے خلاف مزاحمت کی تلقین کی جاتی ہے۔ یہ بیانیہ براہ راست دہشت گردی کی راہ ہموار کررہاہے۔ نوجوان خواتین جو اس پیغام سے متاثر ہوتی ہیں، وہ خودکش حملوں اور دیگر دہشت گردانہ کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے تربیت یافتہ بن جاتی ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ بی وائی سی کی سرگرمیاں نہ صرف خواتین بلکہ کم عمر بچوں کو بھی دہشت گردی کی جانب راغب کر رہی ہیں۔ تنظیم کے پروگرام اور احتجاجی کیمپ ذہنی اور عملی تربیت کا وسیلہ ہیں۔ نوجوان خواتین جو بی وائی سی کے کیمپوں یا اس کے بیانیے سے جڑی ہیں، وہ کسی نہ کسی طور دہشت گردانہ کارروائیوں میں شامل ہو جاتی ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ بی وائی سی صرف مظاہروں یا احتجاج تک محدود نہیں بلکہ ایک فعال تربیتی مرکز کے طور پر کام کر رہی ہے۔
بلوچستان میں خواتین کی دہشت گردی کے بڑھتے رجحان سے نہ صرف دہشت گردانہ کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہوا بلکہ خواتین کی سماجی شناخت بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ یہ صورتحال ایک نئے دور کی نشاندہی ہے جہاں خواتین محض مظاہروں یا انسانی حقوق کی سرگرمیوں میں شریک نہیں بلکہ خودکش حملوں میں بھی حصہ لے رہی ہیں۔ بی وائی سی کے کیمپ اور بیانیہ نوجوان خواتین کو دہشت گردی کی طرف راغب کر رہا ہے جس سے مستقبل میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے نئے دھچکے متوقع ہیں۔ بی وائی سی کا بیانیہ اور تربیتی سرگرمیاں آپس میں مربوط ہیں۔ نوجوان خواتین جو اس تنظیم کے پروگراموں میں شامل ہوتی ہیں، وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیوں کا حصہ بن جاتی ہیں۔ یہ خواتین بعد میں خودکش حملوں اور دیگر دہشت گردانہ کارروائیوں میں شریک ہوتی ہیں اور بی ایل اے کے لیے نیا خام مواد بھی فراہم کرتی ہیں۔اس مسلسل نگرانی اور تربیت نے بلوچستان میں خواتین کی دہشت گردی کو منظم اور پائیدار شکل دی ہے۔ بی وائی سی سے قبل بلوچستان میں خواتین کی جانب سے خودکش حملوں کی کوئی روایت نہیں تھی لیکن اب صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ یہ ایک واضح انتباہ ہے کہ دہشت گردی میں خواتین کا کردار بڑھ رہا ہے اور یہ صرف نظریاتی اثرات تک محدود نہیں رہا۔یہ امر واضح ہے کہ بی وائی سی نے بلوچستان میں خواتین کو دہشت گردی کے لیے بھرتی اور تربیت دینے کا ایک جامع نظام قائم کیا ہے جس سے یہ خواتین نہ صرف نظریاتی طور پر متاثر ہو رہی ہیں بلکہ عملی طور پر خودکش حملوں اور دیگر دہشت گردانہ کارروائیوں میں شریک ہیں۔ بلوچستان کےلیے یہ موجودہ صورتحال بلاشبہ ایک پیچیدہ اور خطرناک چیلنج ہے جس کا حل عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سماجی شعور، تعلیم اور نوجوان خواتین کے لیے مثبت متبادل فراہم کرنے میں مضمر ہے۔یہ حقیقت نہ صرف معاشرتی بلکہ قومی سطح پر بھی تشویشناک ہے۔ نوجوان نسل بالخصوص خواتین کو مثبت سمت میں لے جانا اور دہشت گردی کی جڑیں کمزور کرنا اس وقت سب سے بڑی ضرورت ہے۔ بی وائی سی کے بیانیے اور تربیتی کیمپ کے اثرات روکنے کے لیے ایک مربوط اورجامع حکمت عملی کواپنانا لازمی ہے۔ بلوچستان کی امن و ترقی کے لیےخواتین کی تعلیم، شعور اور محفوظ مواقع فراہم کرنا سب سے مؤثر حل ہو سکتا ہے تاکہ دہشت گردانہ رجحان کو جلد سے جلد ختم کیا جا سکے۔