ایک لمحے کے لیےفرض کرلیجئے کہ کل کی صبح پاکستان یہ اعلان کر دے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں کوئی سفارتی مہم نہیں چلائے گا، کسی عالمی فورم پر اس کا تذکرہ نہیں کرے گا، اقوام متحدہ کی قراردادوں کا حوالہ نہیں دے گا اور نہ ہی کشمیریوں کے سیاسی مستقبل کو اپنی خارجہ پالیسی کا حصہ سمجھے گا تو اس اعلان کے بعد دنیا کے طاقت کے مراکز میں کشمیرکی بات کرنے والااورکون ہو گا؟ کون سا دارالحکومت اس تنازعے کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھے گا؟ اور سب سے بڑھ کر وہ کون سی ریاست ہوگی جو مسلسل یہ یاد دلاتی رہے گی کہ برصغیر کا یہ باب ابھی بند نہیں ہواہے؟ ان سوالات کومحض مفروضہ نہ سمجھا جائے ،یہ آزادکشمیر کی موجودہ صورتحال کو سمجھنے کی کنجی ہیں۔سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے مگر کشمیر کا معاملہ بین الاقوامی سیاست کے حافظے سے محو نہیں ہوا۔ اس کی ایک وجہ کشمیریوں کی اپنی مزاحمت اور سیاسی جدوجہد تو ہے ہی لیکن دوسری اور سب سے اہم وجہ وہ مستقل سفارتی اصرار ہے جس کے ذریعے پاکستان نے اس مسئلے کو عالمی گفتگو کا حصہ بنائے رکھا۔ دنیا میں بے شمار تنازعات ایسے ہیں جو وقت کے ساتھ اخباری آرکائیوز میں دفن ہو گئے مگر کشمیر آج بھی جب زیرِ بحث آتا ہے تو اس کے پیچھے ایک مسلسل ریاستی موقف دکھائی دیتا ہے۔ اختلاف اس موقف کے طریقۂ کار سے ہو سکتا ہے، اس کی افادیت پر بحث ہو سکتی ہےلیکن اس کے وجود سے انکار مشکل ہے۔
2019 میں بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کر کے ایک نیا سیاسی باب کھولنے کی کوشش کی۔ یہ محض آئینی ترمیم نہیں تھی بلکہ متنازع خطے کی شناخت، حیثیت اور مستقبل کے بارے میں ایک یکطرفہ اعلان تھا۔ بھارت کے اس غاصبانہ اقدام سے آزاد جموں وکشمیر کی اہمیت مزید نمایاں ہوئی کیونکہ ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم شدہ حقیقت میں یہ خطہ آج بھی اس تنازعے کی سیاسی اور قانونی یادداشت کا ایک اہم حوالہ ہے۔ مہاجر نشستوں سے لے کر ریاستی ڈھانچے تک کئی ایسی علامتیں موجود ہیں جو اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ کشمیر کا سوال ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ اپنی مختلف صورتوں میں موجود ہے۔
اسی دوران آزاد کشمیر کے اندر ایک ایسی سیاسی فضا بھی تشکیل پاتی رہی جس میں بعض اوقات اصل تنازعے سے زیادہ توجہ اندرونی کشمکش پر مرکوز ہو گئی۔ عوامی مسائل، مہنگائی، روزگار، بجلی کے نرخ اور انتظامی کمزوریاں یقیناً حقیقی مسائل ہیں اور ان پر آواز اٹھانا ہر شہری کا حق ہے لیکن ہر تحریک کو کسی نہ کسی صورت اس سوال کا سامنا ضرور کرنا پڑتا ہے کہ اگرموجودہ بندوبست نہیں تو اس کے بعد اور کون سا؟ احتجاج ایک دباؤ پیدا کر سکتا ہے، ہڑتال ایک پیغام دے سکتی ہے مگر ریاستی اور انتظامی ڈھانچے کا متبادل خاکہ بھی درکار ہوتا ہے۔ اس سوال کا جواب کسی بھی سنجیدہ سیاسی تحریک کو دینا پڑتا ہے۔دوسری جانب یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ آزاد کشمیر کی معیشت اور پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات محض سیاسی نعروں کا موضوع نہیں۔ تجارت، روزگار، تعلیم، صحت، مواصلات اور سیاحت کے متعدد شعبے ایسے ہیں جن کی جڑیں دونوں اطراف کے باہمی تعاون سے وابستہ ہیں۔ جب سیاسی کشیدگی مستقل کیفیت اختیار کر لے، بازار غیر یقینی میں مبتلا ہوں اور روزمرہ زندگی احتجاجی ماحول کی گرفت میں آ جائے تو اس کا اثر صرف حکومتوں تک محدود نہیں رہتا۔ اس کی قیمت دکاندار بھی ادا کرتا ہے، مزدور بھی، طالب علم بھی اور وہ خاندان بھی جو بہتر مستقبل کی امید پر زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ جدید دور کی جنگیں اب بیانیوں کے میدان میں لڑی جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور سیاسی مہمات رائے عامہ کی تشکیل میں پہلے سے کہیں زیادہ اثر انگیزہیں۔ ایسے ماحول میں جب کوئی بیانیہ دانستہ یا نادانستہ طور پر اس واحد ریاست(پاکستان) کو ہی ہدف بنا دے جو کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر اٹھاتی رہی ہے تو ان کے گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ اس بیانیے کے سیاسی نتائج کتنے بھیانک ہوسکتے ہیں۔یہ بات درست ہے کہ ہر تنقید غداری نہیں ہوتی اور ہر اختلاف دشمنی نہیں ہوتا لیکن ہر سیاسی نعرے کے اثرات ضرور ہوتے ہیںاور دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ جذبات سے پہلے نتائج پر غور کر لیا جائے۔ بعض حلقے پاکستان سے شکوے تو کرتے ہیں مگر اس سوال پر خاموش دکھائی دیتے ہیں کہ اگر پاکستان پس منظر میں چلا جائے تو کشمیر کا مقدمہ کس کے سپرد ہوگا۔ دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔ بین الاقوامی ادارے بھی اسی وقت سرگرم ہوتے ہیں جب کسی ریاست یا سیاسی قوت کی طرف سے مسلسل توجہ دلائی جائے۔ ایسی صورت میں یہ تصور کرنا محال ہے کہ پاکستان کی عدم موجودگی میں کوئی دوسرا ملک کشمیر کو اپنی سفارتی ترجیحات میں شامل کر لے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ اس تنازعے کی بین الاقوامی موجودگی کا ایک بڑا حصہ پاکستان کی مسلسل وابستگی سے جڑا ہوا ہے۔ بھارت برسوں سے کشمیر کے تنازعے کو ایک داخلی معاملہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ کشمیر کا مقدمہ آج بھی بین الاقوامی سطح پر اسی وجہ سے زندہ ہے کہ پاکستان اسے متنازع اور حل طلب مسئلہ قرار دیتا رہا ہے۔قومیں اپنے اختلافات کے باوجود بعض بنیادی معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرتی ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ بھی انہی معاملات میں سے ایک ہے۔ اس پر حکومتوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، پالیسیوں پر تنقید کی جا سکتی ہے، انتظامی کمزوریوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے مگر اس سارے مباحثے کے دوران یہ سوال فراموش نہیں ہونا چاہیے کہ مجموعی منظرنامے میں پاکستان مخالف بیانیے کافائدہ کس کو پہنچ رہا ہے اوراصل نقصان کس کا ہوگا۔ سیاست کا امتحان نعرے لگانا نہیں بلکہ نتائج کو بھی سمجھنا ہے۔ معاملہ صرف پاکستان یا آزاد کشمیر کا نہیں بلکہ اس تصور کا ہے جس کے مطابق کسی قوم کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ طاقت کے زور پر نہیں ہوناچاہیے۔ اگر یہ اصول اہم ہے تو اسے زندہ رکھنے والی ہر آواز، ہر فورم اور ہر سیاسی کوشش کی قدر بھی ضروری ہے۔ اختلافات اپنی جگہ لیکن سچ تو یہ ہے کہ پاکستان نے کشمیر کے سوال کو عالمی حافظے سے مٹنے نہیں دیا اور یہیں آج کی تمام بحث آ کر ٹھہرتی ہے۔