ہر شہر کی ایک آواز ہوتی ہے۔ کہیں یہ آواز پرندوں کے شور میں گھل جاتی ہے، کہیں گاڑیوں کے ہارن میں اور کہیں انسانوں کی خاموشی میں۔ خاموشی بھی ہمیشہ سکون کی علامت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات یہ اس بے اعتنائی کا دوسرا نام بن جاتی ہے جہاں دوسروں کے دکھ کو اپنا مسئلہ ماننے سے انکار کر دیا جائے۔ اسلام آباد کی ایک سڑک پر چند لمحوں کے اندر ایک ایسا فیصلہ ہوا جس نے ایک جان لے لی مگر ایک سوال بھی لاکھوں لوگوں کے سامنے رکھ دیا۔ خاتون مدد کے لئے پکار رہی تھی۔ ایک شخص نے یہ منظر دیکھا، گاڑی کی رفتار کم کی اور ٹھہر گیا۔ اس نے یہ نہیں سوچا کہ سامنے کون ہے، معاملہ کیا ہے یا انجام کیا نکلے گا۔ اس نے صرف اتنا سمجھا کہ اس لمحے کسی کو مدد درکار ہے۔ اس فیصلے کی قیمت اس نے اپنی جان سے ادا کی۔اس واقعے پر افسوس کرنا آسان ہے۔ چند تعریفی جملے لکھ دینا بھی مشکل نہیںلیکن انسان کی زندگی میں بعض فیصلے سوچ بچار کے بعد نہیں کیے جاتے۔ وہ اندر سے اٹھنے والی ایک آواز پر کیے جاتے ہیں۔ یہی آواز کردارکو بناتی ہے۔ اسی آواز کی وجہ سے دو آدمی ایک ہی منظر دیکھتے ہیں مگر دونوں کا ردِعمل مختلف ہوتا ہے۔ ایک قدم تیز کر دیتا ہےاوردوسرا قدم روک لیتاہے۔
ہم نے احتیاط کا مطلب بہت وسیع کر لیا ہے۔ اب احتیاط میں خاموش رہنا بھی شامل ہو گیا ہے، نظریں بچا لینا بھی اور یہ سمجھ لینا بھی کہ دوسروں کے مسائل میں پڑنے سے نقصان اپنا ہی ہوگا۔ یہ سوچ کسی ایک فرد نے پیدا نہیں کی۔ حالات نے اسے جنم دیا، خوف نے اسے پالا اور تلخ تجربات نے اسے مضبوط کیا مگر ہر وہ عادت جو انسان کو دوسرے انسان سے دور لے جائے آخرکار سماج کو کمزور کر دیتی ہے۔ معاشرے کی بنیاد صرف قانون پر نہیں کھڑی ہوتی۔ قانون وہاں پہنچتا ہے جہاں جرم ہو چکا ہو۔ اس سے پہلے جو دیوار ظلم کے راستے میں کھڑی ہوتی ہے اس کا نام شہری شعور ہے۔ جب لوگوں کو یقین ہو کہ آس پاس موجود افراد بے حس تماشائی نہیں بنیں گے تو بہت سے جرائم کی جرأت بھی دم توڑ دیتی ہے۔خواتین کے خلاف جرائم پر گفتگو کرتے ہوئے ہماری نظر اکثر سنسان سڑکوں، تاریک گلیوں اور اجنبی چہروں پر جاتی ہے حالانکہ حقیقت اس سے زیادہ تلخ ہے۔ بہت سے واقعات ایسے لوگوں کے ہاتھوں جنم لیتے ہیں جنہیں متاثرہ خاتون پہلے سے جانتی ہے۔ دفتر، تعلیمی ادارہ، محلہ یا روزمرہ کا کوئی تعلق۔ اعتماد کا دائرہ ٹوٹنے سے صرف ایک شخص زخمی نہیں ہوتا، پورا سماجی رشتہ مجروح ہو جاتا ہے۔اسی لیے مسئلے کا حل صرف نگرانی کے نظام میں تلاش کرنا کافی نہیں۔ اصل سوال تربیت کا ہے۔ اچھا ڈاکٹر، اچھا انجینئر، اچھا افسر یا کامیاب تاجر بن جانا یقیناً قابلِ تعریف ہےمگر اس سے پہلے ایک اچھا انسان بننا ضروری ہے۔ ورنہ علم ذہانت تو دے سکتا ہے لیکن سمت نہیں۔بہت سے لوگ اپنی ملازمت پوری دیانت سے کرتے ہیںمگر بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے دائرہ اختیار سے باہر بھی انسانیت کا حق ادا کرتے ہوں۔ ایسے لوگ کسی قانون کی کتاب پڑھ کر پیدا نہیں ہوتے، برسوں کی تربیت، گھر کے ماحول اور اندر کی آواز انہیں اس مقام تک پہنچاتی ہے۔ ہم اپنے بچوں سے اکثر پوچھتے ہیں کہ بڑے ہو کر کیا بنو گے؟ ڈاکٹر، انجینئر، افسر یا کاروباری؟ شاید ہمیں کبھی کبھی یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ بڑے ہو کر کیسے انسان بنو گے؟ اس سوال کا جواب کسی امتحان میں نہیں لکھا جاتایہ روزمرہ زندگی میں لکھا جاتا ہے۔ کسی کمزور کے ساتھ برتاؤ، کسی اختلاف کو برداشت کرنے کا انداز، کسی عورت کے احترام میں جھلکنے والی شائستگی، کسی اجنبی کے دکھ پر دل کا نرم پڑ جانایہی چیزیں شخصیت کا اصل تعارف بنتی ہیں۔
ہم نے ترقی کے بہت سے پیمانے بنا لیے ہیں۔ بلند عمارتیں، چوڑی شاہراہیں، جدید دفاتر، نئی گاڑیاں اورتیز رفتار رابطے۔ یہ سب ضروری ہیںمگر ایک ایسا شہر جہاں عورت خود کو غیر محفوظ محسوس کرے، جہاں کمزور آدمی مدد مانگنے سے گھبرائے، جہاں ہر شخص صرف اپنی جان بچانے کی فکر میں رہے وہاں سہولتیں تو ہو سکتی ہیں لیکن سکون نہیں ہوتا۔سماج کی نیو اعتماد پر کھڑی ہے۔ اسے لوگ اپنے رویّوں سے مضبوط کرتے ہیں۔ جب ایک دکاندار ایمانداری سے سودا بیچتا ہے، ایک استاد انصاف سے نمبر دیتا ہے، ایک افسر اختیار کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھاتا، ایک راہ گیر کسی زخمی کو اسپتال پہنچا دیتا ہے، تب کہیں جا کر اعتماد کی وہ باریک ڈور بنتی ہے جس پر پوری اجتماعی زندگی ٹکی رہتی ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ ہر شخص سے ایک جیسی جرأت کی توقع نہیں کی جا سکتی ہے نہ ہی ہر موقع ایک جیسا ہوتاہے، ہر آدمی کی جسمانی استطاعت بھی برابر نہیںمگر ذمہ داری کے راستے صرف ایک نہیں ہوتے۔ کبھی پولیس کو بروقت اطلاع دینا، کبھی اردگرد کے لوگوں کو متوجہ کرنا، کبھی متاثرہ شخص کو پناہ دینا، کبھی عدالت میں سچ بول دینا بھی ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی صورتیں ہیں۔ خاموش رہنے اور جان ہتھیلی پر رکھ لینے کے درمیان ایک پوری دنیا آباد ہے اور اسی دنیا میں باشعور شہری اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
گروپ کیپٹن عاصم کی یاد صرف اس لیے زندہ نہیں رہے گی کہ وہ ایک ایئر فورس افسر تھے۔ انہیں اس فیصلے کے سبب یاد رکھا جائے گا جو انہوں نے ایک عام شہری کی حیثیت سے کیا۔ اس لمحے ان کے سامنے کوئی اعزاز نہیں تھا، صرف ایک انسان کی حفاظت کا تقاضا تھا اور انہوں نے اسی تقاضے کو اہم جانا۔ان کی شہادت پر گفتگو کرتے ہوئے اگر ہم صرف ان کی بہادری کا ذکر کریں گے تو شاید آدھی بات ہی کر سکیں گے۔ پوری بات تب ہوگی جب ہم یہ بھی دیکھیں کہ ان کے فیصلے نے ہمیں ہمارے بارے میں کیا سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ انہوں نے ہمیں آئینہ دکھایا ہے۔ اس آئینے میں کسی ایک شخص کا چہرہ نہیں، پورا معاشرہ دکھائی دیتا ہے۔ اس میں ہمارے خوف بھی نظر آتے ہیں، ہماری خاموشیاں بھی اور وہ امید بھی کہ ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا۔کردار کا یہ غازی اپنے گھر واپس نہیں لوٹا۔ ان کے بچوں کے لیے یہ ایک ایسا دکھ ہے جس کی تلافی ممکن نہیں، ان کے اہلِ خانہ کے لیے ایک ایسا خلا ہے جسے کوئی لفظ نہیں بھر سکتا۔ مگر اس ذاتی غم کے اندر ہم سب کے لیے ایک اجتماعی ذمہ داری بھی چھپی ہوئی ہے۔ اگر ہم نے اپنے گھروں میں احترام، اپنے بچوں میں احساس ذمہ داری، حساسیت اور اپنے رویوں میں انسان دوستی کے لیے تھوڑی سی جگہ پیدا کر لی تو ایک جان کی قربانی محض ایک خبر نہیں رہے گی بلکہ ایک سمت بن جائے گی۔
زندگی کسی نہ کسی دن ہر شخص کو ایک ایسے موڑ پر ضرور لے آتی ہے جہاں فیصلہ لمحوں میں کرنا پڑتا ہے۔ وہاں نہ مشورہ دینے والا کوئی ہوتا ہے، نہ تالیاں بجانے والا، نہ تاریخ لکھنے والا۔ صرف انسان اپنے ضمیر کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔وہ ایک لمحہ انسان کا تعارف لکھ دیتا ہے کہ وہ حادثے سے نظریں چرا تاہےیا کسی اجنبی کی عزت اور جان کے درمیان ڈھال بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔