لاہور کی ایک تنگ گلی میں واقع ایک معمولی سا مکان تھا۔ چھت کمزور تھی اور بوجھ برداشت نہیں کر پائی۔ ایک لمحہ تھا کہ دھڑام کی آواز آئی اور پوری چھت گر کر ریزہ ریزہ ہو گئی۔ ملبے تلے وہ بچے دب گئے جنہوں نے ابھی زندگی کو سمجھنا بھی شروع نہیں کیا تھا۔ کوئی معصوم بچی اپنی گڑیا کو سامنے رکھے سبق یاد کر رہی تھی تو کوئی بچا گیند بستے میں رکھے اپنے سکول کا گرمیوں کی چھٹیوں کا کام کر رہا تھا۔ مگر چند سیکنڈز میں وہ سب خاک اور پتھر بن گئے۔ یہ المیہ کوئی پہلا نہیں نہ ہی کوئی آخری ہوگا کیونکہ اس کی جڑیں غربت میں پیوست ہیں جو روز بروز گہری ہوتی جا رہی ہے۔پاکستان میں غربت کی شدت نے ایک نئی انتہا اختیار کر لی ہے۔ ملک کی ایک بڑی آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جس کا مطلب ہے کہ ان کے پاس خوراک، مکان، لباس اور صحت کی بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایک وقت کا کھانا بھی پورے گھر کے لئے مشکل سے کما پاتے ہیں۔ جو بچوں کی تعلیم اور علاج معالجے کو لاکھوں روپے کا خواب سمجھتے ہیں اور جو چھوٹی سی بیماری کو بھی موت کا پیغام سمجھ کر خاموش رہ جاتے ہیں۔ یہ وہ چہرے ہیں جو شہروں کے نوشتہ جات پر نہیں آتے مگر ہر گلی اور ہر محلے میں موجود ہیں۔پنجاب پاکستان کا سب سے زیادہ آباد صوبہ ہے مگر افسوس کہ یہاں غربت کی شرح بھی سب سے زیادہ ہے۔ تقریبا پینتیس فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے یعنی ہر چار میں سے ایک شخص ایسا ہے جو بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہے۔
گزشتہ سات سالوں میں یہ شرح مزید ایک تہائی بڑھ گئی ہے۔ لاہور، فیصل آباد، ملتان اور گوجرانوالہ جیسے بڑے شہر بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ان شہروں کی چمکتی عمارتوں کے سائے تلے ایسے گھر ہیں جہاں ایک چھت ہی سب سے بڑی نعمت ہے چاہے وہ کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہو۔ایک غریب خاندان میں بچہ جب سکول جاتا ہے تو اسے کتابوں کی نہیں بھوک کی فکر ہوتی ہے۔ جب وہ بیمار ہوتا ہے تو گھر والے ڈاکٹر کی بجائے پڑوسی کے گھر سے کوئی پرانی دوا لانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جب بارش ہوتی ہے تو کچے گھر کی دیواروں میں شگاف پڑ جاتے ہیں مگر مرمت کے لئے پیسے نہیں ہوتے۔ جب چھت گرتی ہے تو اس کا ذمہ دار کوئی نہیں ہوتا کیونکہ مکان مالک بھی اتنا ہی غریب ہوتا ہے کہ اس نے کبھی انجینئر کو بلانے کا سوچا بھی نہیں۔ یوں غربت خود اپنا ایک المیہ پیدا کرتی ہے اور پھر اگلے حادثے کا انتظار کرتی ہے۔ غربت کا سب سے بڑا شکار معاشرے کی وہ خواتین اور لڑکیاں ہیں جن کے پاس تعلیمی ڈگریاں تو ہیں مگر نوکریاں نہیں۔ لاکھوں لڑکیاں اور خواتین جنہوں نے میٹرک، انٹرمیڈیٹ ، گریجویشن یا ماسٹرز کر رکھا ہے وہ اپنے گھروں میں بیٹھ کر بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی ہیں۔ ایک گھر میں بیٹھ کر دو چار بچوں کو پڑھانا ان کی مہارت ہے ان کا سرمایہ ہے، ان کی روزی روٹی ہے۔ بہت سی خواتین تو اکیلی کفیل ہیں ان کا شوہر بیمار ہے یا ساتھ چھوڑ گیا ہے اور وہی ٹیوشن ان کے بچوں کے کھانے اور اسکول کی فیس کا واحد ذریعہ ہے۔ اب جب حکومت نے ٹیوشن سینٹرز کی رجسٹریشن لازمی قرار دے دی ہے تو ان لاکھوں خواتین کی فکر ایک نئی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ بے شک رجسٹریشن کا مقصد معیار اور حفاظت کو یقینی بنانا ہے مگر اس کے نفاذ کا طریقہ کار ان پسماندہ افراد کو سنبھالنے کی گنجائش نہیں رکھتا۔ رجسٹریشن کے لیے دفتروں کے چکر لگائیں، کاغذات مکمل کریں، فیس جمع کروائیں اور پھر اہلکاروں سے واسطہ پڑے تو ان کی خوشنودی کے لئے اضافی رقم بھی دیں۔ یہ سلسلہ ان خواتین کے لئے محض ایک خواب ہے جن کے پاس روزانہ کی روٹی کا بندوبست بھی مشکل ہے۔یہ مسئلہ صرف ٹیوشن تک محدود نہیں۔ پاکستان میں غریب انسان کو قانون اور انتظامیہ کے ساتھ جو سلوک ملتا ہے وہ اس کی غربت کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔ تھانے میں رپورٹ درج کروانے سے لے کر عدالت میں پیش ہونے تک ہر قدم پر رشوت کا ایک پہلو ہے۔ جس کے پاس پیسے نہیں اس کا مقدمہ کبھی نمٹتا نہیں، اس کی درخواست کبھی منظور نہیں ہوتی، اس کی آواز کبھی سنی نہیں جاتی۔ اور جب اسی غریب کو اپنی جائز ضرورت کے لیے سرکاری دفتر کا چکر لگانا پڑے تو اس کی قسمت کا فیصلہ وہاں بیٹھے کلرک کے مزاج پر منحصر ہوتا ہے جو بغیر رشوت کے کام کرنے کو تیار ہی نہیں۔یہ بات الگ سے قابل غور ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے ٹیکسوں کے نئے طریقے تلاش کرنے کا رجحان بھی غریبوں کی مشکلات کو بڑھا رہا ہے۔ سنیے تو حیرت ہوتی ہے کہ کبھی واش رومز پر ٹیکس لگانے کی باتیں ہوتی ہیں کبھی گوبر اور کھاد پر ٹیکس کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ ٹیکس غریب کو اس کی سب سے چھوٹی سہولت سے بھی محروم کر دیں گے اور اس کی زندگی کو دوہری مشکل بنا دیں گے۔
مریم نواز کی حکومت پر الزام ہے کہ وہ غریبوں کی مشکلات کو سمجھنے کی بجائے ان کی پشت پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے۔ نئے ٹیکسوں کی خبریں غریب کا خون خشک کرنے کے لیے کافی ہیں۔ لاکھوں خاندان ایسے ہیں جو آدھی روٹی پر گزارہ کر رہے ہیں ۔اگر ہم اس سانحے کی اصل جڑ تک پہنچنا چاہیں تو ہمیں غربت کو جنم دینے والے نظام کا جائزہ لینا ہوگا۔ تعلیم تک رسائی نہ ہونے کے باعث غریب نسلوں تک اسی حالت میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔ صحت کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ایک معمولی بیماری بھی خاندان کو تہہ دست کر دیتی ہے اور اس کا خرچہ کئی سالوں کا رزق نگل جاتا ہے۔ روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان ہنر سیکھنے اور آگے بڑھنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ جب یہ تینوں کڑیاں کمزور ہوں تو غربت کا یہ چکر کبھی نہیں ٹوٹ سکتا۔لاہور میں چھت گرنے کا یہ واقعہ ایک تلخ علامت ہے۔ ایک ایسے معاشرے کی علامت جہاں غریب کو زندگی بھر کچی دیواروں اور کمزور چھتوں کے نیچے رہنا پڑتا ہے اور جب وہ چھتیں گرتی ہیں تو ان کے نیچے نہ صرف اینٹیں اور پتھر دب جاتے ہیں بلکہ آنکھوں کے خواب، بچوں کی مسکراہٹیں اور ماں کی امیدیں بھی ملبہ بن جاتی ہیں۔ یہ منظر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ غربت کوئی دور کا مسئلہ نہیں یہ ہمارے گرد و پیش ہر جگہ موجود ہے۔ یہ ہماری گلیوں کی کچی عمارتوں میں، سکولوں کے باہر بیٹھے بچوں میں، ہسپتالوں کی قطاروں میں اور خواتین کی تھکی ہوئی آنکھوں میں چھپی ہوئی ہے۔اس حقیقت سے چشم پوشی ممکن نہیں۔ غربت ایک ایسی لعنت ہے جو نہ صرف افراد کو تنگ دست کرتی ہے بلکہ پوری قوم کی ترقی کو روکتی ہے۔ جب نصف آبادی بنیادی سہولیات سے محروم ہو تو وہ قوم کبھی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ جہاں بچے بھوکے سوئیں تو وہ قوم کبھی روشن مستقبل کی طرف نہیں جا سکتی۔ جب خواتین اپنی محنت کا پھل نہ پا سکیں تو معاشرہ کبھی متوازن نہیں ہو سکتا۔یہی وجہ ہے کہ ہر حادثے کے بعد جذباتی طوفان کے بجائے حقیقت پسندی کی ضرورت ہے۔ ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں یہ نظام کا ایک حصہ ہے۔ جب تک غریب کی آواز کو سننے کی بجائے اسے ٹیکسوں اور رجسٹریشنوں کا نشانہ بنایا جائے گا اس وقت تک وہ چھتیں گرتی رہیں گی۔ جب تک پالیسیاں غریبوں کی ضروریات کو سمجھ کر نہیں بنائی جائیں گی اس وقت تک یہ المیے رونما ہوتے رہیں گے۔اس سانحے کو صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک سبق سمجھنا چاہیے۔ یہ سبق ہمیں بتاتا ہے کہ غربت صرف ایک معاشی عدد نہیں یہ انسانی المیوں کی سب سے بڑی جڑ ہے۔ جب تک ہم اس جڑ کو ختم نہیں کریں گے تب تک ہر بارش، ہر زلزلہ ہمارے لیے ایک نیا سانحہ لیے آئیں گے اور اس سانحے کا خمیازہ ہر بار غریب ہی بھگتے گا کیونکہ غریبوں کی چھتیں ہمیشہ کمزور ہوتی ہیں اور ان کے خواب بہت نازک۔