Search
Close this search box.
منگل ,07 جولائی ,2026ء

دیمک کہانی

نہ جگنو کی سی پرنور ادا ، نہ تتلی جیسے خوش رنگ پنکھ، نہ طائوس جیسی شوقِ خود نمائی، اور نہ کوئل جیسی نغمہ سرائی، نہ طاقتِ پرواز اور نہ ہی حسرتِ پرواز۔ روشنیوں سے دورگہری تاریکیوں میں رہنے والی دیمک دراصل کارخانہ قدرت میں موجود ماورائے عقل تخلیقات میں سے ایک ہے جسے اس کی منفرد خاندانی نظام زندگی کی بدولت حیاتیاتی عجوبہ کہا جا سکتا ہے۔ ایک ملکہ ، لاتعداد کارکنان، بے شمار سپاہی اور ان سب کے درمیان ایک منظم رابطہ کاری۔ ایک دوسرے کے کاموں میں مخل ہوئے بغیر، یہ خاندان لاکھوں وجود رکھتے ہوئے بھی ایک وجود بن کر کام کرتا ہے ۔ قدرت نے دیمک کو آنکھیں عطا نہیں کیں مگر وہ تاریکیوں اور اجالوں کو پہچانتی ہے۔ اپنے نظام کی بصیرت سے متعین راستوں کو دیکھتی اور اسی کام میں پورے انہماک سے جتی رہتی ہے جس کے لئے قدرت نے اسے مامور کردیا ہے ۔ یہ روشنی سے گھبراتی مگر اس میں بسنے والوں کی زندگی اجیرن کر دیتی ہے۔ یہ لشکر بنا شورو غوغا کئے خاموشی سے گھروں اور عمارتوں پر حملہ آور ہو جاتا ہے اور اس کی موجودگی کی اطلاع لکڑی کا کوئی کھایا ہوا ٹکڑاہی دیتا ہے جو اس حقیقت کا مظہر ہوتا ہے کہ اب اللہ کی یہ مخلوق عمارت کے نیچے پہنچ کر سرنگ سازی کرتے ہوئے اپنی غذا تک رسائی حاصل کر چکی ہے ۔ عموماً اس کی سرکوبی کی سبھی تدابیر ناکام رہتی ہیں اورجہاں اس کو پڑائوڈالنے کا موقع میسر آ جائے وہاں دیکھتے ہی دیکھتے کھڑکیاں اور دروازے کسی ادھڑی ہوئی حویلی کی تصویر بن جاتے ہیں۔ برسوں ایک جگہ دھری بوسیدہ کتابوں اور صفحات کو بھی دیمک اپنے الفاظ و فکر سمیت نگل جاتی ہے اور اپنے پیچھے پیغام چھوڑ جاتی ہے کہ کتاب نہیں سنبھالو گے تو کتاب مسخ ہو جائے گی۔ ’’ملکہ دیمک ‘‘پورے نظام کا مرکز ہوتی ہے ، ہزاروں لاکھوں ’’محافظ دیمک‘‘ اس کا خیال رکھتیں اور اسے غذا بھی پہنچاتی ہیں۔ ملکہ اس حوالے سے بھی ممتاز ہے کہ اللہ نے اس کو اپنے چاروںا طراف نگاہ رکھنے کے لئے آنکھیں عطا کی ہیں۔ملکہ کی اوسط عمر 15 برس ہوتی ہے اور یہ روزانہ 30000 ہزار تک انڈے دیتی ہے۔ اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ دیمک کا صرف ایک خاندان کس تیز رفتاری سے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اس کے تدارک کے لئے ملکہ کو ہدف بنانے کی کوشش کی جاتی ہے مگر اس کے مرکز کو تلاش کرنا اتنا آسان نہیں کہ وہ دور کہیں تاریک گہرائیوں میں اپنے محافظوں کے جلوہ میں اپنے حجلہ خاص میں چھپی بیٹھی ہوتی ہے۔ایک خاندان 300فٹ کے فاصلے تک پھیلا ہوا ہوتا ہے ، سوملکہ کو اتنے وسیع فاصلے تک گہرائی میں ڈھونڈنا ایک کارِ کٹھن ہے۔
ذہنوں میں سوال ابھرتا ہے کہ اس کمال درجہ کے خاندانی نظام سے آراستہ اس کیڑے کی تخلیق کا اصل مقصد کیا ہے؟ کیا یہ محض ضرر رساں ہے یا اس کی تخلیق میں کوئی اور حکمت بھی پوشیدہ ہے؟دنیا کا وسیع حصہ جنگلات پر مشتمل ہے، یہ جنگلات اور درخت کرہ ارض کے ماحولیاتی نظام کو سہارا دیئے ہوئے ہیں۔ کیا یہ نکتہ فکر نہیںکہ ان جنگلات اور درختوں کو سہارا کون دیتا ہے؟ جب پرانے درخت بوسیدہ ہو کر گرتے ہیںیا لکڑی اپنی عمر پوری کر لیتی ہے تب یہی خاموش لشکر اپنے رب کے سکھائے ہوئے طریقے سے اس مردار لکڑی کو پھر سے مٹی میں تبدیل کر کے واپس زمین میں پہنچا دیتا ہے۔ یہ نائٹروجن سائیکل کو مکمل کرتی اور مٹی کی زرخیزی بھی بڑھاتی ہے ۔ سائنسدانوں کے مطابق اگر دیمک نہ ہوتی تو جنگلات اور مردہ درختوں کی آلائشوںسے زمین کا دم گھٹ جاتا۔معلوم یہ ہوتا ہے کہ دیمک کے نظامِ کار نے تو زندگی کی سانسوں کو رواں رکھا ہوا ہے۔
قرآن کی سورہ سبا میں دیمک کی ایک مقدس کار گزاری کا ذکر ہے جب حضرت سلیمان ؑ کو اس وقت موت نے آن گھیرا جب وہ جنات کی نگرانی فرما رہے تھے ۔ ان کا بدن مبارک عصا کے سہارے کھڑا رہا۔ جنات ان کی موت سے بے خبر اپنے کام میں لگے رہے ، حتی کہ دیمک نے حضرت سلیمانؑ کے عصا مبارک کو اندر سے کھا کر اپنا رزق بنانا شروع کردیا۔ جب عصا اندر سے کھوکھلا ہو کر گر پڑا تو حضرت سلیمان ؑ کا جسم اطہر بھی زمین پر آ رہا ، تب جا کر جنات کو ان کی موت کی حقیقت آشکارہوئی۔
جب درختوں کو کبھی ایندھن ، کبھی گھروں کی تزئین وآرائش ،کبھی سڑک یا گزرگاہ بنانے اور کبھی سوسائٹیاں بنانے کے نام پر کاٹا جاتا ہے تو درختوں کی تعداد اور دیمک کی آبادی میں توازن بھی بگڑتا ہے ۔ شایداسی غیر متوازن صورتِ حال سے مضطرب ہو کر دیمک اس لکڑی کا تعاقب کرتے گھروں اور عمارتوں پر حملہ آور ہوتی ہے۔ یہ قدرت کا پیغام لاتی ہے کہ جب جب نظام الہی میں رخنہ اندازی کی جائے گی اس کا نتیجہ مثبت برآمد نہیں ہو گا۔
جس طرح دیمک شہروں میں آکر مفید کی بجائے مضر صورت اختیار کر لیتی ہے، اسی طرح کچھ انسان ، گروہ اور مافیا بھی راہِ انسانیت سے بھٹک دیمک کی مانند سماج کی بنیادیں کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ کہیں ملاوٹ مافیا، کہیں ذخیرہ اندوز، کہیں ڈرگ مافیا، کہیں قبضہ مافیا اور ایسے بہت سے۔ ان کے ہاں بھی کارکن، مزدور اور سپاہی ہوتے ہیںجن کے درمیان مضبوط رابطوں کا نظام بھی ہوتا ہے اور یہ ایک دوسرے کے ساتھ دیمک کے کیڑوں کی طرح تعاون کر رہے ہوتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر، ان کی بھی ایک ملکہ( سرغنہ) ہوتی ہے، جو نظروں سے اوجھل رہ کر ہر عمل کی نگرانی کر رہی ہوتی ہے، اس سرغنہ کو بھی ڈھونڈنا اور اس کو بے دست وپا کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ ایسے دیمک نما مافیاز نے پورے ملک کو لکڑی کی ایک کاٹھی سمجھ کر اس کو چاٹنا شروع کیا ہوا ہے۔ علاوہ ازیںکبھی مسلکی تفریق،کبھی سیاسی گروہ بندیاں،کبھی علاقائی تفاخر،کبھی ذات کے گھمنڈ اور کبھی رتبہ و مقام کا غرور ، جانے کب ہمارے معاشرے کو ان دیمکوں نے ہضم کر لیا اور ہمیں خبر تک نہ ہوئی۔ انفرادی طور پر بھی ہمارے اندر خود غرضی، فریب کاری، تکبر، حسد ، کینہ ،بدنیتی کی دیمکوں نے سرنگیں بنا رکھیں ہیں، ا یسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم سب ایک دوسرے کے لئے دیمک بنے ہوئے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبیں بیرونی حملوں سے کم اور اندر افزائش پانے والی وبائوںسے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ ظلم، بدعنوانی، منافقت، تعصب اور بے حسی وہ دیمکیں ہیں جو قوموں کے شہتیروں کو رفتہ رفتہ چاٹتی رہتی ہے۔ ان تمام دیمکوں کی ملکہ ہمارے تاریک باطن میں سرایت کئے بیٹھی ہے ، جب تک ہم اپنے اندر اجالا نہیں کرتے،یہ ملکہ اپنے انجام کو نہ پہنچے گی ۔مادیت پرستی کے ظاہری ٹھاٹ باٹھ سے آسودگی کشید کرنے کی بجائے ہمیں اپنی روحانیت کی بنیادوں میں رینگنے والی سرسراہٹ پر کان دھرنے چاہیے ۔ دیمک کے طرزِ حیات سے یہ علم ہوتا ہے کہ جو مردہ اور ناکارہ ہے ، اسے مٹانا ضروری ہے تاکہ نیا سامنے آسکے۔ہماری تہذیب، عادات، روایات، اقدار اور اخلاقیات میں بھی اگر مردگی چھا جائے گی تو دیمک کی طرح کوئی نہ کوئی قوت ہمیں چبانے اور ہڑپ کرنے آجائے گی اور ہم بھی لکڑی کے کسی خوردہ ٹکڑے کی طرح مٹی کے ایک ڈھیر میں تبدیل ہو جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں