Search
Close this search box.
منگل ,07 جولائی ,2026ء

علماء،مشائخ ،شیوخ الحدیث کا تاریخی اجلاس

(گزشتہ سے پیوستہ)
اجلاس میں شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے اختتامی خطاب کرتے ہوئے فرمایاکہ پہلی گزارش یہ ہے کہ الحمدللہ، اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں اس قافل حکمت و عزیمت کا حصہ بنایا جو دارالعلوم دیوبند میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی، اور بعد میں پھر شیخ الہندؒ ، حضرتِ تھانویؒ، حضرتِ مدنی، قدس اللہ تعالیٰ اسرارہم۔پتہ نہیں ہم کس گمراہی میں پڑے بھٹکے ہوئے ہوتے، اگر ان اکابر کا سایہ اور ان اکابر کی تعلیمات اور ان کا نور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے اساتذہ کے ذریعے ہم تک نہ پہنچایا ہوتا، اور الحمدللہ یہ بات جو بار بار کہی گئی ہے کہ مدارس اپنی خودمختاری، آزادی کو، ہر چیز پر مقدم رکھ کر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، انشا اللہ ایسا ہی ہوگا اور انشا اللہ کوئی طاقت ان مدارسِ دینیہ کی آزادی کو ختم نہیں کر سکتی،انہوں نے کہا کہ لیکن ایک خطرہ خود ہمارے اندر سے ہے اور وہ یہ ہے کہ جب تک ہم اپنے اکابر کے منہج پر رہیں گے، اتباعِ سنت کے منہج پر رہیں گے، انشا اللہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں ختم نہیں کر سکتی۔ لیکن اگر خدا نہ کرے ہم اس منہج سے ہٹ گئے اور ہمارے اندر اخلاص کی بجائے نام و نمود کا جذبہ پیدا ہو گیا، اور اس کے نتیجے میں ہم اپنی پالیسیاں تبدیل کریں، ترتیب دیں، تو یہ ہمارے لیے ہلاکت کا سامان ہو گا۔جیسا کہ نشان دہی کی بھی گئی کہ بعض جگہ صرف طلبہ کی تعداد بڑھانے کی خاطر بہت سے اقدامات کر لئے جاتے ہیں۔ تو خدا کے لئے ہم لوگ واپس آئیں اپنے بزرگوں کے اخلاص کی طرف، انابت الی اللہ کی طرف، رجوع الی اللہ کی طرف اور تربیت کا اہتمام کریں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے جس بات کا ذکر کیا وہ ہمارے لیے اور مدارسِ دینیہ کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ یہ بات کہ ہمارے مدرسوں کے اندر داخل ہو کر اس بات کی تبلیغ کی جاتی ہے کہ جتنے ’’اکابر‘‘ہیں سب بزدل ہیں۔ ہمارے شیخ، حضرت، میرے پہلے استاد جن سے میں نے قرآن کا قاعدہ پڑھنا شروع کیا، وہ شیخ الاسلام حضرت مولانا علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ تھے۔ وہ ایک بات فرمایا کرتے تھے کہ بعض مواقع پر عوام کی ملامت کو مول لے لینا، یہ زیادہ بہادری ہوتی ہے۔ بنسبت حکومت کی مخالفت کرنے کے۔ یعنی حکومت کی مخالفت کر کے آدمی بعض اوقات مجاہد کہلاتا ہے، اس کی بہادری کے چرچے ہوتے ہیں، اور جو شخص حکومت سے حکمتِ اسلامی کے تحت اگر کسی جگہ پر موافقت کر رہا ہے تو لوگ اس پر گندے انڈے پھینکتے ہیں۔ تو بعض اوقات بہادری اس میں نہیں ہوتی، بہادری اس میں ہوتی ہے کہ جو حق بات ہے انسان اس پر ڈٹ جائے اور اس کے اوپر کوئی سمجھوتہ نہ کرے۔یہ بھی انہی معاملات میں سے ہے۔ اگر ہمارے مدارس کے اندر بعض مخصوص عناصر نے تشکیلات کی ہوئی ہیں، کہ وہ طلبہ کا ذہن متشدد بنائیں۔ طلبہ کا ذہن خراب کریں۔ ان اندرونی تشکیلات کا مقابلہ بھی ہم سب کو اپنی حکمت سے، اپنے علم سے، اور معرفت سے اور اکابر کے ارشادات کی روشنی میں کرنا ہے۔ اگر یہ نہ کیا تو ہم لوگ خود اپنی،اپنی ہلاکت کا سبب بن سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ وفاق المدارس کی مجلسِ عاملہ، مجلسِ شوری اور مجلسِ عمومی کے دو روزہ اجلاس کے بعد قائدین وفاق کے متفقہ اعلامیے کے مطابق دینی مدارس کی حریت و آزادی اور نظام و نصاب میں مکمل خود مختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔ اس سلسلے میں آئین و قانون کے مطابق ذمہ دارانِ وفاق جو کاوشیں کر رہے ہیں، ان کی تائید و تحسین کی گئی، اور اتفاقِ رائے سے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ قانون کے مطابق مدارس کی رجسٹریشن اور ان کے بینک اکائونٹس کھلوانے کا موثر انتظام کرے، جس کے بغیر مدارسِ دینیہ اپنی خدمات کی شفاف ادائیگی میں سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ اس مسئلے کو جتنی جلد حل کیا جائے گا، ملک و ملت کے اتحاد اور یکجہتی کے لئے اتنا ہی موثر اور مفید ہوگا۔ اس بات کا پوری تاکید سے اعادہ کیا گیا کہ جہاد کے نام پر دہشت گردی کی جو کارروائیاں ملک میں کی جا رہی ہیں، اور جن میں خود مدارسِ دینیہ کے علما، بے گناہ شہریوں اور افواجِ پاکستان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک بھر کے علماء اور تمام مکاتبِ فکر کے اہلِ علم ہمیشہ اس کی مذمت کرتے رہے ہیں، اور ہم مدارسِ دینیہ کے منتظمین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنی صفوں میں ایسے مفسد عناصر پر کڑی نظر رکھیں جو جمہور علماء کے متفقہ موقف کے خلاف لوگوں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ دینی مدارس کے اساتذہ ان عناصر کی حقیقت سے لوگوں کو پوری بصیرت اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کریں، جو دراصل نہ صرف ملک و ملت بلکہ خود دینی حلقوں اور دینی مدارس کو بدنام کر کے انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ وفاق المدارس کے قائدین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دینی مدارس کے دینی تشخص، مزاج، ماحول اور نظامِ تعلیم میں تبدیلی کے لئے کسی قسم کا بیرونی دبا قبول نہیں کیا جائے گا، اور مدارس کی دینی شناخت ہر صورت محفوظ رکھی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں