Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

بلوچستان زلزلہ: دو روز میں پانچ جھٹکے، ماہرین نے ممکنہ آفٹر شاکس سے خبردار کر دیا

اسلام آباد: بلوچستان زلزلہ کے حالیہ سلسلے نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خطہ قدرتی طور پر زلزلہ خیز ہے اور زیرِ زمین ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت کے باعث اس نوعیت کی سرگرمیاں سامنے آتی رہتی ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں درمیانی شدت کے پانچ زلزلے ریکارڈ کیے گئے۔ جمعہ کے روز بھی متعدد علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جن کے بعد متعلقہ ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

چیف میٹرولوجسٹ عامر حیدر لغاری کے مطابق بلوچستان اور خیبرپختونخوا یوریشین ٹیکٹونک پلیٹ کے فعال زون میں واقع ہیں، جس کی وجہ سے ان علاقوں میں زلزلے نسبتاً زیادہ آتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ جھٹکے زیرِ زمین جمع ہونے والی توانائی کے اخراج کا نتیجہ ہیں اور یہ ایک قدرتی ارضیاتی عمل ہے۔

قومی زلزلہ پیما مرکز کے مطابق سبی کے قریب 4.2 شدت کا زلزلہ 42 کلومیٹر گہرائی میں ریکارڈ کیا گیا، جبکہ کوہلو کے شمال مشرق میں 5.0 شدت کا ایک اور زلزلہ 18 کلومیٹر گہرائی میں آیا۔ ان جھٹکوں کے باعث مختلف علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم فوری طور پر کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے زلزلوں کے بعد آفٹر شاکس یا مزید ہلکے جھٹکوں کا آنا غیر معمولی بات نہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ سائنس زلزلے کے وقت، مقام یا شدت کی پیشگی درست پیش گوئی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ غیر مصدقہ خبروں پر یقین کرنے کے بجائے صرف سرکاری اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔ زلزلے کی صورت میں کھلی جگہ پر منتقل ہونا، عمارتوں سے مناسب فاصلہ رکھنا اور ہنگامی صورتحال کے لیے بنیادی حفاظتی تدابیر اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔

حکام کے مطابق بلوچستان زلزلہ کے بعد متعلقہ ادارے مسلسل صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور اگر مزید جھٹکے محسوس ہوں تو عوام کو بروقت آگاہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں