اسلام آباد: جعلی ادویات کی روک تھام کے لیے وفاقی حکومت نے ملک بھر میں بارکوڈ اور کیو آر کوڈ پر مبنی جدید نظام متعارف کرانے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے ذریعے شہری میڈیکل اسٹور پر ہی دوا کی اصلیت کی فوری تصدیق کر سکیں گے۔
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے دفتر کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صحت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور جعلی ادویات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے نظام کے تحت ہر دوا کے پیکٹ پر مخصوص بارکوڈ اور کیو آر کوڈ درج ہوگا، جسے موبائل فون سے اسکین کر کے دوا کی مکمل معلومات اور اس کی اصلیت معلوم کی جا سکے گی۔
وزیر صحت نے بتایا کہ اس منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے اور آئندہ 60 روز کے اندر اس کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس اقدام سے جعلی ادویات کی فروخت کی حوصلہ شکنی ہوگی اور عوام کا ادویات پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
سید مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ وفاقی کابینہ پاکستان کی پہلی جامع قومی ویکسین پالیسی کی بھی منظوری دے چکی ہے، جسے ملک کے نظامِ صحت میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی تقریباً 80 فیصد فارماسیوٹیکل صنعت کا مرکز ہے، جبکہ اس شعبے کی ترقی کے لیے جلد بزنس ٹو بزنس (B2B) کانفرنسوں کا بھی انعقاد کیا جائے گا تاکہ مقامی صنعت کو مزید فروغ مل سکے۔
وفاقی وزیر صحت نے اس موقع پر صحت کے شعبے کو درپیش دیگر مسائل کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آلودہ پانی مختلف بیماریوں کی بڑی وجہ ہے، جبکہ زچگی کے دوران خواتین کی اموات اور بڑھتی ہوئی آبادی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی مربوط حکمت عملی پر کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر پالیسیوں کے ذریعے عوام کو بہتر اور محفوظ طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
