Search
Close this search box.
اتوار ,28 جون ,2026ء

مودی کی نااہلی ‘ مہلک نیپاہ وائرس خطے میں پھیلنے کا خدشہ

بھارت میں مہلک نیپاہ وائرس کے تصدیق شدہ کیسز سامنے آنے کے بعد ایشیا کے متعدد ممالک نے احتیاطی اقدامات سخت کر دیے ہیں اور ہوائی اڈوں پر اسکریننگ اور نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ خطے میں وائرس کے پھیلا ئوکے خدشے کے پیش نظر مختلف ممالک نے بھارت سے آنے والے مسافروں کے لیے خصوصی چیک پوائنٹس قائم کیے ہیں۔امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول نے نیپاہ وائرس سے اموات کی شرح 40 سے 70 فیصد تک ہونے کا انتباہ جاری کیا ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت نے نیپاہ کو خطرناک وائرس قرار دیتے ہوئے فوری تحقیق اور سخت نگرانی پر زور دیا ہے۔تھائی لینڈ نے بھارت سے آنے والے مسافروں کے لیے ہوائی اڈوں پر اسکریننگ کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ تائیوان کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول نے نیپاہ وائرس کو کیٹیگری 5 خطرہ قرار دیا ہے۔برطانوی جریدہ دی ٹیلی گراف کے مطابق برطانیہ، نیپال، تھائی لینڈ، تائیوان اور سری لنکا میں بھی بھارتی مسافروں کے لیے اسکریننگ شروع کر دی گئی ہے۔دوسری جانب دی انڈیپینڈنٹ کے مطابق چین، میانمار، انڈونیشیا اور ویتنام نے بھی بھارت کے سفر سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بھارت میں نیپا ہ وائرس کی نگرانی کا نظام غیر موثر اور غیر مربوط ہے، خاص طور پر دیہی اور سرحدی علاقوں میں نگرانی کی کمی تشویشناک ہے۔
دریں اثناء بھارت بھرمیں کشمیری شال فروشوں پر ہندوتوا بلوائیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے واقعات کے دوران ریاست اتراکھنڈ کے شہر دہرادون میں دو کشمیری نوجوانوں پر بلوائیوں کے وحشیانہ تشدد کے خلاف مقامی مسلمانوں نے زبردست احتجاج کیاہے ۔
ہندوتوا بلوائیوں نے دہرادون کے علاقے وکاس نگر میں دو کشمیری نوجوانوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا ۔کشمیری نوجوان شالیں بیچنے کے لیے کشمیر سے اتراکھنڈ آئے تھے۔انتہا پسند ہندوئوں نے جموں کے رہائشی کشمیری نوجوان دانش اور تابش کو مذہبی اور نسلی تعصب کا نشانہ بنایا اور ان پر پہلگام فالس فلیگ آپریشن سے متعلق قابل اعتراض تبصرے کئے ۔نوجوانوں کے احتجاج پر ہندوئوں نے ان پر حملہ کر دیا اور وحشیانہ تشدد کیا ۔ حملے میں دونوں نوجوان شدید زخمی ہو گئے ۔واقعے کے خلاف مقامی مسلمانوں نے وکاس نگر پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کیا ۔ انہوں نے کشمیری نوجوانوں کو زخمی حالت میں کندھوں پر اٹھا کر پولیس اسٹیشن کا گھیرائو کیا اور مسلمانوں پر ظلم بند کرو جیسے نعرے لگائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اتراکھنڈ میں مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں کو مسلسل انتقامی کارروائیوں اور امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پولیس کی جانب سے واقعے میں ملوث ہندتواارکان کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین پر امن طورپر منتشر ہو گئے ۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس نے کشمیری نوجوانوں پر حملے میں ملوث ایک ملزم سنجے یادو نام کوگرفتار کیاہے ۔
ادھر غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں قابض انتظامیہ نے ضلع کشتواڑ میں موبائل ڈیٹا انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے۔ بھارتی قابض انتظامیہ نے ضلع کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پرجاری محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کو چھپانے کے لیے موبائل انٹرنیٹ سروسز 2G، 3G، 4G اور 5Gکو معطل کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔کشتواڑ کے علاقوں سنگھ پورہ، چنگام اور چترو میں 29جنوری سے موبائل انٹرنیٹ سروسزمعطل ہیں ۔ قابض حکام نے بھارت مخالف عناصر کی طرف سے ممکنہ غلط استعمال کی آڑ میں موبائل انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کا حکم جاری کیا ہے۔انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کا حکم محکمہ داخلہ کے پرنسپل سکریٹری چندراکر بھارتی نے انسپکٹر جنرل آف پولیس جموں زون کی ایڈوائس پر جاری کیا ہے ۔
بھارت آئے روز نت نئے طریقوں سے کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہاہے۔ آزادی کے متوالوں کو طرح طرح کی اذیتیں اور صعوبتیں دی جارہی ہیں لیکن اس کے بھارت کی غضب حکومت کشمیریوں جذبہ آزادی کو ختم کرنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کی تاریخ کشمیریوں کے خون میں لتھڑی ہوئی ہے۔ ان خونریز سانحات نے کشمیری عوام کی اجتماعی یادداشت پر گہرے اوران مٹ نشان قائم کئے ہیں مگروہ بھارت کے یہ ستم بھولنے والے نہیں ہیں۔وہ انہی دکھوں، انہی زخموں کو اپنی طاقت بناکر مزاحمت جاری رکھیں گے۔
مسئلہ کشمیر کے حل میں واحد رکاوٹ بھارت کی ہٹ دھرمی اور غیر حقیقت پسندانہ طرز عمل ہے۔ بھارتی وعدہ خلافیوں اور مقبوضہ جموں وکشمیر کو فوجی طاقت کے بل پر اپنے ساتھ رکھنے کی اسکی مذموم پالیسی کے باعث نہ صرف کشمیری شدید مصائب و مشکلات سے دوچار ہیں بلکہ اس پورے خطے میں مسلسل ایک بے یقینی کی صورتحال پائی جاتی ہے ۔ بھارت خود تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے گیا تھا جس نے اس مسئلے کے حل کے لیے کئی قرار دادیں پاس کیں ۔ بھارت نے اقوام متحدہ کی پاس کردہ تسلیم کیں اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا بھی وعدہ کیا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے وعدوں سے انحراف کیا اور جموں وکشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے لگا۔
78 سال بیت گئے بھارت جموں وکشمیر کو طاقت کے بل پر اپنے ساتھ رکھنے کی پالیسی پر مسلسل عمل پیرا ہے اور وہ آزادی اور حق خود ارادیت کے مطالبے کی پاداش میں کشمیریوں کو وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنارہا ہے، اس نے 1947سے اب تک چار لاکھ سے زائد کشمیری شہید جبکہ ہزاروں لاپتہ کیے ہیں۔ بھارت کی ہندو توا بی جے پی حکومت نے اگست 2019ء میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے کشمیریوں پر ایک اور سنگین وار کیا۔ بی جے پی حکومت علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی مذموم پالیسی پر عمل پیرا ہے، اس نے اظہار رائے کی آزادی کے حق سمیت کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں، بھارتی ہٹ دھرمی اور جارحیت کی وجہ سے نہتے کشمیریوں کا خون مسلسل بہہ رہا ہے۔بھارت کے غیر حقیقت پسندانہ رویے نے کشمیر کو ایٹمی فلیش پوائنٹ میں تبدیل کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں