بھارت میں ہندوتوا کا عفریت انسانیت کا دشمن
بھارت طویل عرصے سے اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور ایک سیکولر ریاست کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ سرکاری بیانیہ یہی رہا کہ یہ ملک مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے لوگوں کا مشترکہ
بھارت طویل عرصے سے اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور ایک سیکولر ریاست کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ سرکاری بیانیہ یہی رہا کہ یہ ملک مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے لوگوں کا مشترکہ
عالمی سیاست کے ہنگامہ خیز منظر میں آج بھارت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کی قیادت کی منافقت، مسلم دشمنی اور ذاتی مفادات کی ترجیحات نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر خطرے کے بادل گھیر
عالمی سیاست کے ہنگامہ خیز منظرنامے میں کبھی کبھی ایسے لمحات آتے ہیں جب کسی ریاست کی اصل فطرت اس کے نعروں یا سفارتی بیانات سے نہیں بلکہ اس کے عملی کردار سے ظاہر ہوتی ہے۔ آج کا بھارت اسی
امریکی سرپرستی اور عملی معاونت کے ساتھ اسرائیل کی جانب سے ایران پر کی گئی شدید جارحیت نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست کو بھی ایک خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ محض دو ریاستوں کے درمیان
(گزشتہ سے پیوستہ) سیاسی میدان میں بھی کشمیری جدوجہد کے خلاف کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ جبری حکمرانی کو جمہوری چادر اوڑھانے کے لیے مقامی سیاسی میدان میں کٹھ پتلیاں پیدا کی گئیں، جعلی انتخابات کے ذریعے انہیں اقتدار کی
بھارتی حکومت کی نئی قومی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی “پرہار” کو ایک طرف تو حفاظتی اور انتظامی قدم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، مگر جب اسے مقبوضہ جموں و کشمیر کی 78 سالہ تاریخ کے
تحریک آزادی کشمیر کی مقامی نوعیت کو مسخ کرنے کے لئے بھارتی فوج اور پولیس نے مقامی کشمیری نوجوانوں کوغیر ملکی عسکریت پسند قرار دے کر اور عوامی مقامات پر ان کے پوسٹر چسپاں کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر میں
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں صحافت کی آزادی ایک بار پھر شدید دباؤ کی زد میں ہے۔ حالیہ دنوں میں آئمہ کرام اور مساجد کی پولیس پروفائلنگ سے متعلق رپورٹس شائع کرنے والے صحافیوں کو
مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ، ناجائز، غیر قانونی اور غیر اخلاقی قبضہ آج بھی جاری ہے، مگر اسے ختم کرانے کی جدوجہد آزادی میں لاکھوں کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔ ان خونِ شہیدوں کی بدولت ہی یہ
مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالات ایک بار پھر اس سمت جا رہے ہیں جہاں تسلط کی ایک نئی کہانی رقم کی جا رہی ہے ۔ الجزیرہ کی حالیہ رپورٹ نے ایک ایسے عمل کو بے نقاب کیا ہے جس