Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

اسلام آباد مذاکرات کشمیری نہال

اسلام آباد امن مذاکرات نے بھارت میں مودی حکومت کا جنازہ نکال دیا ہے اور کشمیری نہال ہورہے ہیں، کئی کشمیری شہری بھارتی تسلط کو نظر انداز کرتے ہوئے ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر رہے ہیں ، جن میں وہ پاکستان کی سفارتی کوششوں اور عسکری قیادت کی تعریف کر رہے ہیں اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کر رہے ہیں ، اور بھارتی میڈیا کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ گودی میڈیا اس پیش رفت کے بعد خاموش ہے۔ کہا جا رہا ہےکہ اگر خدا ساتھ ہو تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، چاہے پوری قوم مخالف کیوں نہ ہو، ایک شخص نے کہا ’’میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے محبت کرتا ہوں، کشمیر ان سے محبت کرتا ہے۔‘‘یہ ویڈیو محض ایک فرد کی آواز نہیں بلکہ پورے مقبوضہ کشمیر کی ترجمانی ہے۔ جہاں بھارتی فوج کی جارحیت، انسانی حقوق کی پامالی اور دہائیوں کی غلامی کے باوجود کشمیری عوام پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے نہ صرف امریکا اور ایران کے درمیان خونی تصادم روکا بلکہ کشمیریوں کے دل میں امید کی نئی کرن جگا دی۔ یہ وہ عسکری قیادت ہے جو صرف پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت نہیں کرتی بلکہ عالمی سطح پر امن کا پرچم لے کر چلتی ہے۔ جب بھارتی میڈیا “گودی” بن کر پاکستان کی کامیابیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے تو کشمیر کی یہ آواز اس کی سب سے بڑی شکست ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کے نتیجے میں ایران امریکا کے درمیان 15روزہ جنگ بندی ہو چکی ہے اور وہ دونوں فریقین کے درمیان امن مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے، جس کا آغاز جمعہ سے اسلام آباد میں ہو رہا ہے۔ خطے اور دنیا کو بڑی تباہی سے بچانے کی کامیاب کوششوں کے بعد دنیا پاکستان کی معترف ہے۔ یہ صرف ایک عارضی معاہدہ نہیں بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا شاہکار ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مشترکہ حکمت عملی نے وہ کر دکھایا جو بڑی بڑی طاقتیں ناکام رہیں۔ پاکستان نے امریکا، ایران اور چین کا بھرپور اعتماد حاصل کر لیا ہے۔ جہاں ٹرمپ نے خود فیلڈ مارشل عاصم منیر کو “میرا پسندیدہ فیلڈ مارشل” کہہ کر خراج تحسین پیش کیا، وہیں ایران نے بھی اسلام آباد کو مذاکرات کی میزبانی کا اعزاز بخشا۔ یہ پاکستان کی سفارتی پختگی کا نتیجہ ہے کہ آج عالمی رہنما پاکستان کو سراہ رہے ہیں۔تاہم بھارت کی خاموشی اس کی اذلی پاکستان اور اسلام دشمنی کا ثبوت پیش کر رہی ہے اور عالمی میڈیا بھارت کے منافقانہ رویے کو آشکار کر رہا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے بھی اپنے تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کے درپے تھے تاہم دنیا میں خود تنہا ہوگئے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق عالمی بحران میں پاکستان مضبوط ثالث جبکہ بھارت غیر موثر رہا۔ بھارت نے پاکستان کی ثالثی کو نظر انداز کر کے خود کو سفارتی طور پر مزید کمزور کیا۔ مودی صاحب کا پاکستان مخالف بیانیہ ایک بار پھر ناکام ہو گیا۔ وہ جو ہمیشہ “پاکستان کو تنہا” کرنے کا راگ الاپتے رہے، آج خود تنہائی کا شکار ہیں۔ ان کا “گودی میڈیا” جو پاکستان کی ہر کامیابی پر جھوٹے پروپیگنڈے کا ڈھول پیٹتا ہے، اب اس بار مکمل طور پر خاموش ہے۔ بھارتی اپوزیشن جماعتیں، صحافی اور تجزیہ کار بھی پاکستان کے سفارتی
کردار کی تعریف کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یہ بھارت کی سفارتی ناکامی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔سوچیے، جب پوری دنیا پاکستان کو امن کا معمار کہہ رہی ہے تو بھارت کی حکومت کیا کر رہی ہے؟ خاموشی! یہ خاموشی خوف کی نہیں بلکہ حسد اور ناکامی کی ہے۔ مودی کا خواب تھا کہ پاکستان کو عالمی فورمز پر الگ تھلگ کر دیا جائے گا، لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت خود عالمی رائے عامہ سے الگ تھلگ ہو گیا۔ پاکستان نے نہ صرف امریکا اور ایران کو ایک میز پر بٹھایا بلکہ چین جیسے اسٹریٹجک پارٹنر کا بھی مکمل تعاون حاصل کیا۔ یہ وہ کامیابی ہے جو بھارت کے ”اسٹریٹجک“ اتحادوں کو بھی پیچھے چھوڑ گئی۔ بھارتی میڈیا اور تجزیہ کار اب پاکستان کے کردار کو تسلیم کرنے لگے ہیں — یہ ان کی مجبوری ہے، کیونکہ حقیقت چھپائی نہیں جا سکتی۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی عسکری اور سفارتی مشینری نے ثابت کر دیا کہ پاکستان صرف دفاعی پوزیشن میں نہیں بلکہ جارحانہ امن کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ جب کشمیر میں بھارتی مظالم جاری ہیں، وہاں کے لوگ پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں تو یہ بھارت کے لیے سب سے بڑا سبق ہے۔ “اگر خدا ساتھ ہو تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا” — بڈگام کے اس شہری کا یہ جملہ نہ صرف کشمیر بلکہ پورے پاکستان کے لیے مشعل راہ ہے۔ بھارت چاہے جتنا پروپیگنڈا کرے، قافلہ چلتا رہے گا۔ پاکستان کی یہ کامیابی 2025 کے انڈین تنازع کے بعد ایک اور سنگ میل ہے جہاں عاصم منیر نے نہ صرف فوجی قیادت بلکہ سفارتی قیادت بھی ثابت کی۔عالمی سطح پر پاکستان کی یہ پذیرائی اس بات کی غماز ہے کہ آج کا پاکستان ماضی کا پاکستان نہیں۔ ہم نے سفارتی تنہائی کے دور سے نکل کر عالمی رہنمائی کا دور شروع کر دیا ہے۔ بی بی سی سمیت عالمی میڈیا اب یہ تسلیم کر رہا ہے کہ مودی پاکستان کو تنہا کرنا چاہتا تھا لیکن خود تنہا ہو گیا۔ بھارت کی ”اسلام دشمنی“ ” اور “پاکستان مخالف”پالیسی اب اسے عالمی تنہائی کا شکار بنا رہی ہے۔ جبکہ پاکستان نے خطے کو بڑی تباہی سے بچا لیا، بھارت نے صرف خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا۔ یہ ناکامی بھارت کی خارجہ پالیسی کی شکست ہے جو صرف پاکستان مخالف بیانیے پر کھڑی تھی۔آج جب اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے وفود امن کی میز پر بیٹھیں گے تو یہ پاکستان کی فتح ہو گی۔ کشمیر کے لوگ دعائیں کر رہے ہیں، دنیا تعریف کر رہی ہے اور بھارت حسد سے جل رہا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت، پاکستانی عوام کی یکجہتی اور اللہ کی مدد سے یہ قافلہ مزید آگے بڑھے گا۔ مقبوضہ کشمیر کی آواز واضح ہے کشمیر ان سے محبت کرتا ہے۔ یہ محبت ہی پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ بھارت چاہے جتنا طنز کرے، جھوٹ بولے یا خاموش رہے، تاریخ پاکستان کی کامیابیوں کو ریکارڈ کر رہی ہے۔ پاکستان زندہ باد! کشمیر آزاد ہو گا، انشا اللہ ۔

یہ بھی پڑھیں