Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

بھارت میں ہندوتوا کا عفریت انسانیت کا دشمن

بھارت طویل عرصے سے اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور ایک سیکولر ریاست کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ سرکاری بیانیہ یہی رہا کہ یہ ملک مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے لوگوں کا مشترکہ گھر ہے جہاں سب کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران سامنے آنے والے واقعات، عالمی اداروں کی رپورٹس اور بھارت کے مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی خبروں نے اس تصویر کو خاصا دھندلا دیا ہے۔ اب یہ سوال پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ اٹھ رہا ہے کہ کیا واقعی بھارت وہی جمہوری اور مذہبی رواداری پر مبنی معاشرہ ہے جس کا دعویٰ کیا جاتا ہے، یا پھر زمینی حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے۔
حالیہ بین الاقوامی تحقیقاتی جائزوں نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے۔ برطانیہ کے معروف تعلیمی ادارے **کنگز کالج لندن** کے ٹرانس نیشنل لا کلینک کی ایک تفصیلی تحقیق میں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ آزاد ماہرین کے ایک پینل کی تیار کردہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض ریاستوں میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی اداروں کی کارروائیوں نے ایک منظم رجحان اختیار کر لیا ہے۔ رپورٹ میں خاص طور پر ان ریاستوں کا ذکر کیا گیا جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومتیں قائم ہیں۔ ان میں اتر پردیش اور آسام نمایاں ہیں۔
اتر پردیش بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہے اور یہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔ لیکن سیاسی نمائندگی کے حوالے سے ان کی موجودگی انتہائی محدود ہے۔ گزشتہ برسوں میں اس ریاست میں پولیس مقابلوں کے واقعات بار بار خبروں میں آئے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق بعض واقعات ایسے ہیں جنہیں ماورائے عدالت قتل قرار دیا جا سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو غیر معمولی اختیارات دے دیے گئے ہیں جن کے نتیجے میں عدالتی عمل کو نظر انداز کرنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
اسی ریاست میں ایک اور رجحان بھی خاصا متنازعہ بن چکا ہے جسے عام طور پر “بلڈوزر انصاف” کہا جاتا ہے۔ اس پالیسی کے تحت بعض ملزمان کے گھروں اور دکانوں کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کر دیا جاتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات عدالت کے فیصلے کے بغیر کیے جاتے ہیں، اس لیے یہ آئینی اصولوں کے خلاف ہیں۔ بھارت کی سپریم کورٹ نے بھی بعض مواقع پر ایسے اقدامات پر سوالات اٹھائے ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ رجحان مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔
آسام کی صورتحال بھی کم پیچیدہ نہیں۔ یہاں قومی شہریت رجسٹر کے نام سے ایک عمل شروع کیا گیا جس کا مقصد غیر قانونی تارکین وطن کی نشاندہی بتایا گیا۔ لیکن انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق اس عمل کے نتیجے میں بڑی تعداد میں بنگالی نژاد مسلمانوں کی شہریت خطرے میں پڑ گئی۔ لاکھوں افراد کو اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے کاغذی کارروائیوں اور عدالتی عمل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ ہزاروں افراد ایسے بھی ہیں جنہیں حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل نے پورے خطے میں خوف اور غیر یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔
بھارت میں مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز تقاریر کے بڑھتے ہوئے رجحان نے بھی عالمی توجہ حاصل کی ہے۔ جلسوں، ریلیوں اور مذہبی اجتماعات میں بعض مقررین کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف سخت زبان استعمال کی جاتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر اس رجحان کو روکنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو معاشرے میں نفرت کی خلیج مزید گہری ہو سکتی ہے۔بین الاقوامی سطح پر بھی بھارت کی صورتحال پر بحث جاری ہے۔ امریکہ کا ایک ادارہ جو دنیا بھر میں مذہبی آزادی کی نگرانی کرتا ہے، کئی برسوں سے اپنی رپورٹوں میں بھارت کے حوالے سے تشویش ظاہر کرتا رہا ہے۔ اس ادارے نے بعض مواقع پر یہ سفارش بھی کی کہ بھارت کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا جائے جہاں مذہبی آزادی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ بھارتی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور انہیں سیاسی نوعیت کا قرار دیتی ہے، لیکن عالمی سطح پر یہ بحث بدستور جاری ہے۔
بھارت کے اندر فرقہ وارانہ کشیدگی کے واقعات بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں۔ بعض ریاستوں میں ہجومی تشدد کے واقعات نے خاصی تشویش پیدا کی ہے۔ ایسے واقعات میں اکثر ہجوم کسی شخص کو مذہبی بنیادوں پر نشانہ بناتا ہے۔ کئی بار یہ واقعات گائے کے تحفظ کے نام پر پیش آئے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق یہ رجحان اس بات کی علامت ہے کہ معاشرے میں مذہبی تعصب بڑھ رہا ہے اور قانون کا خوف کم ہوتا جا رہا ہے۔
مہاراشٹر کے ایک حالیہ واقعے نے بھی اس مسئلے کو دوبارہ اجاگر کیا۔ ایک شہر میں دو مسلمانوں کو ایک شدت پسند گروہ کے کارکنوں نے تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کے ساتھ انتہائی توہین آمیز سلوک کیا۔ متاثرہ افراد کے مطابق انہیں صرف ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا کہ کیا اقلیتوں کو مناسب تحفظ حاصل ہے یا نہیں۔
ان واقعات کے پس منظر میں ہندو قوم پرستی کے بڑھتے ہوئے رجحان کا ذکر بھی اکثر کیا جاتا ہے۔ بعض سیاسی اور سماجی حلقوں کا خیال ہے کہ اس نظریے کے حامی بھارت کو ایک ایسی ریاست میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں جہاں اکثریتی مذہب کو نمایاں حیثیت حاصل ہو۔ ناقدین کے مطابق اگر اس سوچ کو ریاستی پالیسیوں میں جگہ ملتی رہی تو اس سے بھارت کی سیکولر شناخت متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف اس نظریے کے حامی اسے بھارتی تہذیب اور ثقافت کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔
بھارت کے دانشور اور سماجی کارکن اس مسئلے پر مختلف آراء رکھتے ہیں، لیکن ایک بات پر اکثر اتفاق پایا جاتا ہے کہ کسی بھی جمہوری معاشرے کی اصل طاقت اس کے اداروں کی غیر جانبداری اور قانون کی بالادستی میں ہوتی ہے۔ اگر ریاستی اداروں پر جانبداری کے الزامات لگنے لگیں تو جمہوری نظام کمزور ہونے لگتا ہے۔بین الاقوامی برادری کے لیے بھی یہ صورتحال اہم ہے۔ اگر دنیا واقعی انسانی حقوق اور مذہبی آزادی جیسے اصولوں پر یقین رکھتی ہے تو اسے ہر ملک میں ان اصولوں کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسی طرح بھارت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے آئینی وعدوں کو عملی شکل دے اور تمام شہریوں کے لیے برابری اور انصاف کو یقینی بنائے۔

یہ بھی پڑھیں