کوٹیلہ چانکیہ کی سازشی پالیسیوں کا اسیر مودی کا بھارت پورے خطے بلکہ عالمی امن کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے ، اسرائیئل کے بعد یہ واحد ملک ہے ، جو دہشت گردی کو ریاستی پالییس کے طور پر استعمال کرتا ہے اور اپنے شہریوں یہاں تک فوجیوں کو بھی موت کے گھاٹ اتارنے سے گریز نہیں کرتا ، نقص صرف یہ کہ کیس طرح سے پاکستان پر الکزام عائد کیا جا سکے ۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہر بار اس کی چالاکیوں کو پاکستان کے حساس اداروں نے بے نقاب کر کے اسے اپنے ہی جال میں پھنسا دیا ہے۔ ذلت اور ناکامی کا سامنا کرتے ہوئے بھی بھارت اپنی مذموم عزائم سے باز نہیں آتا۔ اب ایک بار پھر پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بھارت کی ایک خطرناک فالس فلیگ منصوبہ بندی کو طشت از بام کر کے نہ صرف خطے کو ایک بڑے بحران سے بچا لیا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو بھی محفوظ رکھا ہے۔ یہ وہ کامیابی ہے جو پاکستان کے دفاعی اداروں کی ہوشیاری، پیشگی تیاری اور قومی اتحاد کی بدولت ممکن ہوئی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی نے بھارت کی خفیہ کمیونیکیشن کو کامیابی سے ڈی کوڈ کر کے ایک ایسا بڑا منصوبہ بے نقاب کیا ہے جس میں بھارتی حکام پاکستان کے خلاف ایک مصنوعی اور جعلی آپریشن انجام دے کر پورا الزام پاکستان پر ڈالنے کی سازش رچ رہے تھے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ بھارت اپنی جیلوں میں بند پاکستانی قیدیوں کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے سرحدی علاقوں میں منتقل کر کے ان سے ایک فالس فلیگ آپریشن کرانا چاہتا تھا۔ اس کے بعد حسبِ سابقہ پاکستان پر الزام لگا کر عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے اور پاکستان کی ساکھ کو مجروح کرنے کا منصوبہ تھا۔ اس سازش کا بنیادی مقصد پاک افواج کو مشرقی سرحد پر مصروف رکھنا، خطے میں کشیدگی پیدا کرنا اور عالمی سطح پر پاکستان کو غیر مستحکم ملک کے طور پر پیش کرنا تھا۔ مگر پاکستان کے حساس اداروں نے اس منصوبے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے کہ بھارت فالس فلیگ آپریشنز کے ذریعے پورے خطے کو عدم استحکام کی آگ میں جھونکنے کی کوشش کر رہا ہو۔ جب مشرق وسطیٰ میں امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں پورا علاقہ آگ کی لپیٹ میں ہے تو بھارت اس موقع کو بھی پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے نہیں چوک رہا۔
تاریخ کے اوراق اٹھائیں تو متعدد ایسے مواقع ملتے ہیں جب بھارت نے مشتبہ کارروائیوں کو پاکستان پر الزام لگانے کے لیے استعمال کیا۔ ۲۰۱۹ میں پلومہ کے قریب لیتہ پورہ فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں بھارتی جہازوں نے بالاکوٹ کے جنگلات پر پے لوڈ گرایا۔ اس کے جواب میں ۲۷ فروری کو پاک فضائیہ نے دو بھارتی طیاروں کو مار گرایا اور ابھی نندن نامی پائلٹ کو گرفتار کیا۔ یہ واقعہ بھارت کی چالاکی کا سب سے بڑا ثبوت بنا۔ اسی طرح ۲۲ اپریل ۲۰۲۵ کو بیسرن پہلگام میں بھارت نے اپنے ہی ۲۴ سیاحوں کو قتل کر کے اس کا الزام پاکستان پر لگانے کی کوشش کی۔ پھر ۰۶ اور ۰۷ مئی کی رات کو پاکستان پر حملہ کیا گیا۔ مگر پاک فضائیہ نے اس کا بھرپور جواب دیا اور صرف ۰۷ مئی کو ۷ بھارتی طیاروں سمیت ۴ رافیل طیاروں کو زمین بوس کر دیا۔ اس کے علاوہ ۹ اور ۱۰ مئی کو ۲۶ بھارتی فوجی تنصیبات کو ملیا میٹ کر دیا گیا۔ یہ واقعات بھارت کی فالس فلیگ حکمت عملی کی ناکامی کے روشن ثبوت ہیں۔ ہر بار بھارت نے جھوٹے شواہد گھڑ کر عالمی برادری کے سامنے پاکستان کو مجرم ثابت کرنے کی کوشش کی مگر پاکستان کی انٹیلی جنس اور پاک افواج نے اسے ناکام بنا دیا۔ اب بھی بھارت کی جانب سے فالس فلیگ آپریشنز میں پاکستان کو عالمی اور مقامی سطح پر بدنام کرنے کی کوششیں بدستور جاری ہیں۔ مگر اس بار بھی پاکستان کے حساس اداروں کی ہوشیاری اور پیشگی اقدامات نے اس خطرناک منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔ پاک افواج اور انٹیلی جنس کمیونیکیشن کا مضبوط نظام بھارت کی ہر سازش کو بے نقاب کر کے ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ یہ واضح ہے کہ بھارت کی فالس فلیگ منصوبہ بندی پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ لیکن پاکستان کے حساس اداروں کی مستعدی اور قومی اتحاد اس خطرے کو ہر بار ناکام بنانے کے لیے ہمیشہ حاضر رہتا ہے۔
فالس فلیگ حکمت عملی کسی بھی ملک کے لیے انتہائی خطرناک اور مذموم ہے کیونکہ اس میں ایک ملک دوسرے ملک کے خلاف جھوٹے شواہد گھڑتا ہے اور پھر عالمی برادری کے سامنے اپنے گھناؤنے عزائم کو جائز ٹھہرانے کی کوشش کرتا ہے۔ البتہ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی بروقت کارروائی نے نہ صرف اس منصوبے کو ناکام بنایا بلکہ بھارت کی چالاکیوں کو بھی بے نقاب کر دیا۔ پاکستان کے حساس اداروں کے جاری بیان میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس ٹیموں نے خفیہ ڈیٹا کا تجزیہ کر کے بھارتی منصوبے کی تمام تفصیلات حاصل کیں اور پھر اس کے نتائج حکومت اور پاک افواج کے اعلیٰ حکام کے ساتھ شیئر کیے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت نے اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف پاکستان کے خلاف مصنوعی واقعات پیدا کرنے کی کوشش کی بلکہ خطے میں کشیدگی بڑھانے کی بھی سازش رچی تھی۔ اس منصوبے کے بے نقاب ہونے سے ایک بار پھر یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ پاکستان کے سیکیورٹی ادارے ملکی دفاع اور قومی مفادات کے تحفظ میں کس قدر ہوشیار اور فعال ہیں۔ انہوں نے نہ صرف خطرے کی نشانی کو بروقت پہچانا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف چلنے والی منفی پروپیگنڈا مہم کو بھی ناکام بنا دیا۔
(جاری ہے)