Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

بھارتی منافقت، مسلم دشمنی اور عالمی خطرہ

عالمی سیاست کے ہنگامہ خیز منظر میں آج بھارت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کی قیادت کی منافقت، مسلم دشمنی اور ذاتی مفادات کی ترجیحات نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر خطرے کے بادل گھیر دیے ہیں۔ نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کی خارجہ پالیسی اب غیر جانبدارانہ اصولوں اور اخلاقی ذمہ داریوں سے یکسر ہٹ کر ایک طرفہ اور خطرناک راستے پر چل رہی ہے۔ امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو ایران کے خلاف بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی، جبکہ بھارت خود کو غیر وابستہ یا توازن پسند ملک کے طور پر پیش کرتا رہا۔ یہ تضاد نہ صرف سفارتی منافقت کی عکاسی کرتا ہے بلکہ بھارت کی اخلاقی اور انسانی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔
سابق امریکی دفاعی مشیر ڈگلس میکگریگر کے بیان نے بھارت کی اس کردار کشی کو واضح کیا ہے۔ ان کے مطابق امریکا کی بحریہ ایران کے خلاف کارروائی کے لیے بھارتی بندرگاہوں کا استعمال کر رہی ہے کیونکہ امریکی اڈے اور دیگر تنصیبات متاثر یا تباہ ہو چکی ہیں۔ ایک خودمختار ملک کا اپنی سرزمین کو کسی تیسرے ملک کے خلاف عسکری کارروائی کے لیے پیش کرنا اس کی غیر جانبدار خارجہ پالیسی کے خاتمے کے مترادف ہے۔ بھارت، جو کبھی غیر وابستہ تحریک کا علمبردار سمجھا جاتا تھا، آج بڑی طاقتوں کے جغرافیائی کھیل میں ایک ذاتی مفادات اور نظریاتی اتحاد کا مہرہ بن چکا ہے۔اسرائیلی اور عالمی صحافیوں نے بھی مودی کے حالیہ دورے کو نیتن یاہو کی انتخابی مہم کا سستا اشتہار قرار دیا۔ بلومبرگ، الجزیرہ اور ٹی آر ٹی ورلڈ نے اس دورے کو مشکوک اور خطرناک قرار دیا۔ یہ سب بھارت کی اس منافقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ عالمی سطح پر اپنے مفادات کے لیے انسانی اور اخلاقی اصولوں کو پس پشت ڈال رہا ہے۔بھارت کی داخلی پالیسی میں مسلم دشمنی ایک اور نمایاں پہلو ہے۔ شہریت کے قوانین، مسلمانوں کے خلاف بھاری نفرت انگیز مہمات، اقلیتوں کے حقوق پر قدغنیں اور مذہبی مقامات کے معاملے میں یکطرفہ فیصلے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت کی قیادت اقلیتوں کو ریاست کی حفاظت اور انصاف سے محروم کرنے میں مصروف ہے۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور وہاں کے مسلمانوں کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال نے بھارت کی غیر جانبدارانہ اور انسانی بنیادوں پر مبنی شناخت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ داخلی پالیسی میں یہ انتہا پسندی اور مذہبی تعصب بیرونی پالیسی میں بھی جھلک رہا ہے، جیسا کہ ایران کے خلاف یکطرفہ رویہ اور اسرائیل کے ساتھ قریب ہونے میں دکھائی دیتا ہے۔
بھارت کی یہ منافقت اور مسلم دشمنی عالمی امن کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ ڈگلس میکگریگر کے مطابق ایران ایک بڑی براعظمی طاقت ہے، جس کی دفاعی صلاحیتیں مضبوط ہیں اور چین و روس جیسی طاقتیں اس کے پشت پر ہیں۔ ایسے میں بھارت کی یکطرفہ حمایت خطے کے توازن کو بگاڑتی ہے اور کشیدگی بڑھا کر انسانی المیے کو جنم دیتی ہے۔ یہ جارحانہ اور انتہا پسندانہ رویہ بھارتی عوام اور عالمی برادری کے لیے خطرناک نتائج پیدا کر رہا ہے۔اقتصادی اور نجی مفادات بھی بھارت کی منافقت میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ اڈانی گروپ کی سرمایہ کاری اور چابہار بندرگاہ میں مالی مفادات کی خاطر بھارت کی قیادت قومی وقار اور اصول پسندی کو قربان کر رہی ہے۔ ریاستی سربراہ کا اپنے قریبی کاروباری حلقوں کے مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دینا ملکی وقار اور اخلاقی ذمہ داری کے منافی ہے۔ قومیں اس وقت کمزور نہیں ہوتیں جب مشکلات کا سامنا کریں بلکہ اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب ان کی قیادت ذاتی مفادات کو ترجیح دے کر انسانی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرے۔
انسانی المیے کے تناظر میں بھارت کی پالیسی مزید خطرناک ہے۔ غزہ، ایران یا دیگر خطوں میں انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے، مگر بھارت نہ صرف جارحین کی سہولت کاری کر رہا ہے بلکہ بعض حلقے اس تباہی پر جشن منا کر انسانی المیے کو معمولی اور سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ یہ رویہ انسانی ہمدردی کی تضحیک اور نظریاتی تعصب کی عکاسی کرتا ہے، جس میں مسلم دشمنی اور مذہبی تعصب واضح طور پر نظر آتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت کی داخلی مسلم دشمنی اور خارجی منافقت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ داخلی سطح پر مسلمانوں کے حقوق کی پامالی، اقلیتوں کے خلاف قوانین اور سماجی دباؤ سے پیدا ہونے والا ماحول بیرونی سطح پر ایران یا دیگر مسلم ممالک کے خلاف یکطرفہ اور جارحانہ پالیسیوں کی بنیاد بنتا ہے۔ اس کی وجہ سے بھارت کی عالمی ساکھ نہ صرف متاثر ہو رہی ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔ہندوتوا اور صہیونیت کے درمیان نظریاتی ہم آہنگی بھی اس رجحان کو مزید خطرناک بناتی ہے۔ دونوں نظریات مذہبی اور نسلی شناخت کو ریاستی پالیسی کے مرکز میں رکھتے ہیں۔ صہیونیت مخصوص مذہبی شناخت کو سیاسی بالادستی دیتی ہے جبکہ ہندوتوا بھارت کو ہندو اکثریت کی ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس نظریاتی ہم آہنگی نے بھارت کو اسرائیل کے ساتھ قربت اختیار کرنے اور مسلم دنیا کے خلاف یکطرفہ اقدامات کرنے کی راہ ہموار کی ہے۔یہ نظریاتی اور عملی اتحاد عالمی سطح پر کشیدگی پیدا کر رہا ہے۔ انسانی المیے کو سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کرنا، مسلمانوں کے حقوق کی پامالی، اور جارحانہ رویہ عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ طاقتور ممالک کی اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہی انہیں پائیدار اثر و رسوخ اور احترام دیتی ہے، لیکن بھارت آج ان اصولوں کو پس پشت ڈال کر اپنے ذاتی اور نظریاتی مفادات کی پیروی کر رہا ہے۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ طاقتور ہونے کے ساتھ ساتھ اخلاق اور انسانی شعور قائم رکھنا لازمی ہے۔ بھارت اگر آج بھی غیر جانبداری، انسانی حقوق اور عالمی اصولوں پر قائم رہنے کی کوشش کرے تو وہ نہ صرف خطے میں توازن قائم رکھ سکتا ہے بلکہ اپنی عالمی ساکھ کو بھی بحال کر سکتا ہے۔ بصورت دیگر، اس کے اقدامات آنے والی نسلوں کے لیے ندامت اور تاریخی بدنامی کا باعث بنیں گے۔بھارت کے پاس موقع ہے کہ وہ اپنی داخلی پالیسی میں مسلم دشمنی اور اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کو ختم کرے، اپنی خارجہ پالیسی میں غیر جانبداری اور انسانی ہمدردی کو مرکزی حیثیت دے، اور عالمی تنازعات میں ایک ذمہ دار اور اخلاقی فریق کے طور پر کردار ادا کرے۔ طاقتور بننے کا مطلب صرف ہتھیاروں، بندرگاہوں یا اقتصادی مراعات تک محدود نہیں بلکہ امن اور انسانی ہمدردی کے لیے پُل بننا بھی ہے، اور بھارت کو ابھی یہ موقع دستیاب ہے کہ وہ اپنے کردار سے عالمی سطح پر مثال قائم کرے۔اگر نئی دہلی یہ راستہ اختیار نہیں کرتی، تو وہ ایک ایسے باب میں شامل ہو جائے گی جسے آنے والی نسلیں شرمندگی اور ندامت کے ساتھ یاد کریں گی۔ بھارت کی منافقت، مسلم دشمنی اور ذاتی مفادات کی ترجیحات آج کے فیصلوں میں جھلک رہی ہیں، اور آنے والی نسلیں تاریخ کو صرف سرکاری بیانیوں سے نہیں بلکہ زمینی حقائق، میڈیا رپورٹس اور انسانی تجربات سے پڑھیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی موجودہ پالیسی نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے سنگین چیلنج بن چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں