عالمی سیاست کے ہنگامہ خیز منظرنامے میں کبھی کبھی ایسے لمحات آتے ہیں جب کسی ریاست کی اصل فطرت اس کے نعروں یا سفارتی بیانات سے نہیں بلکہ اس کے عملی کردار سے ظاہر ہوتی ہے۔ آج کا بھارت اسی امتحان سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف نئی دہلی خود کو اصولوں، توازن اور جمہوری اقدار کا علمبردار ظاہر کرتا ہے مگر دوسری طرف اس کی حالیہ پالیسیاں ایک گہرے تضاد کو عیاں کر رہی ہیں جس نے اس کی سفارتی ساکھ کو شدید سوالات کے گھیرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ ایران کے ساتھ دوستی، تعاون اور بھائی چارے کے معاہدے کرنے والا یہی بھارت آج اسی ایران کے خلاف صف بندی کرنے والوں کے قریب کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ یہ محض سفارتی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسا رویہ ہے جس نے بھارت کی خارجہ پالیسی کی اخلاقی بنیاد کو متزلزل کر دیا ہے۔ نریندر مودی کی حکومت ایک طرف تہران کے ساتھ اقتصادی اور تزویراتی تعاون کی بات کرتی رہی ہے اور دوسری طرف وہی حکومت ایران مخالف اتحاد کے ساتھ قربت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اس نے عالمی سطح پر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ بھارت کی پالیسیوں کی بنیاد آخر کس اصول پر قائم ہے۔امریکہ اور اسرائیل کے بعض معتبر ذرائع کے مطابق مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو ایران کے خلاف بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ کوئی معمولی سفارتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک گہری اخلاقی اور سیاسی تضاد کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایران اور بھارت کے درمیان گزشتہ برسوں میں متعدد معاہدے ہوئے جن میں اقتصادی، تزویراتی اور علاقائی تعاون شامل تھا۔ چابہار بندرگاہ اس شراکت داری کی سب سے واضح علامت تھی جسے دونوں ممالک نے باہمی اعتماد اور خطے میں توازن کے اہم ستون کے طور پر پیش کیا۔
بھارت نے اسے وسطی ایشیاء تک رسائی کا دروازہ قرار دیا اور ایران کے ساتھ طویل مدتی شراکت کی بنیاد سمجھا مگر آج وہی بھارت ایران کے خلاف ایک ایسے اتحاد کے قریب نظر آتا ہے جو نہ صرف تہران بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔امریکی وزارت دفاع کے سابق مشیر کرنل ڈگلس میک گریگر کے حالیہ بیان نے اس معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکا کی بحریہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لیے بھارتی بندرگاہوں کا استعمال کر رہی ہے۔ ان کے بقول مشرق وسطی میں امریکی کئی تنصیبات اور اڈے متاثر ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے واشنگٹن کو بھارت کی سہولیات پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر یہ دعوی درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت نے اپنی سرزمین کو ایک ایسے تنازعے میں استعمال کی اجازت دے دی ہے جس کے نتائج خطے کی سلامتی اور امن کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ایک خود مختار ریاست جب کسی تیسرے ملک کے خلاف عسکری کارروائی کے لیے اپنی سرزمین فراہم کرتی ہے تو وہ اپنی غیر جانبداری اور خود مختار خارجہ پالیسی سے دستبردار ہو جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بھارت کی موجودہ پالیسی اور اس کی تاریخی روایت کے درمیان شدید تضاد نمایاں ہوتا ہے۔ ماضی میں بھارت غیر وابستہ تحریک کا علمبردار تھا اور بڑی طاقتوں کے جغرافیائی کھیل سے خود کو الگ رکھنے کا دعویٰ کرتا تھا۔ مگر آج کی حقیقت یہ ہے کہ وہی بھارت اسی کھیل کا فعال حصہ بنتا دکھائی دیتا ہے۔اسرائیلی صحافی ایتے میک نے ایک مضمون میں مودی کو نیتن یاہو کی انتخابی مہم کا سستا اشتہار قرار دیا جبکہ کرنل ڈگلس میک گریگر نے انہیں نیتن یاہو کا پوسٹر بوائے کہا۔ جب عالمی تجزیہ کار اور صحافی کسی ملک کی قیادت کو اس انداز میں بیان کریں تو یہ محض تنقید نہیں بلکہ ایک سنگین سفارتی انتباہ بھی ہوتا ہے۔ 1
بلومبرگ، الجزیرہ اور ٹی آر ٹی ورلڈ جیسے میڈیا پلیٹ فارمز نے بھی اس رویے کو مشکوک اور خطرناک قرار دیا ہے۔ جب بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کسی پالیسی کو مفاد پرستی اور موقع پرستی سے تعبیر کریں تو یہ عالمی رائے عامہ کی عکاسی ہوتی ہے۔یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ کیا یہ پالیسی صرف مودی کی ذاتی ترجیحات کا نتیجہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی وسیع نظریاتی ڈھانچہ موجود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ بھارتی سیاست پر ہندوتوا نظریے کا گہرا اثر ہے۔ یہ نظریہ محض مذہبی شناخت نہیں بلکہ ایک سیاسی حکمت عملی بھی ہے جس کی جڑیں قدیم مفکر چانکیہ کی تعلیمات میں ملتی ہیں۔ چانکیہ نے ارتھ شاستر میں ریاستی مفاد کو ہر اخلاقی اصول سے بالاتر قرار دیا تھا۔ ان کے فلسفے کے مطابق ریاست کا بنیادی ہدف اپنے مفادات کا تحفظ ہے اور اس کے لیے فریب، چالاکی اور موقع پرستی کو جائز سمجھا جاتا ہے۔ دوستی اور دشمنی مستقل نہیں ہوتیں بلکہ حالات کے مطابق تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ ناقدین کے نزدیک موجودہ بھارتی خارجہ پالیسی اسی سوچ کا تسلسل ہے جہاں ایک طرف ایران سے دوستی کی بات ہوتی ہے اور دوسری طرف اسی کے خلاف اتحاد کے ساتھ قربت بڑھائی جاتی ہے۔اس تناظر میں مودی کی پالیسی کو صرف انفرادی فیصلوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اس سیاسی فکر کا مظہر ہے جس میں مفاد پرستی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ مسئلہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ ہندوتوا سیاست کے پورے نظام کا ہے جہاں اخلاقی تسلسل کی بجائے موقع پرستی کو ترجیح دی جاتی ہے۔