(گزشتہ سے پیوستہ)
سیاسی میدان میں بھی کشمیری جدوجہد کے خلاف کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ جبری حکمرانی کو جمہوری چادر اوڑھانے کے لیے مقامی سیاسی میدان میں کٹھ پتلیاں پیدا کی گئیں، جعلی انتخابات کے ذریعے انہیں اقتدار کی کرسی پر بٹھایا گیا، ان کے کردار کو محدود رکھا گیا، اقتدار میں شراکت کی گئی اور ضرورت پڑنے پر انہیں بے بس کر دیا گیا۔ کبھی مرکزی دھارے کی سیاست کے ذریعے عوامی غم و غصے کو جذب کرنے کی کوشش ہوئی، کبھی ترقیاتی پیکج اور خصوصی فوائد کی شکل میں سیاسی رشوتیں دی گئیں۔ مگر اگر یہ سیاسی عمل کارآمد تھا تو سخت حفاظتی اقدامات کی بار بار ضرورت کیوں پڑتی رہی؟معاشی سطح پر بھی بڑے ترقیاتی پروگرام اور پیکجز کا شور مچایا گیا۔ سڑکیں، بجلی کے منصوبے، سیاحت کی ترقی کے وعدے معمول کی طرف واپسی کے قصے کے ساتھ پیش کیے گئے۔ تاہم جب سیاسی عدم یقین اور حفاظتی دباؤ قائم رہے تو معاشی نمو مستقل نہ رہ سکی۔ کاروبار بند ہوتے رہے، انٹرنیٹ کی بندش عام ہو گئی، اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع کم رہے۔ ترقی کا قصہ عوامی اعتماد بحال کرنے میں ناکام رہا۔ “چمکتا بھارت اور سب کی ترقی” کے نعروں کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں بے روزگاری کی شرح بھارت سے ڈیڑھ فیصد زیادہ ہے۔ بھارت کے وقتاً فوقتاً لیبر فورس سروے کے مطابق بھارت میں 5 فیصد یعنی 30 ملین افراد بے روزگار ہیں، جن میں نوجوانوں کی شرح 10 سے 15 فیصد ہے، جبکہ جموں و کشمیر میں 6.7 فیصد ہے۔ صرف سرکاری نوکری تلاش کرنے والے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی تعداد ساڑھے تین سے چار لاکھ تک ہے۔ انہیں ملازمت کی بجائے منشیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ برصغیر میں منشیات سے محفوظ ترین علاقہ سمجھا جانے والا یہ خطہ اب 13.5 لاکھ افراد کی منشیات کی لت کا شکار ہے، جن میں 7 سے 10 سال کی عمر کے 1,68,700 بچے بھی شامل ہیں۔ زراعت اور معدنیات پر مبنی کشمیری خود کفالت کے وسائل کو منظم طریقے سے ختم کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں بھارت کے مکمل دست نگر بنایا جا سکے۔ثقافتی اور عددی سطح پر بھی کشمیری صفائی کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ آبادی کے تناسب، زمینی قوانین اور شناخت سے جڑے مسائل میں سنگین مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ عالمی نگراں انہیں آبادیاتی ساخت اور سیاسی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوششوں کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اگر بھارتی بیانات کے مطابق کشمیری ان کے اپنے ہیں تو عددی، ثقافتی، سیاسی اور معاشی طور پر ان کی صفائی اور نئی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملیوں کو مسلط کرنے کی ضرورت کیوں ہے؟یہ تنازعہ بنیادی طور پر سیاسی ہے، مگر اس کا حل حفاظتی اور عسکری زاویوں سے ڈھونڈا جا رہا ہے۔ جب اس کی جڑیں تاریخی، آئینی اور عوامی امنگوں سے جڑی ہوں تو قوت سے اسے دبانا ممکن نہیں۔ کیا “پرہار” پچھلی تدبیروں کی ناکامی کا اقرار نہیں؟ اگر مسلح افواج خصوصی اختیارات ایکٹ، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ اور عوامی تحفظ ایکٹ جیسے قوانین، سیاسی عمل اور ترقیاتی پیکج ناکام ہو گئے، سخت حفاظتی اقدامات کے باوجو مخالفت ختم نہ ہو سکی، تو یہ نئی حکمت عملی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔تاریخ یہ درس دیتی ہے کہ قوت عارضی سکوت تو لا سکتی ہے، مگر مستقل امن کے لیے بات چیت، اعتماد کی بحالی اور سیاسی حل لازمی ہیں۔ جب تک عوامی امنگوں، شناخت اور خود ارادیت کے حق کو سنجیدگی سے قبول نہیں کیا جاتا، ہر نئی حکمت عملی پرانے زخموں کو کریدتی رہے گی۔ “پرہار” اگر واقعی امن کی ضمانت بننا چاہتی ہے تو انسداد دہشت گردی کے دائرے سے نکل کر حقیقی زمینی حالات کے اقرار، سیاسی تفہیم، انسانی حقوق کی پاسداری اور کھلی بات چیت کی طرف قدم اٹھانا ہوگا۔ ورنہ یہ بھی ان لاتعداد اقدامات کی صف میں کھڑی ہو جائے گی جو 78 برسوں میں آزمائے گئے مگر دل جیتنے میں ناکام رہے۔ قوت سے سکوت مسلط کیا جا سکتا ہے، مگر یہ رضامندی نہیں ہوتی۔ بنیادی سوال آج بھی یہی ہے کہ کیا بندوق، قوانین اور نگرانی اس جذبے کو مٹا سکتے ہیں جو دہائیوں سے سیاسی اور تاریخی سچائیوں کی آواز ہے؟ اگر حقیقت ہاں کا جواب نہیں دیتی تو آنے والے وقت میں اس کے بدلنے کی کیا ضمانت ہے؟