Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

26 جنوری ، جمہوری اقدار کی تدفین کا دن

کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریآج 26 جنوری کو بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منارہے ہیں جس کا مقصدعالمی برادری کوباورکرانا ہے کہ بھارت کشمیریوںکو ان کا ناقابل تنسیخ حق، حق خود ارادیت دینے سے مسلسل انکار کر رہا ہے۔
یوم سیاہ منانے کی کال کل جماعتی حریت کانفرنس نے دی ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں مکمل ہڑتال ہے جبکہ آزاد جموںو کشمیر، پاکستان اور دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں بھارت مخالف مظاہرے کیے جائیں گے اور ریلیاں نکالی جائیں گی ۔ تاکہ عالمی برادری کو یہ پیغام دیا جاسکے کہ بھارت جس نے کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں ،اسے مقبوضہ علاقے میں اپنا یوم جمہوریہ منانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔
ہر سال 26جنوری مظلوم کشمیریوں کے لیے نئی مشکلات کا باعث بنتاہے، بھارتی فوجیوں نے پورے مقبوعلاقے میں گاڑیوں اور راہگیروں کی تلاشی کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ وادی کشمیر اور جموں خطہ میں یوم جمہوریہ کی سرکاری تقریبات کے مقامات کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو خار دار تاروں اور رکاوٹیں لگا کر بند کردیا گیا ہے ، جبکہ لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کیلئے بڑی تعداد میں قابض فورسز کو تعینات کیاگیاہے اور لوگوں پر نظر رکھنے کیلئے سی سی ٹی وی کیمروں اور ڈرونز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ بھارتی پیراملٹری اور پولیس اہلکار،سراغرساں کتوں کے ہمراہ سرینگر اور مقبوضہ علاقے کے دیگر شہروں اور قصبوں میں داخلی اور خارجی راستوں پر گاڑیوں کی تلاشیاںلے رہے ہیں اورراہگیروں کی شناختی پریڈ کرائی جارہی ہے ۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ یوم جمہوریہ کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیکورٹی کے نام پرسخت لاک ڈائون نافذ کر دیا ہے۔بڑے پیمانے پر قابض فورسز کی تعیناتی ، تلاشی اورنگرانی کی کارروائیوں کی وجہ سے عام کشمیریوں کے معمولات زندگی بری طرح متاثرہو ئے ہیں ۔
پوری وادی کشمیر اور جموں خطے کو ایک فوجی چھائونی میں تبدیل کردیاگیا ہے جہاں ایک غیر معمولی لاک ڈائون نافذہے۔ وادی کشمیر اور جموںمیں بھارتی فورسز سڑکوں اور شاہراہوں پر بڑے پیمانے پر تلاشی کی کارروائیاں کررہے ہیں اور گاڑیوں ، مسافروں اور راہگیروں کی تلاشی لی جارہی ہے ۔جموںوکشمیر میں متعدد مقامات پر چوکیاں قائم کی گئی ہیں، جہاں نام نہاد سیکورٹی کے نام پر لوگوں کوجامہ تلاشیاں لی جارہی ہیں اور انکے شناختی کارڈ چیک کئے جارہے ہیں ۔ بھارتی فوجیوں اورپولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد کو سرینگر اور جموںشہروں میں تعینات کیاگیا ہے جہاں بھارتی یوم جمہوریہ کی سرکاری تقاریب منعقد کی جائیں گی ۔کشمیر کرکٹ اسٹیڈیم، جہاں یوم جمہوریہ کی سرکاری تقریب منعقد کی جائیگی کو بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد نے گھیرے میں لے رکھا ہے ۔ اسٹیڈیم کے باہر کئی حصار پر مشتمل سیکورٹی کے اقدامات کئے گئے ہیں ۔انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر، وی کے بردی نے کہا ہے کہ سرینگر کے بخشی اسٹیڈیم کے آس پاس بڑے پیمانے پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں ، جہاں یوم جمہوریہ کی مرکزی تقریب منعقد ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے حساس علاقوں میں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے ،جن میں سڑکوں کی ناکہ بندی، گاڑیوں اورراہگیروں کی تلاشیاں اور سیکورٹی کورڈنز کی کارروائیاں شامل ہیں۔ڈرونز کے ذریعے فضائی نگرانی کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے سرینگر سمیت تمام 20اضلاع میں گاڑیوں کی تلاشی اور شناخت کا عمل تیز کر دیا ہے۔ اہم سڑکوں پر خاص طور پر لائن آف کنٹرول کے قریب لوگوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، جس سے شہریوں کوشدید تکلیف کاسامنا ہے۔ کئی علاقوں میں رات کے وقت چھاپوں اور گشت کو بھی بڑھا دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ سیکورٹی کو مزید بڑھانے کے لیے، جدید نگرانی کی ٹیکنالوجیز بشمول ڈرونز اور ہائی ریزولوشن سی سی ٹی وی کیمروں کو سرکاری تقریب کے مقامات کی نگرانی کے لیے استعمال کیا جارہاہے۔
سرینگر اور دیگر قصبوں اور ضلعی ہیڈکوارٹروں میں خاص طور پر اہم داخلی مقامات پر چوکیاں قائم کی گئی ہیں۔مقبوضہ کشمیر کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ سخت پابندیوں بڑی تعداد میں قابض فوجیوں کی تعیناتی ، تلاشی ، محاصرے اور نگرانی کی بڑے پیمانے پر کارروائیوں کی وجہ سے ان کی معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں ۔کشمیریوں کو بھارتی سرکاری تقریبات کے موقع پر سخت پابندیوں اورشدید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔جموں خطہ کے علاقوں گریز، اوڑی، کرناہ،ٹنگدار اور دیگر سخت پابندیاں نافذ ہیں۔
بھارت ہر سال 26 جنوری کو بڑے طمطراق کے ساتھ اپنا نام نہاد یومِ جمہوریہ مناتا ہے اور خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دے کر عالمی ضمیر کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر یہی تاریخ جب مقبوضہ جموں و کشمیر کے تناظر میں دیکھی جائے تو یہ جشن نہیں بلکہ ایک تلخ یاد، ایک گہرا زخم اور جبر و استبداد کی علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جن کشمیریوں پر گزشتہ 78 برسوں سے فوجی قبضہ مسلط ہے، جن سے ان کا پیدائشی حقِ خودارادیت چھینا گیا ہے، جو ایک لاکھ سے زائد شہدا، ہزاروں اجتماعی قبروں، جبری گمشدگیوں، عصمت دری، ماورائے عدالت قتل اور بدترین ریاستی دہشت گردی کا سامنا کر چکے ہیں،ان کے پاس بھارتی یومِ جمہوریہ منانے کا آخر کون سا اخلاقی، قانونی یا انسانی جواز موجود ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی یومِ جمہوریہ، جمہوریت کی فتح کا نہیں بلکہ جمہوری اقدار کی تدفین کا دن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقبوضہ و آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری 26 جنوری کو یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں تاکہ عالمی برادری کو یہ باور کرایا جا سکے کہ بھارت کا جمہوری چہرہ درحقیقت ایک خون آلود نقاب ہے۔

یہ بھی پڑھیں