تحریک آزادی کشمیر کی مقامی نوعیت کو مسخ کرنے کے لئے بھارتی فوج اور پولیس نے مقامی کشمیری نوجوانوں کوغیر ملکی عسکریت پسند قرار دے کر اور عوامی مقامات پر ان کے پوسٹر چسپاں کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک مہم شروع کردی ہے جسے مبصرین ایک سوچا سمجھی حکمت عملی قراردے رہے ہیں ، جس کا واحد مقصد تحریک آزادی کی مقامی شناخت کو مجروح کرنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ۔ بھارتی قابضین کی جانب سے تحریکِ آزادی کشمیر کے مقامی تشخص پر تازہ حملہ دراصل ان کی گہری بوکھلاہٹ، سیاسی دیوالیہ پن اور اخلاقی افلاس کی واضح علامت ہے۔ مئی کی جنگ میں بری شکست، عالمی سطح پر ان کی حقیقتوں کا بے نقاب ہونا اور مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی عوامی بے چینی نے انہیں مکمل طور پر گھیر لیا ہے۔ ڈوڈہ ضلع میں مقامی کشمیری نوجوانوں کو ’’فارن ملی ٹینٹ‘‘ اور ’’پاکستانی کمانڈر‘‘ قرار دے کر پوسٹرز لگانا کوئی نیا حربہ نہیں، بلکہ بھارت کی پرانی، گھسی پٹی اور ناکام حکمت عملی کا تسلسل ہے۔ اس حکمت عملی کے ذریعے وہ کشمیریوں کی جائز، عوامی، سیاسی اور قانونی جدوجہد کو غیر مقامی اور دہشت گردی پر مبنی ثابت کرنے کی ناکام کوششیں کرتا آیا ہے۔یہ پوسٹر مہم ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے جس کا بنیادی ہدف تحریک آزادی کے خالص مقامی کردار کو مسخ کرنا، ریاستی دہشت گردی کو جواز بخشنا، پاکستان کو بدنام کرنا اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنے مظالم پر پردہ ڈالنا ہے۔ داڑھی والے اور بغیر داڑھی کے نوجوانوں کی تصاویر شائع کر کے انہیں ’’غیر ملکی جنگجو‘‘ کہنا، عوام سے مخبری کا مطالبہ کرنا اور سیکورٹی کے نام پر مکانات و دکانیں کرائے پر دینے سے پہلے پیشگی تصدیق جیسے اقدامات دراصل خوف کی نفسیات پیدا کرنے کی کوشش ہیں۔ قابض قوت اسی خوف کے بل بوتے پر اپنی گرفت مضبوط رکھنا چاہتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ خوف پھیلانے کی یہ کاوشیں بھارت کے اپنے خوف زدہ اور بے اعتماد ہونے کا ثبوت دے رہی ہیں۔ بھارت گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے اس جدوجہد کو دہشت گردی، فرقہ واریت یا سرحد پار اسپانسرڈ کا لیبل لگا کر بدنام کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے، مگر ہر بار ناکام رہا۔ 1990 میں کشمیری پنڈتوں کے انخلا سے لے کر آج تک کئی سازشیں، فالس فلیگ آپریشنز، جعلی مقابلے اور ڈرامہ بازیاں کی گئیں، لیکن نہ کشمیریوں کا جذبہ آزادی کمزور ہوا اور نہ ہی مسئلہ کشمیر کی اصل حقیقت — جو کشمیریوں کی اپنی مزاحمت سے قائم ہے — مٹ سکی۔
ڈوڈہ، کشتواڑ، ٹھاٹھری، گندوہ، کٹھوعہ، اُدھم پور، راجوری اور پونچھ میں جاری وسیع تلاشی آپریشنز اور کٹھوعہ میں کنٹرول لائن کے قریب شہری نقل و حرکت پر ساٹھ روزہ پابندی اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ زمینی حقائق مودی سرکار اور اس کے گودی میڈیا کے بیانیے کی نفی کر رہے ہیں۔ اگر اگست 2019 کے بعد واقعی ’’امن کا چمتکار‘‘ ہو چکا ہوتا تو یہ ناکہ بندیاں، گھروں پر چھاپے، اندھا دھند گرفتاریاں اور اجتماعی سزائیں کیوں ہو رہی ہیں؟ اگر کشمیری نوجوان بھارت کے حامی ہو گئے تو ان سے یہ خوف کیوں؟ انہیں غیر ملکی ملی ٹینٹ ظاہر کرنے کی مہم کی ضرورت کیوں؟ اگر عسکریت پسند چند درجن رہ گئے، کمزور ہو گئے اور جنگلوں میں چھپ رہے ہیں تو دس لاکھ فوج کی ضرورت کیوں؟ شہروں اور قصبوں میں دن رات آپریشنز، پورے علاقوں میں دو ماہ تک نقل و حرکت پر پابندیاں کیوں؟ یہ تمام اقدامات بھارت کے جھوٹے بیانیے پر زور دار طمانچہ ہیں۔یہ پوسٹر مہم بھی اسی خوف اور ناکامی کا تسلسل ہے۔ جب ایک قابض ریاست اپنی سیاسی ساکھ، اخلاقی جواز اور عسکری برتری کھو دیتی ہے تو وہ سچ کا سامنا کرنے کے بجائے پروپیگنڈا، لیبلنگ اور نفسیاتی جنگ کا سہارا لیتی ہے۔ مقامی نوجوانوں کو غیر ملکی ثابت کرنے کی کوشش اس حقیقت سے فرار ہے کہ کشمیری عوام بھارت کے تسلط کو مسترد کرتے ہیں اور آزادی کو اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں۔ یہ جدوجہد نہ بندوق کے زور پر پیدا ہوئی اور نہ بندوق سے ختم کی جا سکتی ہے، کیونکہ اس کی بنیاد عوامی خواہش، جذبات، اجتماعی شعور اور تاریخی حقائق پر ہے۔بھارتی قابضین کو سمجھ لینا چاہیے کہ پوسٹرز، اشتہارات، جعلی کہانیاں اور الزامات کسی قوم کی اجتماعی یادداشت اور تاریخی شعور کو مٹا نہیں سکتے۔ کشمیری نوجوانوں کو پاکستانی کمانڈر” کہنے سے وہ غیر کشمیری نہیں بن جاتے، نہ ان کی قربانیاں، دکھ، محرومیاں اور جدوجہد اپنی معنویت کھو دیتی ہیں۔ اصل میں یہ نوجوان اس سرزمین کے وارث ہیں، اسی مٹی میں پیدا ہوئے، جوان ہوئے، بھارتی ستم سہے اور اسی کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔یہ تلخ حقیقت ہے کہ بھارت کی یہ تمام کاوشیں الٹا اس کی کمزوریوں، خوف اور عدم اعتماد کو بے نقاب کر رہی ہیں ۔ مگر بھارت کشمیر میں نہ اخلاقی جواز رکھتا ہے، نہ قانونی، نہ سیاسی قبولیت اور نہ عوامی حمایت۔ان تمام مظالم اور ریاستی دہشت گردی کے باوجود ایک ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ کشمیری عوام سرنگوں نہیں ہوں گے۔ وہ دہائیوں کی جدوجہد میں بارہا یہ ثابت کر چکے ہیں۔ ظلم جتنا بڑھتا ہے، مزاحمت اتنی ہی مضبوط ہوتی ہے۔ کشمیریوں کے دلوں سے آزادی کی خواہش نہ پوسٹر مہمات مٹا سکتی ہیں، نہ تلاشی آپریشنز، نہ پابندیاں اور نہ گولیاں۔ یہ جدوجہد وقت کے ساتھ مزید پختہ، شعوری اور منظم ہو رہی ہے — اور یہی حقیقت بھارتی قابض قوت کو سب سے زیادہ خوف زدہ کر رہی ہے۔بھارتی قابضین ڈرامہ بازیوں سے وقتی طور پر ظلم کا جواز تو تراش سکتے ہیں، مگر نہ اپنی قابض اور ظالم حیثیت بدل سکتے ہیں اور نہ کشمیریوں کی نفرت، مزاحمت اور عزم آزادی کو کمزور کر سکتے ہیں۔ کشمیر کی تحریک آزادی ایک زندہ حقیقت اور زندہ جدوجہد ہے۔ جب تک حق خود ارادیت کا خواب پورا نہیں ہوتا، یہ آواز دبائی نہیں جا سکتی۔ کشمیریوں نے لاکھوں کے خون سے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ ظلم کے آگے نہ جھکیں گے، نہ بکیں گے اور نہ اپنی شناخت اور حق سے دستبردار ہوں گے — چاہے اس راہ میں کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔