بی جے پی حکومت کی طرف سے5 اگست 2019 کو بندوق کی نوک پر دفعہ 370 اور 35A کی غیر قانونی منسوخی کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور مظالم میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے آج جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوج،پیراملٹری سنٹرل ریزرو پولیس فورس، بارڈر سیکیورٹی فورس اور دیگر فورسزنے اس عرصے کے دوران22 خواتین اور 45 بچوں سمیت 1050کشمیریوں کو شہید کیا ہے جن میں سے 287کو جعلی مقابلوں میں یا دوران حراست شہید کیا گیا۔ ممتاز حریت رہنما سید علی گیلانی، محمد اشرف صحرائی، الطاف احمد شاہ اور غلام محمد بٹ بھی اس عرصے کے دوران بھارتی حراست میں انتقال کر گئے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فوج، پیراملٹری فورسز اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال سے 2660افراد زخمی ہوئے جبکہ حریت رہنمائوں، کارکنوں، طلبا، صحافیوں، علمائے دین اور انسانی حقوق کے محافظوں سمیت 33141 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ زیادہ تر گرفتار نوجوانوں کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) جیسے کالے قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فورسز نے 1,168 رہائشی مکانات اور دیگر عمارتوں کو تباہ کیا اور 139 خواتین کی بے حرمتی کی۔رپورٹ میں کہاگیا کہ 05 اگست 2019 سے ہلاکتیں 2011، 2012، 2013، 2014، 2015 اور 2019 میں ریکارڈ کی گئی ہلاکتوں سے زیادہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس غیر قانونی اقدام سے کشمیریوں کی زندگی معاشی، سیاسی اور سماجی طور پر بدحال ہو گئی ہے جس کا مقصد علاقے کی مسلم اکثریتی حیثیت کو تبدیل کرنا ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے گزشتہ ماہ جنوری میں دو کشمیریوں کو شہید اور 62 کو گرفتار کیا۔نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے زیر کنٹرول مقبوضہ جموں وکشمیر کی انتظامیہ نے جنوری میں ایک درجن سے زیادہ کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کرلیں جن میں مکانات اور زمینیں شامل ہیں۔ بی جے پی حکومت کی کشمیر دشمن پالیسیوں کے تحت چھ کشمیری مسلم ملازمین کو ان کی سرکاری ملازمتوں سے معطل کر دیا گیا۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماں نے سرینگر میں ایک اجلاس میں کہا کہ مودی کی زیرقیادت ہندوتوا حکومت کی طرف سے خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاںخطرناک حد تک بڑھ گئی ہیں جن میں قتل وغارت، ماورائے عدالت قتل، بلاجواز گرفتاریاں، تشدد اور املاک کی ضبطی شامل ہے ۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میںکہا کہ اجلاس میں تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا گیا تاکہ بھارتی فورسز کے ہاتھوں کشمیریوں کی نسل کشی کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی مظالم کشمیریوں کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حق خودارادیت کے لیے اپنی منصفانہ جدوجہد ترک کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔
تازہ ترین مظالم کے واقعات میںغیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں بڑے پیمانے پرمحاصرے اورتلاشی کی کارروائی جاری ہے جہاں مسلح تصادم کے بعد قابض حکام نے ڈرون، سراغ رساں کتے اور ہیلی کاپٹر تعینات کردیے ہیں۔
یہ تصادم ہفتہ کی صبح اس وقت شروع ہوا جب بھارتی فوج نے کشتواڑ کے علاقے ڈولگام میں برفباری میں جاری تلاشی کارروائی کے دوران مجاہدین کے ساتھ جھڑپ کا دعوی کیا۔حکام نے بتایا کہ فائرنگ کا ایک مختصر تبادلہ ہوا جس کے بعد آپریشن کو ایک مخصوص مقام تک محدود کر دیا گیااورعلاقے میں اضافی کمک پہنچائی گئی۔فوجی آپریشن جس کا کوڈ نام آپریشن ٹراشی-I ہے، مشترکہ طور پربھارتی فوج کی وائٹ نائٹ کور، پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس اورپولیس نے شروع کیاتھا۔جھڑپ کے بعد پورے علاقے کا سخت محاصرہ کیاگیا، فضائی نگرانی اور زمینی ٹریکنگ کو تیز کیا گیا تھا۔کشتواڑ بھارتی فورسز کی کارروائیوں کا مرکز بناہوا ہے جہاں گزشتہ سات ماہ کے دوران کم از کم چھ مسلح تصادم رپورٹ ہوئے ہیں۔ بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں سے مقامی باشندوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے جنہیں مسلسل خوف، طویل لاک ڈاو جیسے حالات اور محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔آخری اطلاعات آنے تک علاقے میں فوجی آپریشن جاری تھا۔
دوسری جانب امریکہ میں جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین کی ای میلز میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا نام بھی سامنے آ گیا ہے جس پر کانگریس نے کڑی تنقید کی ہے۔بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے بدنام زمانہ ایپسٹین کے ساتھ مودی کے تعلق کو بھارت کے لیے انتہائی شرمناک قرار دے دیا۔کانگریس کا کہنا تھا کہ ایپسٹین نے اپنی ای میل میں واضح لکھا کہ مودی نے اس سے مشورہ لیا اور اسرائیل گئے، وہاں امریکی صدر کے فائدے کے لیے ناچ گانا کیا۔کانگریس کا کہنا تھا کہ یہ قومی وقار، بین الاقوامی ساکھ کا معاملہ ہے اس پر وزیر اعظم مودی کو جواب دہ ہونا چاہیے۔ واضح ہو گیا کہ وزیر اعظم مودی کا جیفری ایپسٹین کے ساتھ بہت گہرا اور پرانا تعلق ہے۔کانگریس نے کہا مودی بتائیں کہ وہ ایپسٹین سے کس قسم کا مشورہ لے رہے تھے؟ اسرائیل میں کیوں ناچے گائے؟ اس سے ٹرمپ کو کیا فائدہ ہوا؟ ایپسٹین فائلز کے مطابق ای میل مودی کے جولائی 2017 کے دورہ اسرائیل کے 3 روز بعد لکھی گئی۔
