Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

بھارت ‘ کالے قوانین اور مسلمانوں کی حالت زار

حقوقِ انسانی کے مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں ایک بار پھر وسیع دہشت گردی کے کالے قوانین اور مبہم الزامات کے ذریعے مسلمانوں کو بدنام کرنے اور آن لائن اظہارِ رائے کو جرم قرار دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بھارتی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) نے پانچ افراد کے خلاف سوشل میڈیا کے ذریعے مبینہ آن لائن انتہا پسندی کے الزامات کے تحت چارج شیٹ دائر کی ہے۔
این آئی اے نے احمد آباد کی خصوصی عدالت میں پانچ مسلمانوں محمد فردین، قریشی صفی اللہ ، محمد فائق، ذیشان علی، اور شمع پروین کے خلاف چارج شیٹ دائر کی جن پر مبینہ طور پر ممنوعہ تنظیموں کے نظریات کو فروغ دینے کا الزام ہے۔ ایجنسی نے اس کیس میں غیرقانونی سرگرمیوں کے روک تھام کے کالے قوانین (UAPA)، بھارتیہ نیائے سنہیتا اور آرمز ایکٹ کے سخت دفعات کا سہارا لیا، حالانکہ مقدمہ زیادہ تر آن لائن پوسٹس اور ڈیجیٹل سرگرمی کے گرد گھومتا ہے۔ این آئی اے کا دعوی ہے کہ ملزمان نے سوشل میڈیا پراشتعال انگیز ویڈیوز، آڈیو، تصاویر اور تحریری مواد شیئر کیے، جسے انتہا پسندی کی حمایت کے مترادف قرار دیا گیا۔تاہم سول سوسائٹی گروپس کا کہنا ہے کہ بھارت اب اظہارِ رائے اور تشدد کے درمیان فرق ختم کر چکا ہے اور سوشل میڈیا پر کی جانے والی سرگرمیوں کو بنیاد بنا کر افراد کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق، چارج شیٹ میں آن لائن پوسٹس، لائکس، کمنٹس اور ڈیجیٹل روابط کی تشریح پر انحصار کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار بھارت کی تحقیقات کرنے والی ایجنسیوں کے لیے گرفتاریوں کو جائز ثابت کرنے اور مقدمات کو سالوں تک طول دینے کا معمول بن چکا ہے۔ ایک حقوقِ انسانی کے وکیل نے کہا کہ زیادہ تر معاملات میں خود قانونی کارروائی ہی سزا بن جاتی ہے اور یو اے پی اے کے تحت بھارت میں سزا کی انتہائی کم شرح اس بات کی واضح دلیل ہے۔
این آئی اے نے الزام لگایا کہ دہلی کے محمد فائق نے بھارتی ریاست پر تنقید سے متعلق پوسٹس شیئر کر کے اہم کردارادا کیا جبکہ دیگر پر مواد کو بڑھاوا دینے یا آن لائن گروپس میں شامل ہونے کے الزامات ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے وسیع اور مبہم الزامات حکام کو بغیر کسی تشدد کے سیاسی، مذہبی یا نظریاتی گفتگو کو جرم ثابت کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
ایجنسی نے کچھ ملزمان سے ڈیجیٹل مواد اور ہتھیار برآمد کرنے کا بھی دعوی کیا ہے، جسے حقوقِ انسانی کے گروپس ناقابلِ تصدیق قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ الزامات کمزور کیسز کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ شمع پروین کے معاملے میں این آئی اے نے ایک پاکستانی شہری سے رابطے اور ممنوعہ لٹریچر رکھنے کے الزامات عائد کیے، جو مسلمانوں کے خلاف غیر ملکی تعلقوالا بیانیہ بنانے کے لیے عام طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارت آن لائن اظہارِ رائے کو دہشت گردی کے مترادف قرار دے کر خاص طور پر مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو بدنام کرنے، خوفزدہ کرنے اور مبالغہ آمیز سیکورٹیکا بیانیہ قائم کرنے کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے، جس سے بنیادی انصاف، آزادی اظہار اور قانونی اصول کھل کر پامال ہو رہے ہیں۔
دوسری طرف بھار ت نے مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کا معاشی قتل عام جاری رکھا ہوا ہے اور بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں مودی حکومت کی جانب سے نام نہاد ترقی کے نام پر کشمیریوں کے معاشی مفادات کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے پلوامہ اور شوپیان اضلاع میں سیب کے کاشتکاروں نے متنازعہ ریلوے منصوبے کے خلاف ایک بار پھر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے اپنی روزی روٹی پر کاری ضرب قرار دیا ہے۔
منصوبے کے لیے سروے کا کام شروع کر دیا گیا ہے اور بھارتی انتظامیہ نے مقامی آبادی سے مشاورت کے بغیر مختلف دیہات میں نشانات اور ستون نصب کر دیے ہیں۔ اس اقدام پر کاشتکاروں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ منصوبہ نئی دہلی کی جانب سے کشمیریوں کے معاشی اور ماحولیاتی مسائل سے لاتعلقی کا عکاس ہے۔
ضلع ترقیاتی کونسل شوپیان کے رکن راجہ عبد الواحد نے کہا کہ مجوزہ ریلوے لائن کی ترتیب سے خطے کے باغبانی شعبے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہااگر یہ منصوبہ نافذ کیا گیا تو پانچ لاکھ سے زائد سیب کے درخت تباہ ہو جائیں گے۔ یہ ریلوے لائن متعدد دیہات سے گزرے گی اور یہاں تک کہ محفوظ چنار کے درختوں کو بھی خطرے میں ڈال دے گی جو کشمیر کے قدرتی اور ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں۔مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کشمیریوں کی فلاح و بہبود پر تباہ کن انفراسٹرکچر منصوبوں کو ترجیح دے رہی ہے۔ پلوامہ سے تعلق رکھنے والے سیب کے کاشتکار غلام احمد وانی نے کہا کہ باغات ہزاروں خاندانوں کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ انہوں نے کہایہی ہمارا واحد ذریعہ آمدن ہے۔ باغات کی تباہی کا مطلب پورے خاندانوں کو معاشی بدحالی کی طرف دھکیلنا ہے۔مودی سرکار کے اس مجوزہ ریلوے منصوبے پر سیاسی حلقوں کی جانب سے بھی تنقید کی جا رہی ہے۔ شوپیان سے رکن اسمبلی شبیر احمد کلی نے اسے خطے کی باغبانی کے لیے ایک آفت قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ کشمیر کی سیب پر مبنی معیشت کو مفلوج کر دے گا جس سے براہِ راست اور بالواسطہ طور پر لاکھوں افراد وابستہ ہیں۔دریں اثنا پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے اس معاملے پر وزیر اعلی عمر عبداللہ کی خاموشی پر تنقید کی اور کہا کہ یہ طرزِ عمل انتظامیہ کی جانب سے کشمیریوں اور ان کے روزگار سے جڑے حقیقی مسائل کے تئیں مسلسل بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں اضلاع کے کاشتکاروں نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کی فوری معطلی اور متاثرہ آبادی سے بامعنی مشاورت تک احتجاج کو جاری رکھیں گے ۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ منصوبہ زبردستی مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کی گئی تو اس کے خلاف سخت مزاحمت کی جائے گی ۔

یہ بھی پڑھیں