Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

چراغ راہ ہیں یہ لوگ

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ، ناجائز، غیر قانونی اور غیر اخلاقی قبضہ آج بھی جاری ہے، مگر اسے ختم کرانے کی جدوجہد آزادی میں لاکھوں کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔ ان خونِ شہیدوں کی بدولت ہی یہ مسئلہ سرد خانوں سے نکل کر عالمی سطح پر ایک زندہ، جاوید اور ناقابلِ فراموش تنازع بن چکا ہے۔ یہ قربانیاں رائیگاں نہیں گئیںیہ آگ ہیں جو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بھڑکتی جا رہی ہیں۔ان عظیم الشان قربانیوں کے اس لامتناہی کارواں میں ترہیگام کپواڑہ کا وہ بہادر سرخیل اور مسلح جدوجہد کا بانی جناب محمد مقبول بٹ سرِ فہرست ہے۔ بھارتی حکمرانوں نے گیارہ فروری انیس سو چورانوے کو بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں اسے تخت دار پر چڑھا کر جیل کے احاطے میں ہی دفن کر دیا۔ یہ فعل ان کے لیے ابدی رسوائی، ذلت اور ندامت کا باعث بنا رہے گا۔مقبول بٹ تخت دار پر چڑھ کر مرا نہیںوہ امر ہو گیا۔ اس نے بھارتی جبر اور ظلم کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے صاف انکار کر دیا اور بہادرانہ موت کو گلے لگا لیا۔ اس کی جلائی ہوئی آزادی کی شمع کبھی نہیں بجھی بلکہ آج بھی روشن ہے۔ اہلِ کشمیر اس شمع کو اپنے خون سے مزید تابناک رکھے ہوئے ہیں۔ بھارتیوں نے ایک مقبول کو پھانسی دے کر سوچا تھا کہ تحریک ختم ہو جائے گی، مگر نتیجہ الٹ نکلامقبوضہ کشمیر میں لاکھوں مقبول پیدا ہو گئے۔ ہر طرف نئے مقبول اٹھے، جنہوں نے اپنی جانیں تحریکِ آزادی پر نچھاور کر دیں۔ یہ ایک سیلِ رواں ہے جو کبھی نہیں تھمتا، نہ رکنے کا نام لیتا ہے۔بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے کی یہ جدوجہد اب چوتھی نسل میں داخل ہو چکی ہے۔ جناب محمد مقبول بٹ محض ایک شخص نہیںایک زندہ استعارہ، ایک ابدی علامت ہیں۔ انہوں نے مکمل شعور اور بھرپور ارادے کے ساتھ جدوجہد میں حصہ لیا، پھر قافل آزادی کے سالار بن گئے۔ گرفتاریاں، جیل کی صعوبتیں، تشدد اور دباکوئی چیز ان کے فولادی عزم کو نہ توڑ سکی۔ ان کے اندر جنونِ آزادی کا وہ شعلہ تھا جو انہیں تہاڑ جیل کے پھندے تک لے گیا۔وہ اعلی تعلیم یافتہ تھے۔ چاہتے تو دنیاوی عہدوں، دولت اور آسائشوں کی زندگی گزار سکتے تھے، مگر انہوں نے ابدی امر ہونے کا راستہ منتخب کیا۔ دنیوی فوائد کو ٹھکرا کر تاریخ میں سنہری حروف سے نام لکھوانا ترجیح دی۔ مشکلات کے پہاڑ ان کے سامنے کھڑے ہوئے، مگر ان کا عزم پتھر کی طرح مضبوط رہا۔بھارتیوں نے انہیں برطانیہ میں بھارتی سفارتکار رویندر مہاترے کے قتل میں ملوث قرار دیاحالانکہ ان کا اس سانحے سے دور کا بھی تعلق نہ تھا۔ یہ سراسر انتقامی کارروائی تھی۔ انہیں معافی مانگنے کی پیشکش کی گئی، مگر انہوں نے پائے حقارت سے ٹھکرا دی۔ پھانسی کا پھندا چوم لیا، مگر بھارتی حکمرانوں کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس طرح انہوں نے نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا کو واضح سبق دیا کہ اعلی نصب العین اور اصولوں کے لیے جان کی بازی لگانا کبھی گھاٹے کا سودا نہیں ہوتا۔ان کی شہادت نے اہلِ کشمیر کو سر اٹھا کر جینے کا سبق سکھایا۔ آج بھی ان کی برسی پر پورے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مکمل ہڑتال ہوتی ہے۔ ترہیگام میں ان کے آبائی گھر کو ہفتوں پہلے سجایا جاتا ہے، جیسے کوئی شادی کا موقع ہو۔ ان کی والدہ شاہ مالی بیگمجو آج کشمیری عوام کی ماں کا درجہ رکھتی ہیںاپنے بیٹے کی شہادت پر فخر کا اظہار کرتی ہیں۔ وہ کئی بار کہہ چکی ہیں کہ اگر دس بیٹے بھی ہوتے تو سب کو مقبول کا ہی راستہ اپنانے کی ترغیب دیتیں۔ ایسی ماں کی موجودگی میں بھارت کبھی کشمیریوں کو تحریک آزادی سے دستبردار نہیں کر سکتا۔ جب تک ایسی مائیں مقبول جیسے پرعزم بیٹوں کو جنم دیتی رہیں گی، دنیا کی کوئی طاقت انہیں حقِ خودارادیت کے مطالبے سے نہیں روک سکتی۔جماعتِ اسلامی کے فلاحی عام ٹرسٹ میں استاد کے طور پر خدمات انجام دینے والا مقبول بٹ آج بھی بھارتی حکمرانوں کے اعصاب خراب کرتا ہے۔ اس کی شہادت کے تیس سال بعد ایک اور عظیم فرزندِ کشمیر محمد افضل گورو نے بھی تہاڑ جیل میں پھانسی کا پھندا چوما۔ نو فروری دو ہزار تیرہ کو جب انہیں آخری چائے پیش کی گئی تو ان کے چہرے پر گھبراہٹ کی بجائے گہرا سکون اور طمانیت تھی۔ جیل ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد نوٹ کیا کہ دل کی دھڑکن معمول کے مطابق تھی، چہرہ ہشاش بشاش تھا۔ وہ خود پھانسی گھاٹ کی طرف چل کر گئیبغیر کسی خوف کے۔تہاڑ جیل کے سابق پبلک ریلیشنز افسر سنیل گپتا نے ایک انٹرویو میں روتے ہوئے اعتراف کیا کہ انہوں نے پوری سروس میں افضل گورو جیسا بہادر شخص نہیں دیکھا۔ وہ جانتے تھے کہ پھانسی آنے والی ہے، مگر نہ گھبراہٹ تھی نہ اضطرابہر ملاقات میں صرف اطمینان اور سکون ہی نظر آیا۔افضل گورو کو تیرہ دسمبر دو ہزار ایک کے نام نہاد بھارتی پارلیمنٹ حملے کے جھوٹے اور من گھڑت کیس میں پھانسی دی گئی۔ بھارتی سپریم کورٹ نے عوامی ضمیر کو مطمئن کرنے کا جواز پیش کیا، جو سراسر سیاسی انتقام اور ناانصافی تھی۔ دنیا بھر کے انصاف پسند اداروں نے بھارتی عدلیہ کا کھلے عام مذاق اڑایا۔ ان کی میت بھی تہاڑ جیل میں دفن کر دی گئی، گھر والوں سے آخری ملاقات تک نہ کروائی گئی۔نو فروری اور گیارہ فروری کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں یومِ سیاہ منایا جاتا ہے۔ دونوں شہدا نے جھوٹے الزامات کی بنیاد پر جان دی، مگر بہادری سے پھندا چوم کر ابدی سکون پا لیا۔ سید صلاح الدین احمد نے کہا کہ یہ دونوں تاریخی دن بھارتی عدلیہ، جمہوریت اور سیکولرازم کے سیاہ ترین باب ہیں۔ ان کی لاشیں تہاڑ میں دفن کر کے بھارتی حکمرانوں نے بہت بڑا جرم کیا، مگر یہ اقدامات تحریک کو دبانے میں مکمل ناکام رہیبلکہ اسے مزید شدت اور عزم بخش دی۔شہدا کا مشن آج بھی جاری ہے اور آزادی کی صبح تک جاری رہے گا۔ تحریکِ آزادی ایک عوامی انقلاب ہے۔ حقِ خودارادیت کا مطالبہ اہلِ کشمیر کا ناقابلِ تنسیخ اور جائز حق ہے۔ بھارت کے جابرانہ، ظالمانہ اور فوجی اقدامات ناکام ہو چکے ہیں۔ آزادی کی صبح ضرور آئے گیکیونکہ خونِ شہدا کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ یہ قربانیاں ہم پر قرض ہیں، جن کی ادائیگی کے لیے جدوجہد کو جاری رکھنا ناگزیر اور لازمی ہے۔ یہی شہدا کے ساتھ سچی وفا، عہد اور وعدہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں