مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالات ایک بار پھر اس سمت جا رہے ہیں جہاں تسلط کی ایک نئی کہانی رقم کی جا رہی ہے ۔ الجزیرہ کی حالیہ رپورٹ نے ایک ایسے عمل کو بے نقاب کیا ہے جس نے کشمیری مسلمانوں میں گہری بے چینی پیدا کر دی ہے۔ مساجد، آئمہ اور مدارس کی جبری پروفائلنگ کا آغاز محض ایک انتظامی قدم نہیں بلکہ ایک بڑے سیاسی اور سماجی رجحان کی علامت محسوس ہوتا ہے۔رپورٹ کے مطابق سری نگر میں رواں ماہ کے آغاز پر پولیس کی جانب سے آئمہ کرام کو چار صفحات پر مشتمل ایک فارم دیا گیا جسے ’’مساجد کی پروفائلنگ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ بظاہر یہ ایک معلوماتی دستاویز ہے، مگر اس میں مانگی جانے والی تفصیلات اس قدر وسیع اور ذاتی نوعیت کی ہیں کہ اسے معمول کی کارروائی قرار دینا مشکل ہے۔ مساجد کی نظریاتی وابستگی، فنڈنگ کے ذرائع، ماہانہ اخراجات اور زمین کی ملکیت تک سوالات محدود نہیں۔ آئمہ اور مؤذن کے موبائل نمبر، ای میل، بینک اکاؤنٹس، پاسپورٹ کی تفصیل، سوشل میڈیا اکاؤنٹس، بیرون ملک رشتہ داروں کی معلومات بلکہ فون کے ماڈل تک پوچھے جا رہے ہیں۔یہ سب کچھ ایک ایسے خطے میں ہو رہا ہے جو پہلے ہی سیاسی بے یقینی، فوجی موجودگی اور سخت قوانین کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ کشمیری شہری محمد نواز خان نے الجزیرہ کو بتایا کہ یہ فارم خوف اور غیر یقینی کیفیت کو بڑھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسی معلومات کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ یہ محض ایک شہری کی رائے نہیں بلکہ ایک اجتماعی احساس ہے جو وادی میں پھیل رہا ہے۔متحدہ مجلس علماء نے اس عمل کو مساجد پر کنٹرول حاصل کرنے اور مسلم کمیونٹی کو کمزور کرنے کی براہ راست کوشش قرار دیا ہے۔ لال بازار سری نگر کے امام میر حافظ ناصر نے حساس معلومات کے بار بار مطالبے کو حق رازداری کی کھلی خلاف ورزی کہا۔ ان کا مؤقف اس بنیادی سوال کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ریاست کو عبادت گاہ کے خادم کی نجی زندگی میں اس حد تک جھانکنے کا اختیار کہاں سے ملتا ہے۔
یہ معاملہ صرف مذہبی آزادی تک محدود نہیں رہتا بلکہ شہری حقوق اور ریاستی طاقت کے استعمال کی حدود کو بھی چیلنج کرتا ہے۔ جب کسی خطے میں لوگوں کو یہ احساس ہونے لگے کہ ان کی عبادت گاہیں بھی نگرانی کے مراکز میں بدل رہی ہیں تو معاشرتی فضا فطری طور پر خوف زدہ ہو جاتی ہے۔ عبادت گاہیں ہمیشہ سے سکون اور روحانی تحفظ کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ اگر وہی جگہ ریاستی نگرانی کی علامت بن جائے تو معاشرے کی نفسیات پر گہرا اثر پڑتا ہے۔محبوبہ مفتی نے اس عمل کو امتیازی قرار دیتے ہوئے ایک اہم سوال اٹھایا کہ کیا ہندو مندروں، سکھ گوردواروں یا گرجا گھروں کے ساتھ بھی یہی سلوک ہو رہا ہے۔ یہ سوال محض سیاسی بیان نہیں بلکہ پالیسی کی غیر جانبداری کا امتحان ہے۔ اگر قانون سب کے لیے برابر نہیں تو پھر ریاستی اقدامات پر شکوک پیدا ہونا فطری امر ہے۔ نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے بھی اس مشق کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ یہ سب کچھ ایک منتخب مقامی حکومت کی رضامندی کے بغیر ہو رہا ہے۔یہ پروفائلنگ 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد کے ماحول میں کی جا رہی ہے۔ اس فیصلے کے بعد نئی دہلی نے علاقے پر براہ راست کنٹرول بڑھایا ہے۔ سیاسی قیادت کی گرفتاریوں، میڈیا پر پابندیوں اور مسلسل سکیورٹی آپریشنز کے بعد اب مذہبی ڈھانچے کی باریک نگرانی ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے۔ سری نگر کی مرکزی جامع مسجد کا طویل عرصہ تک بند رہنا اور جمعہ یا عید کی نمازوں کی اجازت نہ ملنا پہلے ہی مذہبی آزادی کے سوالات کو جنم دے چکا ہے۔ایک سیاسی تجزیہ کار نے الجزیرہ کو بتایا کہ حکام عبادت گاہوں کو نگرانی کے مقامات میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے تو اس کے اثرات محض انتظامی نہیں رہیں گے بلکہ سیاسی ردعمل کو بھی جنم دیں گے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب مذہبی شناخت کو دباؤ کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو ردعمل زیادہ شدید اور دیرپا ہوتا ہے۔ریاست کا مؤقف عموماً سکیورٹی اور انتہاپسندی کے خدشات کے گرد گھومتا ہے۔ یہ دلیل ہر ملک میں پیش کی جاتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اجتماعی نگرانی ہی واحد راستہ ہے؟ اور کیا اس عمل میں شہری آزادیوں اور عزت نفس کو مکمل نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ ایک متنازع خطے میں طاقت کا زیادہ استعمال وقتی خاموشی تو لا سکتا ہے، دلوں کا اطمینان نہیں۔
کشمیر کی صورتحال پہلے ہی پیچیدہ ہے۔ وہاں کے لوگوں کو اگر یہ پیغام ملے کہ ان کی مذہبی قیادت، مساجد اور نجی زندگی مسلسل نگرانی میں ہیں تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلہ مزید بڑھے گا۔ اعتماد کسی بھی تنازع کے حل کی بنیاد ہوتا ہے۔ جب ہر قدم پر شک اور خوف شامل ہو جائے تو سیاسی عمل مزید کمزور ہو جاتا ہے۔یہ وقت سخت اقدامات کے بجائے دانش مندی کا تقاضا کرتا ہے۔ مذہبی اداروں کو شک کی نظر سے دیکھنے کے بجائے انہیں سماجی ہم آہنگی کے پل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مساجد کو اگر کمیونٹی کی رہنمائی، تعلیم اور فلاحی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جائے تو وہ استحکام کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ مگر اگر انہیں صرف نگرانی کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے گا تو وہ ریاست اور عوام کے درمیان ایک نئی دیوار بن جائیں گی۔کشمیر میں امن صرف سکیورٹی اقدامات سے نہیں آئے گا۔ اس کے لیے سیاسی مکالمہ، مقامی نمائندگی کا احترام اور شہری آزادیوں کی ضمانت ضروری ہے۔ مساجد کی پروفائلنگ جیسے اقدامات وقتی کنٹرول تو دے سکتے ہیں، پائیدار حل نہیں۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کیا جائے ، کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دیا جائے ۔
