اسلام آباد: اسلام آباد زلزلہ کے شدید جھٹکوں نے ہفتہ کی شام وفاقی دارالحکومت سمیت پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ زلزلے کے باعث قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی بھی عارضی طور پر متاثر ہوئی اور ارکان احتیاطاً اپنی نشستیں چھوڑ کر اسمبلی ہال سے باہر آ گئے۔
زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد، پشاور، سوات، کوہاٹ، مردان، لوئر دیر، شانگلہ، بشام، چترال، باجوڑ، جنوبی وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ پنجاب کے متعدد شہروں میں بھی لوگوں نے خوف کے باعث گھروں اور دفاتر سے باہر نکل کر کھلے مقامات کا رخ کیا۔
زلزلے کے دوران قومی اسمبلی میں اجلاس جاری تھا۔ اچانک جھٹکے محسوس ہونے پر ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی نے حفاظتی اقدامات کے تحت اجلاس میں پانچ منٹ کا وقفہ کر دیا، جبکہ ارکان اسمبلی احتیاطاً ایوان سے باہر چلے گئے۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.7 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی گہرائی 230 کلومیٹر تھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کا مرکز افغانستان کے علاقے کلفگان کے قریب تھا، جس کی وجہ سے پاکستان کے شمالی اور وسطی علاقوں میں بھی جھٹکے محسوس کیے گئے۔
تاحال کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی سرکاری اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم متعلقہ ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو بھی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گہرائی زیادہ ہونے کی وجہ سے زلزلے کے جھٹکے وسیع علاقے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پرسکون رہیں، افواہوں سے گریز کریں اور صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔

