لاہور: ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی حالیہ قیمتوں میں اضافے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹرز اور پبلک ٹرانسپورٹ آپریٹرز نے کرایوں میں 10 فیصد تک اضافے کا اعلان کر دیا، جس سے پہلے ہی مہنگائی کا سامنا کرنے والے شہریوں پر مزید مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق لاہور سے ملک کے مختلف شہروں کے لیے چلنے والی مسافر گاڑیوں کے کرایوں میں 80 روپے سے لے کر ایک ہزار روپے تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ٹرانسپورٹ کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے آپریشنل اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث کرایوں میں ردوبدل ناگزیر ہو گیا۔
ٹرانسپورٹرز نے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار تبدیلی کے طریقہ کار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ سے کاروباری منصوبہ بندی متاثر ہو رہی ہے اور ٹرانسپورٹ سیکٹر شدید دباؤ کا شکار ہے۔
ٹرانسپورٹ شعبے کے نمائندوں کے مطابق کرایوں میں اضافے کے اثرات صرف مسافروں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل مہنگی ہونے سے روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی رانا محسن نے کہا ہے کہ ٹرانسپورٹرز سے مشاورت کے بعد کم سے کم ممکنہ حد تک کرایوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری طور پر مقرر کردہ نرخوں سے زیادہ کرایہ وصول کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ادھر کراچی میں گڈز ٹرانسپورٹرز الائنس نے بھی مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں 15 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث کاروبار چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے، اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ملک گیر ہڑتال پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔


