Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

کوئی نہ سر اٹھا کے چلے

بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں صحافت کی آزادی ایک بار پھر شدید دباؤ کی زد میں ہے۔ حالیہ دنوں میں آئمہ کرام اور مساجد کی پولیس پروفائلنگ سے متعلق رپورٹس شائع کرنے والے صحافیوں کو تھانوں میں طلب کیے جانے اور ان سے حلف ناموں پر دستخط لینے کے واقعات نے نہ صرف مقامی سطح پر تشویش پیدا کی ہے بلکہ بین الاقوامی صحافتی تنظیموں کی طرف سے بھی اس پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ یہ پیش رفت اس وسیع تر ماحول کی عکاسی کرتی ہے جس میں کشمیری صحافی گزشتہ کئی برسوں سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
جرمن خبر رساں ادارے ”ڈی ڈبلیو“ کی ایک رپورٹ کے مطابق صحافیوں کی طلبی اور ان سے حلف ناموں پر دستخط لینے کے اقدامات کی کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے)، ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا، پریس کلب آف انڈیا، کشمیر پریس کلب، دہلی یونین آف جرنلسٹس اور دیگر متعدد صحافتی تنظیموں نے شدید مذمت کی ہے۔ ان تنظیموں نے صحافیوں کے خلاف دھمکیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ جمہوری نظام میں ایسے غیر معمولی اقدامات کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔دہلی یونین آف جرنلسٹس کی صدر سجاتا مدھوک نے اس حوالے سے اپنے ردعمل میں کہا کہ پولیس کی جانب سے صحافیوں کو ان کی رپورٹوں پر طلب کرنا اور انہیں دھمکانا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کو محض اپنا پیشہ ورانہ فریضہ انجام دینے کی وجہ سے نشانہ بنانا بند کیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے ایڈیٹرز اور میڈیا مالکان پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہوں اور ان کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔اسی طرح پریس کلب آف انڈیا کی صدر سنگیتا بروا پشروتی نے پولیس کے اقدامات کو صحافیوں کے بنیادی فرائض میں صریح مداخلت قرار دیا۔ ان کے مطابق صحافیوں کو کئی کئی گھنٹے تھانوں میں بٹھانا اور ان سے بانڈ پر دستخط کروانے کی کوشش واضح طور پر ہراسانی کے مترادف ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ایسے اقدامات معاشرے میں خوف کا ماحول پیدا کرتے ہیں اور صحافیوں کے آزادانہ طور پر کام کرنے کے آئینی حق کو متاثر کرتے ہیں۔صحافتی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ صحافیوں کی ہراسانی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ میڈیا سے وابستہ افراد اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دیتے ہوئے کسی غیر معقول پولیس کارروائی کا شکار نہ ہوں۔
ان واقعات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ معروف اخبار ”انڈین ایکسپریس“ نے اپنے سری نگر بیورو کے صحافی اور اسسٹنٹ ایڈیٹر بشارت مسعود کو درپیش ہراسانی کی تفصیلات نمایاں طور پر شائع کیں۔ رپورٹ کے مطابق بشارت مسعود کو مسلسل چار دن تک شہر کے سائبر پولیس اسٹیشن طلب کیا گیا اور ان سے ایک بانڈ پر دستخط کرنے کو کہا گیا۔ تاہم انہوں نے اس بانڈ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پولیس نے انہیں طلب کرنے کی کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی، البتہ ایک افسر نے غیر رسمی طور پر کہا کہ انہیں ان کی ایک خبر کی اشاعت کے بعد بلایا گیا تھا۔اسی نوعیت کا ایک اور واقعہ ”ہندوستان ٹائمز“ کے رپورٹر عاشق حسین کے ساتھ پیش آیا جنہیں زبانی طور پر طلبی کا پیغام دیا گیا۔ اخبار کے مطابق ادارے نے تحریری طلبی اور اس کی وجوہات طلب کیں تاکہ مناسب جواب دیا جا سکے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صحافتی ادارے بھی اس معاملے میں قانونی اور پیشہ ورانہ اصولوں کے تحفظ کے لیے متحرک ہیں۔خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق دو دیگر صحافیوں کو بھی طلب کیا گیا تھا، تاہم ان میں سے ایک اس وقت سفر میں تھے جبکہ دوسرے نے تھانے جانے سے گریز کیا۔ حساس صورتحال کے پیش نظر ان صحافیوں نے اپنی شناخت ظاہر کرنے سے انکار کیا، جو خود اس ماحول میں موجود خوف اور عدم تحفظ کی نشاندہی کرتا ہے۔کشمیری صحافیوں کے مطابق یہ صورت حال کوئی نئی نہیں بلکہ گزشتہ چھ برسوں سے مسلسل جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے ساتھ ساتھ ان کے خاندانوں کو بھی شدید نفسیاتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس دباؤ کے نتیجے میں بہت سے صحافی خود ساختہ سنسرشپ اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، کیونکہ وہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی سلامتی کے حوالے سے خدشات رکھتے ہیں۔کشمیر کے متعدد صحافی، جنہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ اب جا کر عالمی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اس بار معاملہ اس لیے نمایاں ہوا کیونکہ وادی کے چند معروف اور سینئر صحافیوں کو طلب کیا گیا، جبکہ فری لانسر صحافی طویل عرصے سے اسی نوعیت کے حالات کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کی مشکلات پر کم ہی توجہ دی جاتی ہے۔صحافیوں کا کہنا ہے کہ اگر معمولی نوعیت کی رپورٹس پر بھی انہیں طلب کیا جاتا ہے تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کسی سنجیدہ تحقیقاتی رپورٹ پر کام کرنے کی صورت میں انہیں کس قدر خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحافتی برادری میں خوف کی فضا قائم ہے اور تحقیقاتی صحافت شدید متاثر ہو رہی ہے۔نیوز پورٹل ”نیوز لانڈری“ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً 25 کشمیری صحافیوں کو دھمکیوں اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اگست 2019 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے کے بعد سے صحافت پر دباؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس عرصے کے دوران کچھ صحافیوں کو جیلوں میں رکھا گیا، بعض اب بھی قید ہیں، کئی کو بیرون ملک یا ریاست سے باہر سفر پر پابندیوں کا سامنا ہے، جبکہ کچھ افراد خوف کے باعث صحافت کا پیشہ ہی چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔
یہ صورتحال نہ صرف صحافت بلکہ جمہوری اقدار کے لیے بھی ایک سنجیدہ چیلنج ہے۔ آزاد میڈیا کسی بھی جمہوری معاشرے کا بنیادی ستون ہوتا ہے، اور جب صحافیوں کو اپنے فرائض انجام دینے سے روکا جائے یا انہیں ہراساں کیا جائے تو اس کا براہ راست اثر عوام کے حق معلومات پر پڑتا ہے۔کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے ایشیا پیسیفک پروگرام کے کوآرڈینیٹر کونال مجمدار نے بھی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صحافیوں کی ہراسانی بند کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ میڈیا سے وابستہ افراد کو اپنے کام کے دوران کسی غیر معقول کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان کے مطابق ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحافت کے لیے محفوظ ماحول فراہم کریں تاکہ معلومات کی آزادانہ ترسیل ممکن ہو سکے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال اس وسیع تر سوال کو بھی جنم دیتی ہے کہ ریاستی طاقت اور اظہار رائے کی آزادی کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔ کسی بھی معاشرے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار اہم ہوتا ہے، لیکن اس کردار کو بنیادی انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔صحافت کا بنیادی مقصد حقائق کو سامنے لانا اور عوام کو باخبر رکھنا ہے۔ اگر صحافیوں کو ان کی رپورٹنگ کے باعث طلب کیا جائے، ان سے حلف نامے لیے جائیں یا انہیں ذہنی دباؤ کا شکار بنایا جائے تو یہ نہ صرف صحافت بلکہ انصاف اور شفافیت کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں