یہ ڈیجیٹل دور کا سب سے گھناؤنا جرم ہے کہ ایک ملک، جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا جھوٹا تاج پہنتا پھرتا ہے، دراصل انٹرنیٹ کا قاتل بن چکا ہے۔ بھارت نے انٹرنیٹ کو ایک خونریز ہتھیار بنا لیا ہے — ایک ایسا ہتھیار جو بغیر گولی چلائے لاکھوں کشمیریوں کی آوازیں گلا گھونٹ دیتا ہے، ان کی تعلیم چھین لیتا ہے، صحت برباد کر دیتا ہے، کاروبار تباہ کر دیتا ہے اور انہیں ایک ڈیجیٹل قبرستان میں زندہ دفن کر دیتا ہے۔ یہ کوئی تکنیکی خرابی نہیں، بلکہ ریاست کی طرف سے منظم ڈیجیٹل دہشتگردی ہے۔حالیہ اعداد و شمار اس وحشیانہ حقیقت کو خون میں لتھڑے ہوئے سامنے لاتے ہیں۔ عالمی ادارے ایکسیز نائو اور کیپ اٹ آن کی رپورٹس کے مطابق، 2016 سے اب تک دنیا بھر میں ریکارڈ ہونے والی ہزاروں انٹرنیٹ بندشوں میں سے 920 سے زائد صرف بھارت میں ہوئیں — یعنی عالمی کل کا تقریباً نصف ۔2018 میں اکیلا بھارت 134 بار انٹرنیٹ بند کر چکا تھا، جو اس وقت دنیا کا ریکارڈ تھا۔ 2012 سے 2017 تک بھارت میں انٹرنیٹ بندشوں کا کل دورانیہ 16,315 گھنٹے (تقریباً دو سال سے زیادہ) تک پہنچ گیا، جس سے معیشت کو 3 ارب ڈالر سے زائد کا براہ راست خونریزی نقصان ہوا۔ یہ محض پیسے نہیں، بلکہ لاکھوں غریب خاندانوں کی بھوکی راتیں، طلبہ کی تباہ شدہ تقدیریں اور کاروباریوں کے جلتے ہوئے خواب ہیں۔سب سے زیادہ دل دہلا دینے والا اور شرمناک پہلو یہ ہے کہ ان تمام بندشوں کا تقریباً 47 فیصد حصہ صرف مقبوضہ جموں و کشمیر پر مرتکز رہا۔ ایک چھوٹے سے خطے کو دانستہ طور پر مکمل ڈیجیٹل اندھیرے میں دھکیلنے کی یہ وحشیانہ پالیسی کوئی اتفاق نہیں، بلکہ بھارتی ریاست کی منظم سازش ہے۔ کشمیر، جو پہلے ہی فوجی جوتوں تلے کچلا جا رہا ہے، وہاں انٹرنیٹ کی بار بار بندش نے اسے ایک زندہ جیل سے بھی بدتر بنا دیا ہے۔ 2016 میں برہان وانی کی شہادت کے بعد نافذ ہونے والی 203 دن کی مسلسل انٹرنیٹ بندش تاریخ کی طویل ترین ڈیجیٹل سزا میں شمار ہوتی ہے۔ اس دوران سکول بند، ہسپتال بے بس، بینک مفلوج اور کاروبار برباد — سب کچھ ایک مکمل معاشی اور انسانی تباہی کا شکار ہو گیا۔ بچے آن لائن تعلیم سے محروم رہے، مریض ڈاکٹروں تک نہ پہنچ سکے، اور تاجر اپنی روزی روٹی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ بندش “امن” کے بہانے نہیں، بلکہ عوامی غم و غصے کو کچلنے اور حقائق کو دنیا سے چھپانے کے لیے تھی۔یہ جبر یہیں ختم نہیں ہوا۔ 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد کشمیر میں لگ بھگ 18 ماہ (213 دن سے زائد) تک مکمل کمیونیکیشن بلیک آؤٹ نافذ رہا — جو کسی بھی جعلی جمہوریت میں اب تک کی سب سے لمبی اور وحشیانہ بندش تھی۔ اس دور میں کشمیریوں کو نہ صرف انٹرنیٹ سے محروم رکھا گیا بلکہ لینڈ لائن اور موبائل سروسز بھی شدید پابندیوں کا شکار رہیں۔ نتیجہ؟ لاکھوں لوگ نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، معاشی نقصان اربوں میں پہنچا، تعلیم اور صحت کے شعبے مکمل طور پر مفلوج ہو گئے۔ بھارتی حکومت نے اسے “قومی سلامتی” کا نام دیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اختلاف رائے کو گلا گھونٹنے، مظاہروں کو روکنے اور عالمی میڈیا تک کشمیر کے خونریزی حقائق کی رسائی بند کرنے کی ایک سردارانیہ سازش تھی۔مزید غصہ دلانے والی بات یہ کہ یہ بندشیں اکثر پرامن اور مذہبی مواقع پر عائد کی جاتی ہیں — تہواروں، جلوسوں اور احتجاج کے دوران۔ جہاں بھارتی حکام “افواہوں” کا
ڈھونگ رچاتے ہیں، وہاں حقیقت یہ ہے کہ بندش کے بعد تشدد بڑھ جاتا ہے کیونکہ لوگ بے بس ہو کر سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ یہ انویزیبلٹی کلوک کی مانند کام کرتا ہے — ریاست کی ظالمانہ کارروائیوں کو چھپاتا ہے جبکہ متاثرین کو مزید تنہا، غصے سے بھرا اور انتقام پر آمادہ کر دیتا ہے۔ڈیجیٹل دور میں انٹرنیٹ بنیادی انسانی حق ہے۔ اقوام متحدہ سمیت دنیا بھر کے ادارے اسے آزادی اظہار، معلومات تک رسائی اور معاشی ترقی کا ستون مانتے ہیں۔ مگر بھارت جیسا جعلی جمہوریت کا دعویدار اس حق کو بار بار پامال کر کے ثابت کر رہا ہے کہ اس کی جمہوریت صرف انتخابی تماشہ ہے — جہاں ووٹ تو لیتے ہیں مگر آواز چھین لیتے ہیں۔ کشمیر میں بار بار مواصلاتی بلیک آؤٹ نہ صرف ڈیجیٹل حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی حقوق کی بھی وحشیانہ دھجیاں اڑانا ہے۔ان کی کہانیاں دنیا تک نہیں پہنچتیں اور وہ تنہائی کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔عالمی برادری کا دوغلا معیار اس ڈیجیٹل جبر کو مزید شرمناک بنا رہا ہے۔ اگر ایسا ہی ظلم کسی یورپی یا امریکی خطے میں ہوتا تو اقوام متحدہ شور مچا دیتی، پابندیاں لگ جاتیں اور میڈیا دن رات کوریج کرتا۔ مگر جب کشمیر ڈیجیٹل تاریکی میں ڈوبا تو دنیا نے آنکھیں بند کر لیں۔ یہ خاموشی متاثرین میں شدید مایوسی، غصہ اور نفرت پیدا کر رہی ہے اور عالمی انصاف کے نظام کو مذاق بنا رہی ہے۔آج کا ڈیجیٹل دور کوئی مذاق نہیں۔ انٹرنیٹ کی بندش اب محض “انتظامی اقدام” نہیں رہی — یہ ریاست کی طرف سے عوام پر کھلی ڈیجیٹل جنگ ہے۔ یہ موجودہ نسل کی تعلیم، صحت اور روزگار چھین رہی ہے تو آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی مسخ کر رہی ہے۔ کشمیر کے بچے جو برسوں سے انٹرنیٹ سے محروم ہیں۔ اس ڈیجیٹل دہشتگردی کا سخت بھارت کا جمہوریت کا دعویٰ صرف ایک بے شرم مذاق ہی رہے گا۔