Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

کشمیر میں جعلی امن کی آڑ میں قتل عام

جب تاریخِ ظلم کے صفحات کھلتے ہیں تو ان پر سب سے گہرے داغ وہ ہوتے ہیں جو آزادی کی آواز کو خاموش کرنے کے لیے لگائے جاتے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر آج بھی ایک ایسا کھلا زخم ہے جس سے بھارتی فوج کا خونریز پنجہ مسلسل ٹپک رہا ہے۔ 2021 سے 2025 تک کے پانچ سالوں میں، جہاں بھارتی حکومت نے پارلیمنٹ میں صرف 8 حراستی اموات کا اعتراف کیا، وہیں کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) نے ایک ایسا خون آلود حساب پیش کیا ہے جو نہ صرف اعداد و شمار کا فرق بتاتا ہے بلکہ بھارت کی جھوٹی انسانیت اور سفاکیت کا آئینہ بھی۔ 249 کشمیری نوجوان، بچے اور بزرگوں کو دورانِ حراست اور جعلی مقابلوں میں شہید کر دیا گیا۔ یہ صرف اعداد نہیں، یہ وہ لاشوں کا ڈھیر ہے جو آزادی کی راہ میں بھارتی فوجیوں کے بوتوں تلے کچلا گیا۔ یہ وہ آوازیں ہیں جو گولیوں کی گونج میں دب گئیں، وہ آنسو جو نہروں کی طرح بہہ نکلے مگر بھارتی میڈیا نے انہیں دہشت گردی کا لیبل لگا کر چھپا دیا۔تصور کیجیے ایک ایسے خطے کو جہاں ہر صبح آزادی کی پکار اٹھتی ہے اور ہر شام بھارتی فورسز کی گولیاں اس پکار کو لہو میں ڈبو دیتی ہیں۔ 2021 میں 65 کشمیری شہید ہوئے۔ یہ وہ سال تھا جب بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ سب کچھ نارمل ہے۔ نارمل! کیا نارمل ہے کہ 65 انسانی جانیں، 65 خواب، 65 ماں باپ کی آنکھوں کا نور ایک سال میں جعلی انکاؤنٹروں کی بھٹی میں جھونک دیا جائے؟ یہ وہ جعلی مقابلے تھے جن میں بے گناہ نوجوانوں کو “دہشت گرد” بنا کر گولی مار دی جاتی تھی اور پھر ان کی لاشیں میڈیا کو دکھا کر کامیابی” کا جھنڈا لہرایا جاتا تھا۔ 2022 میں یہ سلسلہ جاری رہا۔ 59 مزید شہادتیں۔ ابھی تک بھارتی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیا نند رائے لوک سبھا میں کھڑے ہو کر صرف 8 اموات کا ذکر کر رہے تھے۔ کیا یہ صرف جھوٹ ہے یا انسانیت کے قتل کا منظم منصوبہ؟ 2023 میں 41، 2024 میں 50 اور 2025 میں 34۔ یہ اعداد و شمار کوئی اتفاق نہیں، یہ ایک سوچے سمجھے قتلِ عام کا ریکارڈ ہے۔
پانچ سالوں میں 249 لاشیں۔ کیا یہ صرف کشمیریوں کا خون ہے؟ نہیں، یہ بھارت کی وہ سفاکیت ہے جو نسل در نسل کشمیریوں کی نسلوں کو کچلنے پر تلی ہوئی ہے۔بھارتی نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی) کا کردار تو اس میں سب سے زیادہ شرمناک ہے۔ 2021-22، 2022-23، 2023-24 اور 2024-25 کے ہر سال صرف 2، 2 حراستی اموات کا ریکارڈ۔ 15 مارچ 2025 تک کوئی اضافی موت نہیں! کیا یہ کمیشن انسانی حقوق کا محافظ ہے یا بھارتی فوج کا جاسوس؟ کے ایم ایس کی رپورٹ صاف بتاتی ہے کہ این ایچ آر سی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو چھپانے کا آلہ کار ہے۔ یہ وہی کمیشن ہے جو بھارتی فورسز کے تشدد کو “قومی سلامتی” کا نام دے کر سفید پوشی کرتا ہے۔ جب کشمیری ماں اپنے بیٹے کی لاش کو گلے لگا کر روتی ہے تو این ایچ آر سی کے فائلوں میں صرف ” لکھا ہوتا ہے۔ یہ 2 نہیں، یہ ہزاروں کی آواز کا گلا گھونٹنے والا جھوٹ ہے۔اور پھر وہ جیلوں کا منظر۔ 5000 سے زائد کشمیری، جن میں خواتین بھی شامل ہیں، آج بھی مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارتی جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے سڑ رہے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 3200 پر “آزادی پسند سرگرمیوں” کے الزامات ہیں۔ کون سے الزامات؟ وہ الزامات جو بھارت کے کالے قوانین پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) اور ان لاء فل ایکٹیویٹیز پریونشن ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت لگائے جاتے ہیں۔ یہ قوانین اس قدر سیاہ ہیں کہ ایک شخص کو بغیر مقدمے، بغیر ثبوت، سالوں قید میں رکھا جا سکتا ہے۔ ایک خاتون جو صرف اپنے بھائی کی شہادت پر آواز اٹھاتی ہے، اسے پی ایس اے کے تحت بند کر دیا جاتا ہے۔ ایک طالب علم جو آزاد کشمیر کا نعرہ لگاتا ہے، اس پر یو اے پی اے کا کیس بنا دیا جاتا ہے۔ یہ کوئی قانون نہیں، یہ انسانی حقوق کا قتلِ عام ہے۔ بھارتی فورسز کو آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ (اے ایف ایس پی اے) کے تحت مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔ وہ جہاں چاہیں گولی چلا سکتے ہیں، جہاں چاہیں تشدد کر سکتے ہیں، اور کوئی عدالت، کوئی کمیشن ان سے پوچھ گچھ نہیں کر سکتا۔ یہ استثنیٰ نہیں، یہ انسانیت کے خلاف کھلا جنگ کا پروانہ ہے۔ادب کی زبان میں کہیں تو کشمیر آج ایک ایسا شاعر ہے جس کے ہر شعر میں خون ہے، ہر غزل میں آنسو۔ وہ ماں جو اپنے بیٹے کی قبر پر بیٹھی ہے، وہ بچہ جو باپ کی یاد میں راتوں کو جاگتا ہے، وہ نوجوان جو جیل کی سلاخوں سے باہر آزادی کا خواب دیکھتا ہے۔
بھارت ان سب کو دہشت گرد کہتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت خود ایک دہشت گرد ریاست ہے۔ 2021 سے 2025 تک کا یہ 249 کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ آزادی کی آواز کو دبانے کے لیے بھارت کس قدر بے رحم ہو چکا ہے۔ یہ وہ بھارت ہے جو دنیا کو “سب سے بڑا جمہوریت” کہتا ہے مگر کشمیر میں فوجی حکمرانی چلاتا ہے۔ یہ وہ بھارت ہے جو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو پاؤں تلے روندتا ہے اور پھر عالمی فورمز پر انسانی حقوق کی لیکچر دیتا ہے۔یہ ظلم صرف اعداد کا نہیں، یہ ایک نسل کشی کا منصوبہ ہے۔ بھارتی فوج کے جوانوں کو فائرنگ کی تربیت دی جاتی ہے، کشمیری نوجوانوں کو مشکوک قرار دے کر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جعلی مقابلوں میں لاشیں رکھی جاتی ہیں، پھر پریس کانفرنس میں کامیابی کا ڈھول پیٹا جاتا ہے۔ کے ایم ایس کی رپورٹ اس حقیقت کو عیاں کرتی ہے کہ بھارت کشمیریوں کو آزادی کے مطالبے کی پاداش میں نشانہ بنا رہا ہے۔ 5000 قیدی، 3200 پر جھوٹے الزامات، اور اے ایف ایس پی اے کا ڈھال۔ یہ سب مل کر ایک ایسا نظام بناتے ہیں جو کشمیر کو قبرستان بنا رہا ہے۔لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کی عمر لمبی نہیں ہوتی۔ کشمیریوں کا خون بے سود نہیں جائے گا۔ وہ 249 شہداء آج بھی کشمیر کی وادیوں میں گونج رہے ہیں۔ وہ ماں جو اپنے بیٹے کی لاش دیکھ کر چلائی تھی، وہ آواز آج بھی فضا میں ہے۔ بھارت چاہے جتنا جھوٹ بولے، این ایچ آر سی چاہے جتنا ڈیٹا چھپائے، دنیا ایک دن یہ خون آلود ریکارڈ دیکھے گی۔ کشمیر آزاد ہو گا، کیونکہ آزادی کی آگ کو گولیوں سے نہیں بجھایا جا سکتا۔یہ کالم کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ یہ صرف الفاظ نہیں، یہ لہو کی کہانی ہے۔ بھارت کا یہ چہرہ دنیا کے سامنے لانا ضروری ہے تاکہ ظلم کا یہ سلسلہ رکے۔ کشمیر کی آزادی تک یہ آواز اٹھتی رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں