Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

مودی تباہی کا دیوتا

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاست آج پورے بھارت کو خوف، نفرت اور عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔ ہندوتوا نظریے کے نام پر جو سیاست گزشتہ چند برسوں میں بھارت پر مسلط کی گئی، اس نے نہ صرف بھارتی معاشرے کو تقسیم کیا بلکہ پورے خطے کے امن کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ پنجاب میں حالیہ دنوں ہونے والے دو دھماکوں نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا بھارت میں انتخابات جیتنے کے لیے خوف اور دہشت کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے؟ پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان نے کھلے الفاظ میں بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ انتخابات سے پہلے بدامنی، فسادات اور دھماکوں کا ماحول پیدا کرنا اس جماعت کی پرانی حکمت عملی ہے۔ ان کا یہ بیان بھارت کی سیاست کے ایک خوفناک رخ کی نشاندہی کرتا ہے۔
پنجاب میں ایک دھماکہ جالندھر میں بارڈر سیکیورٹی فورس کے ہیڈکوارٹر کے قریب ہوا جبکہ دوسرا امرتسر کی خاصہ چھاؤنی کے نزدیک پیش آیا۔ یہ دونوں علاقے انتہائی حساس سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے مقامات پر دھماکے ہونا محض اتفاق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان واقعات نے پورے بھارت میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی۔ بھگونت مان نے واضح الفاظ میں کہا کہ بی جے پی جہاں بھی انتخابات لڑتی ہے وہاں پہلے مذہبی تقسیم، خوف اور انتشار کی فضا پیدا کی جاتی ہے تاکہ ووٹرز کو جذباتی طور پر متاثر کیا جا سکے۔ ان کے مطابق مغربی بنگال کے بعد اب پنجاب بی جے پی کی دہشت گردی کا اگلا اکھاڑہ ہے ۔
بھارت کی حالیہ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ الزام مکمل طور پر بے بنیاد بھی محسوس نہیں ہوتا۔ 2002 کے گجرات فسادات سے لے کر مختلف دہشت گرد حملوں تک ایک مخصوص سیاسی پیٹرن واضح دکھائی دیتا ہے۔ ہر بڑے واقعے کے بعد بی جے پی نے قومی سلامتی، مذہبی جذبات اور پاکستان دشمنی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ پلوامہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی فضا اس کی واضح مثال تھی، جہاں پورے بھارت میں جنگی جنون کو ابھار کر انتخابات میں سیاسی فائدہ حاصل کیا گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی سیاست اب ترقی، معیشت یا عوامی فلاح کے بجائے خوف، نفرت اور انتہا پسندی کے گرد گھومتی ہے۔
مودی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کے سیکولر تشخص کو شدید نقصان پہنچایا۔ مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں اور دلت طبقات کے خلاف نفرت انگیز مہمات میں اضافہ ہوا۔ گائے کے نام پر ہجوم کے ہاتھوں قتل، مساجد پر حملے، مذہبی جلوسوں کے دوران تشدد اور اقلیتوں کے خلاف نفرت آمیز بیانات اب معمول بنتے جا رہے ہیں۔ مودی حکومت نے نہ صرف ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی کی بلکہ اکثر مواقع پر خاموشی اختیار کر کے انہیں مزید طاقت دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھارت میں اقلیتیں خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ، شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور کسان مخالف قوانین جیسے اقدامات نے بھی بھارتی معاشرے میں شدید تقسیم پیدا کی۔ کسان تحریک کے دوران پنجاب نے بی جے پی حکومت کے خلاف بھرپور مزاحمت کی۔ لاکھوں کسانوں نے دہلی کا رخ کیا اور کئی ماہ تک احتجاج جاری رکھا۔ اس تحریک نے مودی حکومت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔ پنجاب کے عوام آج بھی بی جے پی کی پالیسیوں پر شدید غصے میں ہیں۔ ایسے میں اگر ریاست میں اچانک دھماکوں اور خوف کی فضا پیدا ہوتی ہے تو سوالات اٹھنا فطری بات ہے۔ بھارت اس وقت سنگین معاشی بحران سے بھی دوچار ہے۔ بے روزگاری عروج پر ہے، مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، کسان بدحال ہیں اور نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ مودی حکومت ان مسائل کا حل پیش کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہوتی ہے تو مذہبی قوم پرستی اور سکیورٹی کا بیانیہ زیادہ شدت سے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا دی جائے۔بھارتی میڈیا کا ایک بڑا حصہ بھی اس سیاسی کھیل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ کئی ٹی وی چینلز مسلسل نفرت انگیز مباحث، جنگی ماحول اور مذہبی اشتعال انگیزی کو فروغ دیتے ہیں۔ مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف نفرت کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے جیسے یہی بھارت کے تمام مسائل کا حل ہو۔ اس زہریلے پروپیگنڈے نے بھارتی سماج کو شدید تقسیم کر دیا ہے۔ اختلاف رائے رکھنے والوں کو غدار، ملک دشمن یا دہشت گرد قرار دینا معمول بنتا جا رہا ہے۔
پنجاب کی صورتحال اس لیے بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ ریاست ماضی میں دہشت گردی اور شورش کا تلخ تجربہ دیکھ چکی ہے۔ 1980 اور 1990 کی دہائی میں پنجاب خونریزی، انتہا پسندی اور ریاستی آپریشنز کی لپیٹ میں رہا۔ ہزاروں لوگ مارے گئے اور پورا خطہ عدم استحکام کا شکار رہا۔ پنجاب کے عوام دوبارہ اس دور میں واپس نہیں جانا چاہتے۔ مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بی جے پی سیاسی فائدے کے لیے ایک بار پھر اسی خوفناک ماحول کو زندہ کرنا چاہتی ہے۔مودی حکومت کے حامی انہیں ایک طاقتور رہنما قرار دیتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کی سیاست نے بھارت کو اندرونی طور پر کمزور کیا ہے۔ معیشت سست روی کا شکار ہے، سماجی ہم آہنگی تباہ ہو چکی ہے اور ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد کمزور پڑ رہا ہے۔ نفرت اور تقسیم پر قائم سیاست کبھی بھی کسی ملک کو مضبوط نہیں بنا سکتی۔ اگر ایک حکومت اقتدار کے لیے اپنے ہی شہریوں کے خوف اور خون کو استعمال کرے تو یہ جمہوریت نہیں بلکہ سیاسی دہشت گردی کہلائے گی۔پنجاب کے حالیہ دھماکوں کی تحقیقات ابھی جاری ہیں، مگر ایک بات واضح ہے کہ بھارت کی سیاست شدید عدم اعتماد کا شکار ہو چکی ہے۔ ہر واقعہ فوری طور پر سیاسی جنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ عوام کے ذہنوں میں یہ سوالات اس لیے جنم لیتے ہیں کیونکہ ماضی میں نفرت اور خوف کی سیاست بارہا استعمال ہو چکی ہے۔ بھگونت مان کے الزامات اسی پس منظر میں اہمیت رکھتے ہیں۔
اصل خطرہ یہ ہے کہ اگر بھارت میں سیاست کا محور مسلسل مذہبی نفرت، دہشت اور خوف ہی رہا تو اس کے نتائج صرف بھارت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا جنوبی ایشیا عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ مودی کی ہندوتوا سیاست آج بھارت کو ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں جمہوریت، رواداری اور انسانی حقوق دم توڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ اقتدار کی ہوس میں اگر پورے معاشرے کو نفرت کی آگ میں جھونک دیا جائے تو انجام تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بہت سے لوگ مودی کو ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ تباہی کا دیوتا قرار دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں