Search
Close this search box.
پیر ,22 جون ,2026ء

لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

بھارت آج جس راستے پر چل پڑا ہے، وہ صرف ایک ملک کی سیاسی تبدیلی کی کہانی نہیں بلکہ ایک ایسی خطرناک فسطائی سوچ کا عروج ہے جو جمہوریت، سیکولرازم، مذہبی آزادی اور انسانی مساوات کے تمام دعوؤں کو روندتی ہوئی آگے بڑھ رہی ہے۔ دنیا کے سامنے خود کو “سب سے بڑی جمہوریت” کہنے والا بھارت درحقیقت ایک ایسی ریاست میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے جہاں مسلمان ہونا جرم، داڑھی رکھنا شبہ، اذان دینا اشتعال انگیزی اور اپنے مذہبی شعائر ادا کرنا بغاوت سمجھا جانے لگا ہے۔ ہندوتوا کی انتہاء پسند سوچ نے بھارت کی سیاسی، عدالتی، سماجی اور میڈیا ساخت کو اس حد تک متاثر کر دیا ہے کہ اب پورا نظام ایک مخصوص مذہبی اکثریت کی بالادستی اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی تذلیل کیلئے استعمال ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اس ظلم، تعصب اور نفرت کی سب سے بھیانک تصویر مقبوضہ جموں و کشمیر میں نظر آتی ہے جہاں گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے سے ایک پوری قوم اپنے وجود، شناخت، ایمان اور آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر آج دنیا کے ان چند خطوں میں شامل ہے جہاں انسانی حقوق کی پامالیاں روزمرہ معمول کا حصہ بن چکی ہیں۔ لاکھوں بھارتی فوجیوں کی موجودگی نے اس خوبصورت سرزمین کو ایک کھلی فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے۔ ہر گلی میں بندوق، ہر چوک پر ناکہ، ہر محلے میں خوف اور ہر گھر میں بے یقینی نے زندگی کو گھیر رکھا ہے۔ کشمیری عوام کی نسلیں ایسی فضا میں پروان چڑھی ہیں جہاں صبح کی پہلی آواز پرندوں کی نہیں بلکہ فوجی گاڑیوں کی گرج، چھاپوں اور لاؤڈ اسپیکروں پر دی جانے والی دھمکیوں کی ہوتی ہے۔ عید ہو یا رمضان، شبِ قدر ہو یا جمعۃ الوداع، کشمیری مسلمانوں کیلئے ہر مذہبی موقع خوف، پابندیوں، محاصروں اور جبر کی علامت بن چکا ہے۔
مقبوضہ وادی میں عید کی صبح اکثر اس طرح طلوع ہوتی ہے کہ سڑکوں پر خار دار تاریں بچھی ہوتی ہیں، بازار بند ہوتے ہیں، انٹرنیٹ معطل کر دیا جاتا ہے، اور مساجد کے دروازوں پر بھارتی اہلکار تعینات ہوتے ہیں۔ سری نگر کی تاریخی جامع مسجد کو بارہا بند کیا گیا، لوگوں کو نماز عید سے روکا گیا، حریت قیادت کو گھروں یا جیلوں میں قید رکھا گیا تاکہ کوئی احتجاج یا آزادی کی آواز بلند نہ ہو سکے۔ کشمیری مسلمان جب اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونا چاہتے ہیں تو ان کے سامنے بندوقیں تان دی جاتی ہیں۔ جب وہ عید کی خوشیاں منانا چاہتے ہیں تو ان کے شہروں کو فوجی محاصروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ سیکیورٹی نہیں بلکہ ایک قوم کی مذہبی شناخت، روحانی وابستگی اور اجتماعی شعور کو کچلنے کی منظم کوشش ہے۔
1989ء سے شروع ہونے والی تحریک آزادی کشمیر کو دبانے کیلئے بھارت نے ظلم و جبر کی ہر حد پار کی۔ گزشتہ 36 برسوں میں ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید کیے گئے۔ ہزاروں نوجوان جعلی مقابلوں میں مارے گئے، ہزاروں لاپتہ کیے گئے، ہزاروں افراد عقوبت خانوں میں تشدد کا نشانہ بنے اور ہزاروں خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ کنن پوشپورہ جیسے دل دہلا دینے والے سانحات آج بھی کشمیری خواتین کے زخموں پر تازہ نمک چھڑکتے ہیں، جہاں بھارتی فوجیوں پر اجتماعی زیادتیوں کے سنگین الزامات عائد ہوئے۔ ہزاروں خواتین ایسی ہیں جو’’نصف بیوہ‘‘ کی اذیت ناک زندگی گزار رہی ہیں، جن کے شوہر لاپتہ ہیں اور نہ زندہ قرار دیے جاتے ہیں نہ مردہ۔
بھارتی فوجی کارروائیوں میں بچے، بوڑھے، خواتین، طالب علم، صحافی اور عام شہری کوئی بھی محفوظ نہیں رہا۔ گھروں کو دھماکوں سے اڑانا، املاک ضبط کرنا، نوجوانوں کو رات کی تاریکی میں اٹھا لینا اور لوگوں کو مہینوں تک بغیر مقدمے کے جیلوں میں رکھنا معمول بن چکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں خاندان ایسے ہیں جن کے عزیز جیلوں میں قید ہیں اور انہیں عید کے دن بھی اپنے پیاروں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی۔ مائیں تصویروں کو سینے سے لگا کر بیٹوں کی واپسی کی دعائیں کرتی ہیں، بچے شہید یا قید باپ کی یاد میں روتے ہیں اور بیوائیں خاموشی سے اپنے نصیب کا ماتم کرتی ہیں۔
5 اگست 2019ء کو بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں بلکہ اپنے ہی آئین اور بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا دیں۔ آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر میں ایک طویل فوجی لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا۔ انٹرنیٹ مہینوں بند رکھا گیا، سیاسی قیادت کو گرفتار کیا گیا، میڈیا پر پابندیاں لگائی گئیں اور پوری وادی کو دنیا سے کاٹ دیا گیا۔ اس اقدام کا اصل مقصد صرف سیاسی قبضہ مضبوط کرنا نہیں بلکہ مسلم اکثریتی خطے کی آبادیاتی شناخت تبدیل کرنا تھا۔ نئی ڈومیسائل پالیسیوں کے ذریعے غیر کشمیری ہندوؤں کو آباد کرنے کے عمل نے کشمیری عوام کے خدشات کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔
(جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں