Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

کشمیر، بکھرے خاندانوں کی خاموش چیخیں

خاندان کسی بھی معاشرے کی بنیادی اکائی ہوتا ہے۔ دنیا کے ہر مہذب معاشرے میں خاندان کو تحفظ، محبت، اعتماد اور سماجی استحکام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوامِ متحدہ نے بھی خاندان کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ایک عالمی دن مختص کر رکھا ہے تاکہ دنیا کو یاد دلایا جا سکے کہ انسانی سماج کی اصل طاقت مضبوط خاندانی نظام میں پوشیدہ ہے۔ مگر دنیا میں کچھ خطے ایسے بھی ہیں جہاں خاندان سکون اور خوشی کی علامت نہیں رہے بلکہ خوف، بچھڑنے، محرومی اور اذیت کی داستان بن چکے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر ان ہی خطوں میں سرفہرست ہے۔کشمیر میں کئی دہائیوں سے جاری تنازع نے صرف سیاسی یا جغرافیائی بحران کو جنم نہیں دیا بلکہ اس نے لاکھوں خاندانوں کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ وہاں ایک پوری نسل ایسی پروان چڑھی ہے جس نے اپنے گھروں میں خوشیوں سے زیادہ چیخیں، جنازے، گرفتاریاں اور انتظار دیکھا ہے۔ مقبوضہ وادی میں شاید ہی کوئی ایسا خاندان ہو جس نے کسی نہ کسی شکل میں تشدد، جبر یا محرومی کا سامنا نہ کیا ہو۔
وادی کے حالات اس حد تک غیر یقینی ہیں کہ ہر صبح وہاں کے خاندان اپنے پیاروں کو گھر سے رخصت کرتے وقت اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ شاید وہ واپس نہ لوٹ سکیں۔ بھارتی فورسز کے سرچ آپریشنز، اچانک چھاپے، گرفتاریوں اور فائرنگ کے واقعات نے عام زندگی کو مسلسل خوف کی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ بچوں کے ذہنوں میں کھیل کود سے زیادہ بندوقوں اور فوجی گاڑیوں کی تصویریں نقش ہو چکی ہیں جبکہ مائیں ہر آہٹ پر چونک اٹھتی ہیں۔
کشمیر کا سب سے المناک پہلو جبری گمشدگیوں کا مسئلہ ہے۔ ہزاروں نوجوان برسوں سے لاپتہ ہیں۔ ان میں طلبہ، سیاسی کارکن، عام شہری اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ ان کے خاندان آج بھی ایک ایسی اذیت میں زندہ ہیں جس کا نہ کوئی اختتام دکھائی دیتا ہے اور نہ کوئی واضح جواب۔ کئی مائیں بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ چکی ہیں مگر ان کی نظریں اب بھی دروازے پر جمی رہتی ہیں۔ باپ عدالتوں اور سرکاری دفاتر کے چکر لگاتے لگاتے تھک چکے ہیں جبکہ بہن بھائی ہر آنے والے دن کے ساتھ امید اور مایوسی کے درمیان جھولتے رہتے ہیں۔کشمیر میں ایسے ہزاروں بچے بھی موجود ہیں جو اپنے والد کی شفقت کے بغیر جوان ہوئے۔ کسی کے والد جیل میں ہیں، کسی کو دوران حراست لاپتہ کر دیا گیا اور کسی کو جعلی مقابلوں میں مار دیا گیا۔ کئی خواتین ایسی ہیں جو برسوں سے اپنے شوہروں کی زندگی یا موت کے بارے میں لاعلم ہیں۔ انہیں مقامی سطح پر “نیم بیوائیں” کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی زندگی ایک مستقل انتظار میں معلق ہو کر رہ گئی ہے۔بھارتی حکومت نے سیکورٹی کے نام پر ایسے قوانین نافذ کر رکھے ہیں جنہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔ آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ، پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کا قانون ایسے اختیارات فراہم کرتے ہیں جن کے تحت گرفتاری، طویل حراست اور بنیادی حقوق کی معطلی معمول کی بات بن چکی ہے۔ ان قوانین کے تحت ہزاروں کشمیری نوجوان، صحافی، سماجی کارکن اور سیاسی رہنما مختلف جیلوں میں بند ہیں۔ ان کے اہلِ خانہ کے لیے زندگی ایک مستقل ذہنی اذیت میں تبدیل ہو چکی ہے۔
اس صورتحال کا ایک اور دردناک پہلو یہ ہے کہ کئی کشمیری قیدیوں کو مقبوضہ کشمیر سے دور بھارتی جیلوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے تاکہ ان کے خاندان ان سے ملاقات بھی نہ کر سکیں۔ غریب خاندان سینکڑوں میل دور سفر کے اخراجات برداشت نہیں کر پاتے اور یوں کئی مائیں اپنے بیٹوں کو برسوں نہیں دیکھ پاتیں۔ کئی بچے اپنے والد کو صرف جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی پہچانتے ہیں۔وادی میں شہادتوں کے بعد بھی خاندانوں کی مشکلات ختم نہیں ہوتیں۔ متعدد واقعات میں کشمیری نوجوانوں کی میتیں ان کے ورثا کے حوالے کرنے کے بجائے دور دراز علاقوں میں دفنا دی جاتی ہیں۔ اس عمل نے خاندانوں کے غم کو اور زیادہ گہرا کر دیا ہے۔ ایک ماں کے لیے اپنے بیٹے کا آخری دیدار نہ کر پانا شاید زندگی کا سب سے بڑا دکھ ہوتا ہے۔ کئی خاندان اپنے پیاروں کی قبروں تک سے محروم ہیں۔کشمیر میں تقسیم کا ایک اور پہلو لائن آف کنٹرول ہے جس نے صرف سرحدیں نہیں بلکہ خاندان بھی جدا کر دیے ہیں۔ ہزاروں خاندان ایسے ہیں جن کے رشتہ دار آزاد کشمیر یا پاکستان میں ہیں جبکہ ان کے عزیز مقبوضہ کشمیر میں رہتے ہیں۔ برسوں تک ان کے درمیان رابطے محدود رہے اور اب بھی حالات ایسے ہیں کہ آزادانہ ملاقات ایک خواب بن چکی ہے۔ بعض خاندانوں نے دہائیوں سے ایک دوسرے کو صرف دوربین یا ویڈیو کلپس میں دیکھا ہے۔حال ہی میں کیرن سیکٹر میں پیش آنے والا ایک واقعہ اس انسانی المیے کی واضح مثال بن گیا۔ مقبوضہ حصے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی میت دریائے نیلم کے کنارے اس لیے لائی گئی تاکہ سرحد کے دوسری طرف موجود اس کے بہن بھائی دور سے اپنے عزیز کو آخری بار دیکھ سکیں۔ وہ جنازے میں شریک نہ ہو سکے، صرف فاصلے سے آنسو بہاتے رہے۔ یہ منظر محض ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ پورے کشمیر کے المیے کی عکاسی کرتا ہے۔
اقوامِ متحدہ نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت سے متعلق متعدد قراردادیں منظور کیں مگر دہائیاں گزرنے کے باوجود ان پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ عالمی برادری انسانی حقوق، انصاف اور خاندان کے تحفظ کی بات تو کرتی ہے مگر کشمیر کے خاندانوں کی چیخیں اکثر عالمی سیاست کے شور میں دب جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر انسانی حقوق واقعی عالمی اصول ہیں تو پھر کشمیری خاندان انصاف سے محروم کیوں ہیں؟حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ محض سرحد یا زمین کا تنازع نہیں۔ یہ لاکھوں انسانوں، بکھرے خاندانوں، محروم بچوں، منتظر ماؤں اور خاموش آنکھوں کی کہانی ہے۔ جب تک اس تنازع کا منصفانہ اور پائیدار حل نہیں نکلتا، تب تک کشمیر میں خاندان خوف، جدائی اور عدم تحفظ کے اسی دائرے میں قید رہیں گے۔ دنیا اگر واقعی خاندان کے ادارے کو اہم سمجھتی ہے تو اسے کشمیر کے ان خاندانوں کی آواز بھی سننا ہوگی جو کئی دہائیوں سے انصاف، امن اور اپنے بنیادی حقوق کے منتظر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں