Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

سانحہ چرار شریف،راکھ کی کہانی، روح کی آگ

اے وادیٔ کشمیر! اے زخموں کی سرزمین! تیرے سینے پر لگنے والے یہ گہرے زخم کبھی بھرنے کا نام نہیں لیتے۔ تیس سال بیت گئےمگرجب بھی مئی کی وہ تاریک اورالمناک راتیں یادآتی ہیں توچرار شریف کی ہوا میں اب بھی جلتی ہوئی راکھ کی بواٹھتی ہے۔ 10 اور 11 مئی 1995 کی درمیانی شب جب پوری دنیاعید کی خوشیوں میں مصروف تھی،بڈگام کے پہاڑی قصبے چرار شریف میں بھارتی فوج نے انسانیت کی داستاں پرخون آلود دھبہ لگا دیا۔ وہ رات کشمیر کی یادداشت میں آج بھی تازہ خون کی طرح بہتی ہےاور کبھی خشک نہیں ہوتی۔چرار شریف، حضرت شیخ نور الدین ولیؒ جنہیں کشمیری ماں کی طرح نوند ریشی کہتے ہیں کا وہ بابِ برکت، جہاں صوفیانہ محبت کی خوشبو صدیوں سے پھیلتی رہی تھی۔ چودہویں صدی کا یہ عظیم صوفی بزرگ جس کا پیغام امن، محبت، رواداری اور انسانی بھائی چارے کا تھا، آج بھی کشمیر کی روح کا سب سے مقدس حصہ ہے مگر اس رات بھارتی فورسز کے وحشیانہ محاصرے میں یہ مقدس کمپلیکس نذرِآتش کردیاگیا۔ راکھ اڑی،تاریخ جل گئی، معصوم بچوں کےخواب جل گئےاورکشمیریوں کےدلوں میں ایک ناقابلِ فراموش،ناقابلِ برداشت زخم پیدا ہو گیا ۔ کشمیرمیڈیا سروس کےریسرچ سیکشن کی رپورٹ کےمطابق، بھارتی فورسز نے چرار شریف کمپلیکس کو گھیر لیا اور آگ کی لپیٹ میں ڈال دیا۔ نہ صرف تاریخی مسجداورحضرت شیخ نورالدین ولیؒ کامزارشدیدنقصان سےدوچار ہوا بلکہ سینکڑوں رہائشی مکانات بھی راکھ کا ڈھیر بن گئے۔
اس سانحے میں ایک ہزار سے زائد مکانات اور دو سو دکانیں جل کر خاکستر ہو گئیں، کم از کم پندرہ سو خاندان راتوں رات بےگھر ہو گئے۔ 14ویں صدی کے اس عظیم صوفی بزرگ کے مزارپر ہونے والی بےحرمتی نے نہ صرف کشمیریوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا بلکہ ان کی ثقافتی وراثت کو بھی شدید دھچکاپہنچایا۔ مقامی شہریوں اورعینی شاہدین نےاسے ثقافتی اورتاریخی نسل کشی قراردیا ہے بھارتی فوجیوں نےصحافیوں کومتاثرہ علاقے میں داخل ہونےکی اجازت تک نہیں دی جس سے حقیقت چھپانے کی سازش واضح ہوتی ہے۔ بی بی سی نیوز کےحوالے سےرپورٹس میں کہاگیا کہ بھارتی فوج نے مزار پر براہ راست دھاوا بول دیا تھا۔ یہ واقعہ کشمیری عوام کے لیے صرف آگ کاایک المیہ نہیں بلکہ ان کی شناخت ،عقیدت اور آزادی کی جدوجہد پر ڈالا گیا ایک گہرا،نہ مٹنے والا داغ ہے۔حضرت شیخ نورالدین ولیؒ کشمیر کے عظیم صوفی بزرگ تھےجن کا پورا وجودمحبت اورامن کا پیغام تھا۔ ان کی تعلیمات آج بھی کشمیر کی وادیوں میں گونجتی ہیں۔ لوگ انکے مزار پر حاضر ہو کر اپنے دکھڑے بیان کرتے تھے اورسکون پا کر لوٹتے تھے۔ اس مقدس مقام کو نذ رِ آتش کر کے بھارتی ریاست نے صرف ایک عمارت کونہیں جلایا بلکہ کشمیر کی صوفیانہ روایت، اس کی رواداری اور ہزار سالہ میراث پرحملہ کیا، مگر کیاآگ روح کوجلاسکتی ہے؟ تاریخ باربارگواہ بنتی ہے کہ جب ظالم اپنے عروج پر ہوتےہیں تو مظلوم کی مزاحمت بھی اسی راکھ سے جنم لیتی ہے۔ آج بھی جب کشمیری نوجوان اس سانحے کی یاد تازہ کرتے ہیں تو ان کے دلوں میں غم کے ساتھ ساتھ عزم کی ایک نئی چنگاری پیدا ہوتی ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے گزشتہ 37 سالوں میں درگاہ حضرت بل سمیت مسلمانوں کےسینکڑوں مقدس مقامات کو تباہ کیا ہےاورانکی بے حرمتی کی ہے۔ چرار شریف کاواقعہ ان تمام المناک واقعات کی ایک کڑی ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کی حکومت میں مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کےواقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی کھلی دھجیاں اڑانا ہے۔ بھارت کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے کےلیے ہرحربہ استعمال کررہاہےمگر کشمیری عوام کی استقامت اورصبر اس کے سامنے بار بار ناکام ثابت ہو رہا ہے۔اس سانحے کے تناظر میں کشمیر کی پوری صورتحال پر غور کیا جائے تو حقیقت مزید تلخ ہو جاتی ہے۔ بھارت کی پالیسیاں کشمیریوں کی شناخت مٹانے،ان کی ثقافت کو ختم کرنے اور ان کی مذہبی آزادی کو سلب کرنے کی طرف ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ واضح نشاندہی کرتی ہےکہ بھارتی فوجیوں نے مزارکونقصان پہنچایا بلکہ پورے قصبے کو تباہ کر کےرکھ دیا۔ پہاڑی علاقے میں ہزاروں لوگ بےسروسامانی،بھوک اور بے گھری کا شکار ہو گئے۔ یہ صرف مادی نقصان نہیں تھا بلکہ ایک پوری نسل کی یادوں، عقیدت، ثقافت اور روحانی ورثے کا قتل عام تھا۔ عینی شاہدین آج بھی آنسوؤں کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ فوجی محاصرے کےدوران کس طرح لوگوں کی زندگیاں،خواب اورمستقبل تباہ ہوئے۔خواتین اوربچوں کی چیخیں آج بھی ہواؤں میں گونجتی ہیں۔کل جماعتی حریت کانفرنس نےایک بیان میں کہاہےکہ سانحہ چرار شریف اور کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل کے واقعات بھارتی ریاستی دہشت گردی کے واضح ثبوت ہیں۔ تمام تر مشکلات، جبراور تشدد کے باوجود کشمیری عوام اپنی جدوجہد آزادی جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اللہ تعالیٰ کشمیر کو جلد آزادی عطا فرمائے،اس زخمی وادی کو سکون بخشے، شہداء کی قربانیوں کو قبول کرے اور ظالموں کو ان کےظلم کا حساب دے۔ آمین یا رب العالمین۔

یہ بھی پڑھیں