Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

اے میرے اہلِ کشمیر، بیس کیمپ کے مکینو!

اے میرے اہلِ کشمیر! اے میرے بیس کیمپ کے مکینو! اے حریت کے نام پر نسلوں سے قربانیاں دینے والو، ذرا رک کر سوچو۔ سازشوں کے جال میں اس طرح نہ الجھ جانا کہ وقتِ عصر روزہ ہی توڑ بیٹھو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تاریخ تمہارے بارے میں یہ لکھے کہ ’’گرگے ناداں سجدے میں جب وقتِ قیام آیا‘‘۔ یہ بیٹھنے کا نہیں، کھڑے ہونے کا وقت ہے۔ ہم کھڑے ہیں، زخموں سے چور سہی مگر کھڑے ہیں، لاشیں اٹھا رہے ہیں، اپنے بچوں کو دفنا رہے ہیں، مگر پاکستان کے پرچم کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں۔ پون صدی سے پاکستان نے تم محبت نچھاور ، اپنے بچے جگر گوشے قربان کئے ، ذرا آئو یہاں بہت شہداء میں آسودہ خاک پاکستانیوں کی تربتیں گن سکو تو گنو ، اچانک تمہاری عقل کو کیا ہوا کہ ایسے وقت میں جب پاکستان تمہارے دشمن بھارت کے سینے پر چڑھ کر کھڑا ہے، تم اسی کے خلاف صف آرا ہونے کی بات کر رہے ہو؟
سوچو، تم کس کا کام کر رہے ہو؟ کس کی زبان بول رہے ہو؟ اپنے ہی وکیل کو بدنام کرنے پر کیوں تلے ہوئے ہو؟
آزادی کی قیمت اور غلامی کا عذاب ہم سے پوچھو۔ ہم وہ کشمیری ہیں جنہوں نے بھارتی ظلم اپنی آنکھوں سے دیکھا ، اپنی جانوں پر بھگتا ہے۔ ہم نے عزتوں کی پامالی دیکھی، ہم نے ماؤں کے سامنے بیٹوں کو گرتے دیکھا، ہم نے جیلیں، پیلٹ گنز، اجتماعی قبریں اور کرفیو دیکھے۔ ہم جانتے ہیں کہ بھارت دوستی نہیں کرتا، قبضہ کرتا ہے۔ وہ حق نہیں دیتا، چھینتا ہے، وہ عزت نہیں بخشتا، روندتا ہے، اور پاکستان، پاکستان نے تمہیں سر پر بٹھایا ، عزت دی ، دہرے ووٹ کا حق دیا ، تم کیا صلہ دے رہے ہو ؟
آزاد کشمیر کے لوگ ہمیشہ پاکستان کے سب سے وفادار لوگوں میں شمار ہوئے ہیں۔ نسلوں سے وفادار۔ مگر افسوس یہ ہے کہ آج کچھ عناصر عوامی مسائل کے نام پر ایک ایسی فضا بنانا چاہتے ہیں جس سے فائدہ صرف دشمن کو ہوگا۔ مان لیا کہ مسائل ہیں، حقوق کے سوالات ہیں، عمل درآمد میں خامیاں ہیں، مگر کیا ان مسائل کا حل پورا نظام بند کر دینا ہے؟ کیا ہڑتال سے بجلی سستی ہوجائے گی؟ کیا سڑکیں بند کرنے سے آٹا مزید ارزاں ہوجائے گا؟ کیا بازار بند کرکے عوامی ریلیف بڑھ جائے گا؟
یہ حقیقت ہے کہ پاکستان خود شدید معاشی دباؤ سے گزر رہا ہے۔ ملک کے عام شہری مہنگی بجلی، بھاری ٹیکسوں، مہنگے آٹے اور بے شمار معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود آزاد کشمیر کو خصوصی سبسڈی، گرانٹس اور ترقیاتی فنڈز دیے جا رہے ہیں۔ آزاد کشمیر میں سستا آٹا اور رعایتی بجلی کوئی سیاسی نعرہ نہیں بلکہ پاکستان کی مسلسل معاشی وابستگی اور عملی تعاون کا ثبوت ہے۔ جب وفاق اپنے محدود وسائل کے باوجود اربوں روپے کے پیکجز دے رہا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسئلے کا حل مذاکرات اور شفاف عمل درآمد میں ہے یا مسلسل ہڑتالوں اور بندشوں میں؟
ہڑتال کا سب سے پہلا وار حکومت پر نہیں، عام آدمی پر پڑتا ہے۔ دکان بند ہوتی ہے تو نقصان کسی بڑے سرمایہ دار کا نہیں بلکہ چھوٹے دکاندار، ریڑھی والے اور دیہاڑی دار مزدور کا ہوتا ہے۔ بازار بند ہوں تو مزدور کے گھر کا چولہا ٹھنڈا پڑتا ہے۔ راستے بند ہوں تو مریض ہسپتال نہیں پہنچ پاتا۔ تعلیمی ادارے بند ہوں تو طالب علم کا مستقبل متاثر ہوتا ہے۔ کیا عوامی خدمت کا مطلب یہی ہے کہ عوام ہی کو اذیت میں مبتلا کردیا جائے؟یہ بھی حقیقت ہے کہ آزاد کشمیر کا بجٹ مقامی آمدن سے کہیں زیادہ وفاقی مدد، ترقیاتی تعاون اور خصوصی گرانٹس پر قائم ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ آزاد کشمیر کو اپنے جسم کا حصہ سمجھ کر سہارا دیا ہے۔ جب ملک کے کئی دوسرے علاقے بھی بنیادی مسائل سے دوچار ہیں، تب بھی آزاد کشمیر کے لیے الگ پیکجز، خصوصی سبسڈیز اور اضافی ترقیاتی فنڈز رکھے جاتے ہیں۔ اس حقیقت کو نظر انداز کرکے صرف نفرت اور تصادم کی سیاست کرنا انصاف نہیں۔اگر کہیں بدانتظامی ہے، اگر کسی ادارے نے عوامی توقعات پوری نہیں کیں، اگر کہیں کرپشن یا سستی ہے تو اس کا حل عوامی نگرانی، احتساب اور مضبوط مکالمہ ہے۔ حق مانگنا ہر شہری کا حق ہے، مگر ایسا طریقہ اختیار کرنا جو پورے معاشرے کو مفلوج کردے، کسی طور دانشمندی نہیں کہلا سکتا۔ احتجاج کا مقصد عوامی بہتری ہونا چاہیے، عوامی زندگی کو بند کرنا نہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اہلِ کشمیر جذبات کے بجائے شعور سے فیصلہ کریں۔ دشمن یہی چاہتا ہے کہ پاکستان اور کشمیر کے درمیان اعتماد کی دیوار میں دراڑ پڑے۔ بھارت ہمیشہ یہ پروپیگنڈا کرتا آیا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کے ساتھ مخلص نہیں۔ ایسے میں اگر بیس کیمپ کے اندر ہی بداعتمادی، انتشار اور تصادم کی کیفیت پیدا ہوگی تو اس سے فائدہ کسے ہوگا؟ یقیناً اس قوت کو جو کشمیریوں کی نسلوں کی دشمن ہے۔
جو لوگ عوام کو سڑکوں پر لاکر مسلسل ہڑتالوں کی طرف دھکیل رہے ہیں، انہیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ بار بار کی بندشوں سے سرمایہ کاری رکتی ہے، کاروبار تباہ ہوتا ہے، تعلیمی عمل متاثر ہوتا ہے اور نوجوانوں میں مایوسی بڑھتی ہے۔ ایک ایسا خطہ جو پہلے ہی سیاسی اور جغرافیائی حساسیت رکھتا ہو، وہاں معاشی عدم استحکام مزید خطرناک نتائج پیدا کرسکتا ہے۔
پاکستان کا پیغام واضح ہے۔ ریلیف بھی ملے گا، ترقی بھی ہوگی، مذاکرات بھی ہوں گے، شکایات بھی سنی جائیں گی، مگر عوامی زندگی کو مفلوج کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ مسائل کا حل میز پر بیٹھ کر نکلتا ہے، مسلسل ہڑتالوں سے صرف بداعتمادی اور نقصان بڑھتا ہے۔اہلِ کشمیر کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ان کی اصل طاقت پاکستان کے ساتھ ان کا رشتہ ہے۔ یہی رشتہ ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی طاقت کا مرکز ہے۔ اگر اسی رشتے کو کمزور کیا گیا تو نقصان صرف آزاد کشمیر کا نہیں، پوری تحریکِ آزادی کشمیر کا ہوگا۔آج عام کشمیری کا اصل سوال یہی ہے کہ کیا ہڑتال سے حق ملے گا یا گھر کا چولہا ٹھنڈا ہوگا؟ کیا سڑکیں بند کرنے سے انصاف آئے گا یا عام آدمی مزید پریشان ہوگا؟ کیا دشمن کو خوش کرکے اپنے دوست کو کمزور کرنا دانشمندی ہے؟وقت کا تقاضا یہی ہے کہ اختلاف ہو تو ذمہ داری کے ساتھ ہو، مطالبات ہوں تو دلیل کے ساتھ ہوں، احتجاج ہو تو ایسا ہو جو عوام کی زندگی آسان بنائے، مشکل نہیں۔ کیونکہ آخرکار اس دھرتی کو امن، استحکام، تعلیم، روزگار اور ترقی ہی بچا سکتی ہے، مسلسل تصادم نہیں۔

یہ بھی پڑھیں