22اپریل 2025 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے سیاحتی مقام بیسرن پہلگام میں پیش آنے والے واقعے کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے۔ اس عرصے کے دوران یہ معاملہ نہ صرف خطے کی سیاست بلکہ پاک بھارت تعلقات میں ایک نئےتناؤ کی علامت بن کر سامنے آیا۔ اس واقعے میں 26 بھارتی سیاحوں کی ہلاکت ہوئی، جس کے بارے میں مختلف حلقوں کی جانب سے یہ سوالات بھی اٹھائےجاتے رہےکہ سیکیورٹی انتظامات کے باوجود ایسا واقعہ کیسے پیش آیا۔پچھلے برس اسی روز ہونے والے اس واقعے کا موازنہ بعض تجزیہ کار 14 فروری 2019 کے پلوامہ حملے سے کرتے ہیں جس میں 40 بھارتی فوجی مارےگئے تھے۔ اس تناظر میں یہ بات بھی زیربحث آتی رہی کہ بیسرن کے مقام پر واقعے سے قبل سیکیورٹی انتظامات میں غیر معمولی تبدیلیاں کی گئیں۔ مقامی سطح پر یہ مؤقف سامنے آیا کہ عام طور پرجہاں شہریوں کو سخت چیکنگ سے گزارا جاتا تھا وہاں واقعے کے روز چیک پوسٹوں میں نرمی یا تبدیلی دیکھی گئی۔ یہ بھی کہا جاتا ہےکہ جائے وقوعہ کے قریب کوئی مستقل سیکیورٹی موجود نہیں تھی جبکہ چند کلومیٹر کےفاصلے پر پولیس اسٹیشن اور سی آر پی ایف کیمپ موجود تھے۔
واقعے کا وقت دوپہر ایک بج کر بیس منٹ سے ایک بج کر پچاس منٹ تک بتایا جاتا ہے اور اسی روز دو بجے مقامی پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج ہوئی۔ اس پہلو کو بعض مبصرین غیر معمولی قرار دیتے ہیں کیونکہ بڑے نوعیت کے واقعات میں ابتدائی تحقیقات کے بغیر فوری اندراج سوالات کو جنم دیتا ہے۔واقعے کے فوراً بعد بھارتی میڈیا نے اس کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانے کی روایت کو دہرایا جبکہ حکومت نے بھی سخت ردعمل دیا۔ اس وقت بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کا دورہ پہلگام پہلے سے طے شدہ بتایا گیااور وزیراعظم نریندر مودی اس وقت بیرون ملک دورے پر تھے جہاں سے وہ فوری طور پر واپس روانہ ہوئے۔23 اپریل کو بھارت کی کابینہ کی سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان کے خلاف کئی اقدامات کا اعلان کیا گیا۔ ان میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی،پاکستانی شہریوں کے ویزوں کی منسوخی، واہگہ اٹاری سرحد کی بندش، سفارتی عملے کی حد بندی اور دفاعی اتاشیوں کو ناپسندیدہ قراردینا شامل تھا۔ پاکستان کی طرف سےاگلے روز 24 اپریل کو جوابی اجلاس میں ان اقدامات کو سختی سے ردکیا گیا اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو اعلان جنگ کے مترادف قرار دیا گیا۔
پاکستان نے بھی اسی روز متعدد اقدامات کیے جن میں واہگہ بارڈر کی بندش، بھارتی تجارت کی معطلی،سفارتی عملے میں کمی، بھارتی فوجی اتاشیوں کو ناپسندیدہ قرار دینا، بھارتی ویزوں کی منسوخی اور فضائی حدود کی بندش شامل تھی تاہم سکھ یاتریوں کو استثنیٰ دیا گیاجسے بعض حلقے ایک سفارتی نکتہ سمجھتے ہیں۔سندھ طاس معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سےطےپایاتھا، جس کے تحت مشرقی دریا بھارت اور مغربی دریا پاکستان کےحصےمیں آئے۔
بھارت کی جانب سےاس معاہدےپرتحفظات اورنظرثانی کی کوششیں پہلے بھی سامنے آتی رہی ہیں تاہم پہلی مرتبہ اس کی معطلی کا اعلان ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا گیا۔ پاکستان نے اس معاملے کو پہلے ہی بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا تھا۔واقعے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں عوامی ردعمل بھی نمایاں رہا۔ مختلف علاقوں میں دکانیں بند رکھ کر ہلاک ہونے والے سیاحوں کےساتھ یکجہتی کااظہارکیا گیا۔ بعض مقامی افراد نے متاثرہ سیاحوں کے لیے رہائش اورخوراک کاانتظام بھی کیا، جسے انسانی ہمدردی کے ایک غیر معمولی اظہار کےطور پردیکھا گیا۔ اس کے برعکس بھارتی میڈیا میں مذہبی اور سیاسی تقسیم کو بڑھاوا دینے کے الزامات بھی سامنے آتے رہے جس کے نتیجے میں بعض کشمیری طلبہ اور شہریوں کو مختلف ریاستوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اسی دوران بھارتی معاشرے میں یہ سوال بھی شدت سے اٹھا کہ اہم قومی واقعات اکثر انتخابی ادواریاسیاسی تناؤ کے وقت کیوں سامنے آتےہیں۔ اپوزیشن جماعتوں اور بعض مبصرین نے ان واقعات کے وقت اور سیاسی ماحول کے درمیان تعلق پر سوالات اٹھائے تاہم حکومت نے ان خدشات کو مسترد کیا۔واقعے کے بعد بھارتی نیوی کے ایک افسر لیفٹیننٹ ونے نروال کی اہلیہ ہمانشی نروال کا ایک ویڈیو بیان بھی سامنے آیا جس میں انہوں نے امن اور برداشت کی اپیل کی اورمسلمانوں یا کشمیریوں کو نشانہ نہ بنانے کی بات کی۔ تاہم اس بیان کے بعد انہیں سوشل میڈیاپر شدید تنقید اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا جس نے بھارتی معاشرے میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی پر نئی بحث چھیڑ دی۔بعد ازاں وادی کشمیر میں سیکیورٹی آپریشنز میں تیزی آئی۔ مختلف علاقوں میں گرفتاریوں اور تلاشی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ بعض رپورٹس کے مطابق ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیاجبکہ کئی نوجوانوں پر مقدمات قائم کیے گئے۔ اس دوران اوڑی، بانڈی پورہ، کپواڑہ اور دیگر علاقوں میں مبینہ جھڑپوں اور آپریشنز میں ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہیں۔اسی تناظر میں مئی 2025 کے آغاز میں کشیدگی مزید بڑھ گئی جب بھارت کی جانب سے پاکستان کے مختلف علاقوں پرفضائی حملوں کی کوشش کی گئی۔ ان حملوں میں پنجاب اور آزاد کشمیر کے بعض مقامات کو نشانہ بنایا گیاجس میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد کے جانی نقصان کی اطلاعات آئیں۔ اس کےجواب میں پاک فضائیہ نےکارروائی کرتے ہوئے بھارتی جنگی طیارے مار گرائے، جن میں جدید رافیل طیارے بھی شامل تھے۔
بعد ازاں 10 مئی کو پاکستان نے جوابی عسکری کارروائیوں کا آغازکیا جسے آپریشن بنیان مرصوص اورمعرکہ حق کے نام سے بیان کیا گیا۔ ان کارروائیوں میں بھارت کی متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے۔ اس کے بعد خطے میں کشیدگی وقتی طور پر کم ہوئی لیکن سیاسی سطح پر تناؤ برقرار رہا۔اس تمام صورت حال نے ایک بار پھر پاک بھارت تعلقات کو غیر یقینی کیفیت میں ڈال دیا ہے۔ بیسرن پہلگام واقعہ نہ صرف ایک سیکیورٹی سوال بن کر ابھرا بلکہ اس نے خطے میں پہلے سے موجود سیاسی اور سفارتی پیچیدگیوں کو مزید گہرا کردیا۔آج ایک سال بعد بھی یہ واقعہ مختلف زاویوں سے زیر بحث ہے۔ ایک طرف اسے سیکیورٹی ناکامی کے طور پردیکھاجاتا ہے، تو دوسری طرف اسے خطے کی بڑی سیاسی کشمکش کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اصل حقیقت کیا ہے، اس پر اختلاف رائے موجود ہے لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس واقعے نے جنوبی ایشیاکی سیاست اور سیکیورٹی ماحول پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔