Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

مغربی ایشیا کے شعلوں میں جلتا بھارت

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی تازہ رپورٹ نے ایک دل دہلا دینے والا اعلان کیا ہے۔ مغربی ایشیا میں جاری عسکری کشیدگی، جو اب عالمی سطح پر ایک آگ کی صورت اختیار کر چکی ہے، بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک پر ایک ایسا بوجھ ڈال رہی ہے جو لاکھوں خاندانوں کو غربت کی تاریک گلیوں میں دھکیل سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس کشیدگی کے نتیجے میں بھارت میں تقریباً دو کروڑ مزید لوگ خط غربت کے نیچے جا سکتے ہیں ۔ جنوبی ایشیا سب سے زیادہ متاثر ہوگا، اور بھارت اس کی سب سے بڑی قربانی بننے والا ملک ہے۔ انسانی ترقی کے اشاریوں (HDI) میں تنزلی، معاشی استحکام کی لڑکھڑاہٹ، اور غذائی عدم تحفظ کی بڑھتی ہوئی لہریں—یہ سب کچھ ایک ایسے طوفان کی پیش گوئی کر رہے ہیں جو مودی حکومت کی پالیسیوں کی کمزوریوں کو بے نقاب کر رہا ہے۔یہ رپورٹ محض اعداد و شمار کا ایک مجموعہ نہیں، بلکہ ایک المناک داستان ہے۔ مغربی ایشیا میں جاری تنازع خاص طور پر آبنائے ہرمز کی رکاوٹیں—ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، مال برداری کے چارجز کی بلند پروازیں، اور صنعتی لاگتوں کی آسمان چھوتی ہوئی لہریں پیدا کر رہی ہیں۔ بھارت، جو اپنی 85 سے 88 فیصد خام تیل کی ضروریات درآمدات پر انحصار کرتا ہے، اس میں سے 40 سے 55 فیصد حصہ مغربی ایشیا سے حاصل کرتا ہے۔ UNDP رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بھارت 45 فیصد کھاد بھی مغربی ایشیا سے درآمد کرتا ہے، جبکہ توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے باعث کوئلے پر انحصار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شپنگ رکاوٹیں، فریٹ چارجز میں 20 سے 30 فیصد اضافہ، اور انشورنس لاگتوں کی آسمانی پرواز سپلائی چین کو توڑ رہی ہے۔ جواہرات، ٹیکسٹائل، چائے، اور باسمتی چاول جیسے برآمدی شعبے، جو بھارتی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔لیکن یہ صرف درآمدات کی کہانی نہیں۔ خلیجی ممالک میں مقیم 90 لاکھ سے زائد بھارتی مزدور—جو UAE، سعودی عرب، قطر، کویت اور عمان میں تعمیرات، خدمات اور دیگر شعبوں میں کام کر رہے ہیں—کی ترسیلات زر بھارتی معیشت کا ایک اہم ستون ہیں۔ UNDP کا اندازہ ہے کہ اس کشیدگی سے یہ ترسیلات متاثر ہوں گی، جو کیرالہ، اتر پردیش، بہار جیسے ریاستوں کے لاکھوں خاندانوں کی روزی روٹی پر براہ راست اثر ڈالے گی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مودی حکومت کی پالیسیاں اس بحران میں بھارتیوں کو غربت کی دلدل میں کیسے دھکیل رہی ہیں؟ یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں، بلکہ ایک طویل مدتی غفلت اور غلط سمت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ مودی دورِ حکومت (2014 سے اب تک) میں “اتما نر بھر بھارت” کا نعرہ لگایا گیا، لیکن حقیقت میں توانائی اور زرعی ان پٹس پر غیر ملکی انحصار کم ہونے کے بجائے بڑھا ہے۔ 2026 تک بھی بھارت خام تیل کا 40 فیصد حصہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والا درآمد کر رہا ہے، جبکہ روس سے درآمدات (جو 30 سے 36 فیصد ہیں) کے باوجود خلیجی ممالک پر انحصار 55 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ مودی حکومت نے توانائی کی تنوع کاری (diversification) کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔ سولر اور قابل تجدید توانائی کے پروجیکٹس تو اعلانات میں ہیں، مگر عملی طور پر تیل کی درآمدات پر خرچ 2025-26 میں بھی اربوں ڈالر کا ہے۔ نتیجہ؟ ایک چھوٹی سی رکاوٹ بھی معیشت کو ہلا دے گی۔یہ غفلت تنہا نہیں۔ الجزیرہ کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ غیر منظم شعبہ میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا، اور غریب طبقہ اب بھی اس زخم سے نہیں نکل سکا۔ نتیجہ یہ کہ جب UNDP کی رپورٹ والا بیرونی دھچکا لگا، تو یہ طبقہ پہلے ہی کمزور تھا۔بے روزگاری کی داستان اور بھی دلخراش ہے۔ مودی حکومت کے “سکِل انڈیا” اور “میک ان انڈیا” کے باوجود، سالانہ 50 لاکھ گریجویٹس پیدا ہو رہے ہیں، مگر ملازمتیں صرف 28 لاکھ بن رہی ہیں۔ یہ نوجوان، جو خاندان کی امید ہوتے ہیں، اب غربت کے سمندر میں تیر رہے ہیں۔ کسانوں کی حالت تو الگ ہی ہے—کھاد کی قیمتیں 10 سے 20 فیصد بڑھ جانے سے (مغربی ایشیا کی جنگ کی وجہ سے) کسانوں کی لاگت بڑھ رہی ہے، جبکہ فصل کی قیمتیں نہیں۔ 2022-23 میں ملٹی ڈائمینشنل غربت 28.11 فیصد رہ گئی تھی، مگر یہ اعداد و شمار بھی اب دھواں بن کر اڑ رہے ہیں۔مودی حکومت کی خارجہ پالیسی بھی اس بحران میں تیل چھڑک رہی ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کے قریبی تعلقات نے خلیجی ممالک کے ساتھ توازن بگاڑا ہے، جبکہ توانائی کی سفارت کاری میں کوئی بڑا معاہدہ یا اسٹریٹجک ذخیرہ (strategic reserves) نہیں بنایا گیا۔ “آزاد خارجہ پالیسی” کا دعویٰ تو ہے، مگر عملی طور پر بھارت اب بھی مغربی ایشیا کی مرہون منت ہے۔ نتیجہ؟ 90 لاکھ مزدوروں کی ترسیلات زر پر خطرہ، جو بھارتی GDP کا5.2 سے 3 فیصد حصہ ہیں۔ اگر یہ رک گئیں تو کیرالہ اور دیگر ریاستوں میں غربت دوگنی ہو جائے گی۔یہ سب کچھ ادبی زبان میں کہیں تو ایک ایسا سانحہ ہے جو بھارت کی “ترقی کی کہانی” کو جھٹلا رہا ہے۔ مودی دور میں غربت میں کمی کے دعوے تو ہیں، مگر یہ کمزور بنیادوں پر کھڑی عمارت تھی۔ جب بیرونی طوفان آیا، تو یہ عمارت لڑکھڑا گئی۔ غذائی عدم تحفظ بڑھ رہا ہے، قوت خرید کم ہو رہی ہے، اور انسانی ترقی کے اشاریے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ عالمی غربت میں اضافہ 32 ملین تک جا سکتا ہے، اور بھارت اس کا سب سے بڑا حصہ برداشت کرے گا۔آخر میں، یہ رپورٹ مودی حکومت کے لیے ایک آئینہ ہے۔ پالیسیاں جو اندرونی کمزوریاں پیدا کرتی ہیں—غیر منظم شعبہ کی نظر اندازی، توانائی تنوع کی عدم، بے روزگاری کا عفریت، اور خارجہ پالیسی کی بے سمت—وہ ہی غربت کی زنجیریں بن رہی ہیں۔ بھارت کے 140 کروڑ لوگوں کی تقدیر اب ان پالیسیوں کے ہاتھ میں ہے۔ اگر فوری طور پر توانائی کی خودمختاری، کسانوں کی حفاظت، نوجوانوں کی ملازمت، اور ترسیلات زر کی محفوظ راہیں نہ بنائی گئیں، تو یہ 25 لاکھ غریب صرف آغاز ہو گا۔ غربت کی یہ لہر نہ صرف معیشت کو کھا جائے گی بلکہ معاشرے کی جڑوں کو ہلا دے گی۔ وقت اب بھی ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ غفلت کی قیمت لاکھوں خاندان ادا کرتے ہیں۔ بھارت کی ترقی کا خواب، اگر حقیقت بننا ہے تو، ان پالیسیوں کی زنجیروں سے آزاد ہونا ہو گا،ورنہ مغربی ایشیا کی آگ بھارت کے گھروں کو جلا دے گی۔

یہ بھی پڑھیں