Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

مقبوضہ کشمیر میں پاکستان زندہ باد کے نعرے

بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی مظالم، سخت پابندیوں اور مسلسل دبائو کے باوجود کشمیری عوام کے دلوں میں پاکستان کے لیے محبت اور وابستگی برقرار ہے، جس کا اظہار ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے ذریعے سامنے آیا ہے۔سوشل میڈیا پروائرل ویڈیو میں ایک کشمیری شہری کو بھارتی جھنڈوں کی موجودگی کے باوجود پاکستانی قومی نغمے بجاتے اور پاکستان کے ساتھ اپنی جذباتی وابستگی کا اظہار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کو صارفین کی جانب سے بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے اور اسے کشمیری عوام کے جذبات کی عکاسی قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق مقبوضہ کشمیر سے وقتا فوقتا سامنے آنے والے ایسے پیغامات اس بات کا اظہار ہیں کہ سخت سکیورٹی اقدامات اور سیاسی دبائو کے باوجود کشمیری عوام کی پاکستان کے ساتھ جذباتی وابستگی اور محبت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کا کہنا ہے کہ مقبوضہ وادی کے شہری مختلف ذرائع سے اپنی رائے اور احساسات دنیا تک پہنچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر زیر گردش اس ویڈیو نے ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور کشمیری عوام کے جذبات کو موضوعِ بحث بنا دیا ہے، جبکہ مختلف صارفین اسے کشمیریوں کی شناخت، نظریاتی وابستگی اور سیاسی احساسات کی عکاسی قرار دے رہے ہیں۔ وائرل ویڈیو کو بعض حلقے ان عناصر کے لیے بھی ایک واضح پیغام قرار دے رہے ہیں جو آزاد جموں و کشمیر کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ان کے مطابق کشمیری عوام کے جذبات اور خواہشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز نے بیگناہ کشمیری نوجوانوں کی بلا جواز گرفتاری، جائیدادوں کی ضبطی اور جبر و استبداد کے دیگر ہتھکنڈوں میں تیزی لائی ہے۔ کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فورسز کشمیریوں کو ڈرانے دھمکانے اور ان کی آزادی کی آواز کو دبانے کیلئے بیگناہ کشمیری نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر گرفتار کر رہی ہیں۔ گرفتار نوجوانوں کو دور دراز کی بھارتی جیلوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے اور یوں ان کے اہلخانہ کو ان سے ملاقات یا انہیں قانونی امداد فراہم کرنے کی راہیں مسدود کی جاتی ہیں۔ بھارت کشمیری نوجوانوں کو آزادی کی آواز بلند کرنے کی پاداش میں انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنا رہا ہے۔ اس وقت حریت رہنمائوں اور کارکنوں سمیت ہزاروں کشمیری نوجوان مختلف جھوٹے مقدمات میں جیلوں اور عقوبت خانوں میں بند ہیں جہاں انہیں شدید ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کی غیر قانونی نظر بندی کو طول دینے کیلئے انہیں عدالتوں میں پیش نہیں کیا جاتا جبکہ انہیں تمام بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ بھارتی پولیس نے حریت رہنما اور مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری فاروق احمد توحیدی گزشتہ روز ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور میں گھر پر چھاپے کے دوران گرفتار کیا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی سمیت بڑی تعداد میں حریت رہنما اس وقت نئی دلی کی تہاڑ اور دیگر بھارتی جیلوں میں بند ہیں۔ بی جے پی کی بھارتی حکومت نے ملکی تحقیقاتی اداروں این آئی اے، ای ڈی وغیرہ کو کشمیری آزادی پسندوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ بھارتی فورسز بے گناہ کشمیریوں کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اے جیسے کالے قوانین کا بے دریغ استعمال کر رہی ہیں۔ بھارت تنازعہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کرنے کے بجائے فوجی طاقت کے بل پر جموں و کشمیر پر اپنا غیر قانونی تسلط برقرار رکھنے کی پالیسی پر بدستور عمل پیرا ہے۔ وہ جبر و استبداد کے وحشیانہ ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کا جذبہ آزادی دبانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور درحقیقت وہ مقبوضہ علاقے میں ایک ہاری ہوئی لڑائی لڑ رہا ہے۔ کشمیری عوام کے حوصلے بلند ہیں اور وہ شہدا کے عظیم مشن کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہیں۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع راجوری میں بھارتی فورسز کی محاصرے اور تلاشی کی پرتشدد کارروائی آج مسلسل 22ویں روز بھی جاری رہی۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 23 مئی سے ہزاروں فوجیوں، جنگی ہیلی کاپٹرز، ڈرونز، سراغ رساں کتوں اور پیرا کمانڈوز کی تعیناتی کے باوجود قابض فوج عسکریت پسندوں کا سراغ لگانے میں ناکام ہے۔ قابض بھارتی فورسز نے جنگلاتی علاقے کے گرد گھیرا مزید سخت کر دیا ہے اور وسیع تلاشی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جس سے پورا علاقہ ایک جنگ زدہ خطے کا منظر پیش کر رہا ہے۔ بھارتی فورسز اہلکار قریبی علاقوں کے گھروں کی بار بار تلاشی لے رہے ہیں اور خواتین اور بچوں سمیت مکینوں کو سخت ہراساں کر رہے ہیں۔ طویل فوجی آپریشن کی وجہ سے علاقے کے لوگوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے اور ہر طرف خوف و دہشت کا ماحول ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال ایک بار پھر اس حقیقت کو سامنے لاتی ہے کہ طاقت کے زور پر کسی دیرینہ سیاسی اور انسانی مسئلے کو دبایا نہیں جا سکتا۔ خطے میں جاری کشیدگی محض سکیورٹی آپریشنز یا گرفتاریوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی اور سیاسی تنازعہ ہے جو دہائیوں سے حل طلب ہے۔ زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ جبر کے باوجود عوامی جذبات کو ختم نہیں کیا جا سکتا، بلکہ وہ وقت کے ساتھ مزید گہرے اور مضبوط ہو جاتے ہیں۔موجودہ پالیسیوں کے اثرات نے نہ صرف مقامی آبادی کے اعتماد کو متاثر کیا ہے بلکہ خطے میں غیر یقینی صورتحال کو بھی بڑھایا ہے۔ مسلسل محاصرے، کرفیو نما پابندیاں اور تلاشی آپریشنز نے معمول کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ تعلیمی ادارے، کاروبار اور سماجی سرگرمیاں شدید دبائو کا شکار ہیں، جبکہ نوجوان نسل ایک غیر مستحکم ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے۔
اسی پس منظر میں سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز اور بیانات ایک علامتی اظہار کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ یہ محض ڈیجیٹل مواد نہیں بلکہ ایک ایسے معاشرے کی کیفیت کی عکاسی ہیں جو برسوں سے غیر یقینی اور دبائو کے ماحول میں رہ رہا ہے۔مبصرین کے مطابق خطے میں دیرپا امن کیلئے محض سکیورٹی اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔ اصل ضرورت سیاسی حل کی ہے جو تمام فریقین کی خواہشات اور زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر طے کیا جائے۔ تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ دیرپا استحکام طاقت سے نہیں بلکہ مذاکرات اور اعتماد سازی سے حاصل ہوتا ہے۔آج خطہ ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں فیصلوں کی سمت آنے والے برسوں کی صورتحال کا تعین کرے گی۔ موجودہ روش اگر جاری رہی تو کشیدگی میں کمی کے امکانات محدود رہیں گے۔ اس کے برعکس اگر سیاسی راستہ اختیار کیا جائے تو خطہ ایک نئے دور کی طرف بڑھ سکتا ہے جہاں امن، ترقی اور استحکام کے امکانات زیادہ روشن ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں