Search
Close this search box.
منگل ,28 جولائی ,2026ء

کراچی میں جعلی نمبر پلیٹس، 60 فیصد موٹر سائیکلوں پر بڑا انکشاف

کراچی: کراچی میں جعلی نمبر پلیٹس کے استعمال سے متعلق تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے۔ ڈی آئی جی ٹریفک کراچی پیر محمد شاہ کے مطابق شہر میں رجسٹرڈ تقریباً 46 لاکھ موٹر سائیکلوں میں سے لگ بھگ 60 فیصد پر جعلی نمبر پلیٹس نصب ہیں، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا سیکیورٹی اور انتظامی چیلنج بن چکی ہیں۔

ڈی آئی جی ٹریفک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل پر قابو پانے کے لیے عوامی تعاون ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں شہر میں تقریباً 20 لاکھ موٹر سائیکلیں تھیں، تاہم اب یہ تعداد بڑھ کر 46 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث سڑکوں پر دباؤ میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کی صورتحال

پیر محمد شاہ نے بتایا کہ ایک وقت تھا جب کراچی کی سڑکوں پر تقریباً 9 ہزار بسیں چلتی تھیں، لیکن اب ان کی تعداد کم ہو کر صرف 2 ہزار رہ گئی ہے۔ دوسری جانب رکشوں کی تعداد بڑھ کر تقریباً 3 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جس سے ٹریفک کی روانی مزید متاثر ہو رہی ہے۔

لین ڈسپلن اور ہیلمٹ لازمی قرار

انہوں نے واضح کیا کہ ٹریفک پولیس لین ڈسپلن پر سختی سے عمل درآمد کروا رہی ہے اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ پہننا ہر صورت لازمی ہے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کے لیے ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کریں۔

ای چالان نظام میں بہتری کا عمل جاری

ڈی آئی جی ٹریفک کے مطابق ای چالان کے نظام میں ابھی کچھ تکنیکی مسائل موجود ہیں، تاہم متعلقہ ادارے انہیں دور کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ کئی دہائیوں سے موجود مسائل ہیں، اس لیے مکمل بہتری میں کچھ وقت لگے گا، لیکن اصلاحات کے مثبت نتائج بتدریج سامنے آئیں گے۔

آخر میں انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ کراچی میں جعلی نمبر پلیٹس کے استعمال سے گریز کریں، اپنی گاڑیوں پر اصل نمبر پلیٹ لگائیں، ہیلمٹ پہنیں اور ٹریفک قوانین پر عمل کرکے شہر میں محفوظ اور منظم ٹریفک نظام کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔

یہ بھی پڑھیں