اسلام آباد: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت ایک بار پھر نیچے آ گئی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں وقتی کمی اور سفارتی پیش رفت کی امیدوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق لندن بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6.42 ڈالر فی بیرل کمی کے بعد یہ 90.36 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔
اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی 5.47 ڈالر کم ہو کر 90.36 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
مربان کروڈ اور قدرتی گیس بھی سستی
رپورٹس کے مطابق ابوظبی بینچ مارک مربان کروڈ کی قیمت میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جو 12.20 ڈالر کم ہو کر 84.85 ڈالر فی بیرل رہ گئی۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں قدرتی گیس کی قیمت بھی کم ہو کر 2.7 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو پر آ گئی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں کم ہوئیں؟
ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی میں عارضی کمی اور سفارتی رابطوں کی بحالی سے وابستہ مثبت توقعات ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے روکنے کے اعلان اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیاں عارضی طور پر معطل ہونے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مسلسل نیچے آ رہی ہیں۔
پہلے قیمتیں 100 ڈالر تک پہنچ گئی تھیں
یاد رہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی۔
اس دوران آبنائے ہرمز اور باب المندب کے سمندری راستوں پر خدشات کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہوئی، جس سے عالمی منڈی میں قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی۔
تاہم اب حالات میں نسبتاً بہتری آنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل دوبارہ کم ترین سطح کی جانب گامزن ہے، جس کے اثرات آئندہ دنوں میں مختلف ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
