لاہور: مومنہ اقبال ہراسانی کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ عدالت کو تفتیشی افسر کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ایک موبائل فون فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ عدالت نے مقدمے میں نامزد ملزمان کی عبوری ضمانت میں آئندہ سماعت تک توسیع کر دی۔
ایڈیشنل سیشن جج نصرت صدیقی نے کیس کی سماعت کی، جس میں اداکارہ مومنہ اقبال کی جانب سے ان کے وکیل جبکہ دوسرے فریق کی جانب سے بھی قانونی نمائندے عدالت میں پیش ہوئے۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو کیا بتایا؟
سماعت کے دوران تفتیشی افسر نجم باجوہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم کی اہلیہ نے دو روز قبل اپنا موبائل فون نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے حوالے کیا، جسے فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق تحقیقات کا عمل جاری ہے اور فرانزک رپورٹ آنے کے بعد مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔
وکیل کی استدعا
اداکارہ مومنہ اقبال کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ ملزمان کی عبوری ضمانت خارج کی جائے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ملزمان کی آزادی سے ان کی مؤکلہ کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد آئندہ سماعت پر حتمی بحث طلب کرتے ہوئے ملزمان کی عبوری ضمانت میں 3 ستمبر تک توسیع کر دی۔
علامہ ناصر مدنی نے معذرت کر لی
دوسری جانب، اداکارہ مومنہ اقبال سے متعلق متنازع بیان دینے والے علامہ ناصر مدنی نے اپنے بیان پر معذرت کر لی ہے۔ یہ پیشرفت اداکارہ کی جانب سے قانونی نوٹس بھیجے جانے کے بعد سامنے آئی۔
ناصر مدنی نے اپنے تازہ ویڈیو بیان میں کہا کہ اگر ان کے الفاظ سے مومنہ اقبال یا ان کے اہل خانہ کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ اس پر معذرت خواہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر خاتون کی عزت و وقار کا احترام کیا جانا چاہیے اور کسی بھی خاتون کی تضحیک مناسب نہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اداکارہ کی جانب سے ہتکِ عزت کے قانون کے تحت قانونی نوٹس بھیجا گیا تھا، جس میں متنازع مواد ہٹانے، غیر مشروط معافی مانگنے اور ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
نوٹ: اس مقدمے میں عدالت کی جانب سے ابھی حتمی فیصلہ نہیں آیا، لہٰذا الزامات اور تفتیشی نتائج کو عدالتی فیصلے سے پہلے حتمی تصور نہیں کیا جا سکتا۔
