Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

بھارتی دہشت گردی اور عالمی ضمیر کا امتحان

عالمی سیاست میں طاقتور ریاستیں اکثر اپنے مفادات کے تحفظ کے نام پر ایسے اقدامات کرتی ہیں جنہیں بعد ازاں قومی سلامتی، انسداد دہشت گردی یا داخلی استحکام کے خوشنما عنوانات کے پیچھے چھپا دیا جاتا ہے۔ تاہم بعض اوقات حقائق اتنے واضح ہو جاتے ہیں کہ انہیں محض سفارتی بیانیوں کے ذریعے نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہتا۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے موقع پر پیش کی جانے والی ایک رپورٹ نے بھارت کے کردار کے بارے میں ایسے ہی سنگین سوالات کو دوبارہ عالمی سطح پر زندہ کر دیا ہے۔
باکو انیشی ایٹو گروپ اور سکھ فیڈریشن انٹرنیشنل کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بھارتی ریاست اپنی سرحدوں کے اندر ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی سیاسی مخالفین، آزادی پسند تحریکوں اور ناقدین کے خلاف منظم اقدامات میں ملوث رہی ہے۔ رپورٹ میں متعدد ایسے واقعات کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے گزشتہ چند برسوں میں کینیڈا، امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے دیگر ممالک کو بھی تشویش میں مبتلا کیا۔
سب سے زیادہ توجہ سکھ رہنماؤں اور خالصتان تحریک سے وابستہ کارکنوں کے خلاف کارروائیوں پر مرکوز رہی۔ بیرون ملک آباد سکھ برادری گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے سیاسی نظریات کے اظہار کے لیے جمہوری ذرائع اختیار کرتی رہی ہے۔ خالصتان کے حق میں ریفرنڈمز، جلسے، سیمینارز اور سیاسی مہمات مغربی ممالک میں کھلے عام منعقد ہوتی ہیں۔ ان سرگرمیوں کی اجازت ان ممالک کے اپنے آئینی اور جمہوری اصولوں کے تحت دی جاتی ہے۔ اس کے باوجود ان سرگرمیوں میں شریک افراد مسلسل دباؤ، نگرانی اور بعض معاملات میں جان لیوا خطرات کی شکایات کرتے رہے ہیں۔
کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کا قتل اور امریکہ میں گرپتونت سنگھ پنوں کے خلاف مبینہ سازش ایسے واقعات ہیں جنہوں نے مغربی دنیا میں بھارت کے بارے میں نئی بحث کو جنم دیا۔ ان معاملات نے پہلی مرتبہ یہ تاثر مضبوط کیا کہ مسئلہ صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد مغربی حکومتیں اب ان الزامات کو محض سیاسی پروپیگنڈا قرار دے کر نظر انداز کرنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتیں۔
خالصتان تحریک کی تاریخ خود اس حقیقت کی گواہ ہے کہ سکھ برادری کے ایک بڑے حصے کے دلوں میں ریاستی جبر کی یادیں آج بھی زندہ ہیں۔ 1984 کا آپریشن بلیو اسٹار اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات سکھوں کے اجتماعی شعور پر گہرے نقوش چھوڑ گئے۔ ہزاروں افراد نے اپنی جانوں کے تحفظ اور سیاسی آزادی کے حصول کے لیے مغربی ممالک کا رخ کیا۔ یہی وہ پس منظر ہے جس نے بیرون ملک سکھ برادری کو نہ صرف منظم کیا بلکہ انہیں اپنی شناخت اور سیاسی مطالبات کے اظہار کے لیے مزید متحرک بھی بنایا۔
بھارت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ خالصتان کی تحریک کو بیرونی عناصر کی حمایت حاصل ہے، تاہم مغربی ممالک کی جانب سے سکھ کارکنوں کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ملنا اس دعوے کو کمزور کرتا ہے۔ اگر یہ سرگرمیاں واقعی دہشت گردی یا تشدد سے جڑی ہوتیں تو سخت امیگریشن اور قومی سلامتی کے قوانین رکھنے والے ممالک انہیں کبھی برداشت نہ کرتے۔
مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ بعض بین الاقوامی رپورٹس اور تحقیقات میں بھارتی خفیہ اداروں اور منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے درمیان ممکنہ روابط کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ کینیڈا اور امریکہ کے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی بعض رپورٹس نے ایسے سوالات اٹھائے ہیں جن کا جواب نئی دہلی اب تک اطمینان بخش انداز میں نہیں دے سکا۔ ان اطلاعات نے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ ریاستی طاقت اور غیر رسمی نیٹ ورکس کا امتزاج سیاسی مخالفین کو خاموش کرانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
عالمی سطح پر اس معاملے کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی جب فریڈم ہاؤس سمیت مختلف اداروں نے بھارت کو ان ممالک میں شمار کرنا شروع کیا جن پر بیرون ملک مخالفین کو نشانہ بنانے کے الزامات موجود ہیں۔ یہ درجہ بندی کسی علاقائی حریف یا سیاسی مخالف کی جانب سے نہیں بلکہ بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کی بنیاد پر سامنے آئی، جس نے ان الزامات کو مزید سنجیدہ بنا دیا۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پیش کی جانے والی رپورٹ کی اصل اہمیت اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ اس نے مسئلے کو دوطرفہ سیاسی تنازعے کے بجائے انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے تناظر میں دیکھا ہے۔ اگر کسی ریاست پر یہ الزام عائد ہو کہ وہ دوسرے ممالک میں رہنے والے افراد کی نگرانی کر رہی ہے، انہیں دھمکا رہی ہے یا ان کے خلاف خفیہ کارروائیاں کر رہی ہے تو یہ معاملہ صرف سفارت کاری کا نہیں رہتا بلکہ عالمی نظام کے بنیادی اصولوں سے جڑ جاتا ہے۔
جرمنی اور بعض دیگر یورپی ممالک میں ہونے والی تحقیقات اور عدالتی کارروائیاں بھی اسی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ یورپ اب ان معاملات کو زیادہ سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔ مغربی ممالک عموماً کسی دوسرے ملک کے خلاف حساس نوعیت کے اقدامات صرف اسی صورت کرتے ہیں جب ان کے پاس قابل اعتماد شواہد موجود ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ان واقعات نے بھارت کی بین الاقوامی ساکھ پر اثرات مرتب کیے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک ریاست کی عظمت اس کی عسکری طاقت یا معاشی حجم سے نہیں بلکہ اس کے طرزِ عمل سے ناپی جاتی ہے۔ اگر اختلاف رائے کا جواب خفیہ نگرانی، دھمکیوں اور سرحد پار کارروائیوں کی صورت میں دیا جائے تو پھر جمہوریت کے دعوے اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ دنیا اب ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں انسانی حقوق اور سیاسی آزادی کے معیارات ریاستوں کی عالمی حیثیت کا بنیادی پیمانہ بن چکے ہیں۔
جنوبی ایشیاء پہلے ہی کشیدگی، تنازعات اور عدم استحکام کا شکار خطہ ہے۔ ایسے ماحول میں کسی بھی ریاست کی جانب سے بیرون ملک خفیہ سرگرمیوں کے الزامات نہ صرف علاقائی امن بلکہ بین الاقوامی اعتماد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ بھارت اگر خود کو ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے تو اسے ان سوالات کا شفاف جواب دینا ہوگا، آزاد تحقیقات کی حمایت کرنا ہوگی اور ایسے تمام اقدامات سے فاصلہ اختیار کرنا ہوگا جو اسے سیاسی جبر اور سرحد پار مداخلت کی علامت بناتے ہیں۔
جنیوا میں پیش کی گئی رپورٹ اسی لیے اہم ہے کہ اس نے ایک ایسے مسئلے کو عالمی فورم پر اٹھایا ہے جسے طویل عرصے تک نظر انداز کیا جاتا رہا۔ اب یہ صرف سکھوں، کشمیریوں یا کسی ایک برادری کا معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ اس اصول کا امتحان بن چکا ہے کہ آیا دنیا واقعی سیاسی آزادی، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے یکساں اطلاق پر یقین رکھتی ہے یا نہیں۔
یہ متن اصل کالم سے مختلف ساخت، مختلف آغاز ، مختلف پیراگراف ترتیب اور مختلف اسلوب رکھتا ہے جبکہ مجموعی مؤقف اور بھارت پر تنقیدی زاویہ برقرار رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں