Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

حجاب کا تنازع اور بھارتی سیکولرازم بے نقاب

بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور ایک سیکولر ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن وقتاً فوقتاً سامنے آنے والے واقعات اس دعوے کی حقیقت پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ ریاست کرناٹک میں حجاب کے معاملے پر پیدا ہونے والی تازہ کشیدگی اور اس کے ردعمل نے ایک مرتبہ پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا بھارت واقعی اپنے تمام شہریوں کو مساوی مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق فراہم کرنے میں کامیاب ہو سکا ہے یا نہیں۔کرناٹک میں حجاب پر عائد پابندی کے خاتمے سے متعلق اطلاعات کے بعد بعض ہندو شدت پسند حلقوں کی جانب سے شدید احتجاج دیکھنے میں آیا۔ تعلیمی اداروں میں زعفرانی شالوں کی نمائش اور مسلم طالبات کے حجاب کے خلاف مہم نے اس مسئلے کو محض ایک تعلیمی یا انتظامی معاملہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے مذہبی شناخت اور سیاسی کشمکش کا موضوع بنا دیا۔ اس ردعمل نے دنیا بھر کے مبصرین کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ آخر ایک جمہوری معاشرے میں کسی طالبہ کے لباس اور مذہبی شناخت کو اس قدر متنازع کیوں بنایا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ صورتحال اس وسیع تر رجحان کا حصہ ہے جس کے تحت بھارت میں مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں، کے حقوق اور آزادیوں پر مختلف طریقوں سے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی معاشرے میں ایک مخصوص مذہبی طبقے کی طالبات کو اپنی مذہبی روایات کے مطابق لباس پہننے پر نشانہ بنایا جائے تو یہ محض سماجی اختلاف نہیں بلکہ ایک گہری نظریاتی کشمکش کی علامت بن جاتا ہے۔
حجاب بنیادی طور پر ایک مذہبی اور شخصی انتخاب کا مسئلہ ہے۔ دنیا کے مختلف جمہوری ممالک میں شہریوں کو اپنی مذہبی شناخت کے اظہار کی آزادی حاصل ہے، بشرطیکہ وہ دوسروں کے حقوق میں مداخلت نہ کریں۔ لیکن بھارت میں اس مسئلے کو جس انداز میں سیاسی رنگ دیا گیا، اس نے نہ صرف مسلم برادری بلکہ انسانی حقوق کے حلقوں کو بھی تشویش میں مبتلا کیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک طالبہ اپنے عقیدے کے مطابق حجاب پہن کر تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس سے ریاست یا معاشرے کو کیا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے؟
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حجاب کے خلاف پیدا کی جانے والی فضا دراصل ایک وسیع سیاسی بیانیے کا حصہ ہے جس میں مذہبی اکثریت کی ثقافتی اور نظریاتی ترجیحات کو قومی شناخت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں اقلیتی حلقے اس صورتحال کو ہندوتوا نظریے کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے جوڑتے ہیں۔ ان کے مطابق مذہبی اقلیتوں کی شناخت کو متنازع بنانا اور ان کے مذہبی معاملات میں مداخلت کرنا ایک ایسے سیاسی رجحان کی عکاسی کرتا ہے جو اکثریتی بالادستی کو فروغ دیتا ہے۔
اس پورے تنازع کا ایک اور اہم پہلو خواتین کے حقوق سے متعلق ہے۔ بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم، بالخصوص جنسی تشدد اور ہراسانی کے واقعات، مسلسل تشویش کا باعث رہے ہیں۔ حال ہی میں کشمیری رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ بھارت میں اوسطاً ہر چھ منٹ بعد ایک خاتون جنسی زیادتی کا شکار بنتی ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف وہ واقعات ہیں جو پولیس ریکارڈ، ایف آئی آرز یا میڈیا رپورٹس تک پہنچ پاتے ہیں، جبکہ حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
اگر یہ صورتحال درست ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک ذمہ دار ریاست کی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟ کیا ریاستی اداروں اور سیاسی قیادت کی توجہ خواتین کو تحفظ فراہم کرنے، مجرموں کو سزا دلانے اور انصاف کے نظام کو مؤثر بنانے پر مرکوز ہونی چاہیے یا طالبات کے لباس اور مذہبی شناخت کو سیاسی تنازعات کا موضوع بنانے پر؟
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کے سنگین مسائل کے باوجود عوامی اور سیاسی مباحث کا ایک بڑا حصہ حجاب جیسے معاملات کے گرد گھومتا نظر آتا ہے۔ جن بچیوں کو محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کیا جانا چاہیے، انہیں اپنی مذہبی شناخت کے باعث وضاحتیں دینا پڑتی ہیں۔ جن طالبات کو تعلیم، تحقیق اور ترقی کے مواقع میسر ہونے چاہئیں، وہ اپنے لباس اور عقیدے کے دفاع میں کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ریاست تعلیمی اداروں میں مذہبی بنیادوں پر پیدا ہونے والی کشیدگی کو روکنے میں ناکام رہتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایک کمیونٹی تک محدود نہیں رہتے۔ اس سے پورے تعلیمی ماحول پر منفی اثر پڑتا ہے۔ تعلیمی ادارے جہاں برداشت، تنوع اور فکری آزادی کو فروغ ملنا چاہیے، وہاں مذہبی اور سیاسی تقسیم مزید گہری ہونے لگتی ہے۔ نتیجتاً علم کے مراکز مکالمے اور تحقیق کے بجائے محاذ آرائی اور کشیدگی کے میدان بن جاتے ہیں۔
اس تناظر میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے جہاں ناقدین کے مطابق ریاستی پالیسیوں نے مقامی آبادی میں احساسِ محرومی کو مزید بڑھایا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اقلیتوں کے حوالے سے اختیار کی جانے والی سخت پالیسیوں اور کشمیر میں جاری سیاسی و عسکری اقدامات کے پیچھے ایک ہی فکری رجحان کارفرما نظر آتا ہے، جس میں تنوع کے بجائے یکسانیت کو ترجیح دی جاتی ہے۔
کسی بھی جمہوری اور سیکولر ریاست کی اصل طاقت اس کی فوجی یا معاشی قوت نہیں بلکہ اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اگر ایک ملک مذہبی آزادی، شخصی انتخاب اور مساوی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اس کے جمہوری اور سیکولر دعوے کمزور پڑ جاتے ہیں۔ ریاست کی کامیابی کا پیمانہ شہریوں کے لباس پر نگرانی یا پابندیاں عائد کرنا نہیں بلکہ ان کے جان و مال، عزت اور بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
بھارت میں حجاب کا تنازع دراصل ایک کپڑے کے ٹکڑے کا مسئلہ نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ گہرا سوال ہے۔ یہ سوال مذہبی آزادی، اقلیتوں کے حقوق، خواتین کے تحفظ، تعلیمی مساوات اور ریاستی ترجیحات سے متعلق ہے۔ جب تک ان بنیادی سوالات کا منصفانہ اور جمہوری جواب نہیں دیا جاتا، حجاب پر ہونے والی ہر نئی بحث بھارت کے سیکولر تشخص اور جمہوری دعووں کو مزید کڑی آزمائش میں ڈالتی رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں