دنیا کا کوئی بھی دور ہو، ظلم نے جب بھی کروٹ لی، مظلومیت نے اس کے سامنے سینہ تان کر ایک نیا رُخ اختیار کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جبر کے گہرے سایوں میں مزاحمت نے نئے استعارے تراشے—کبھی پتھروں سے، کبھی قلم سے، کبھی کتابوں کے صفحات سے، اور کبھی بینرز پر نعروں کی صورت میں۔ اکیسویں صدی کے اس ڈیجیٹل آشوب میں مزاحمت نے ایک نیا پیرہن اوڑھ لیا ہے۔ سوشل میڈیا اب محض ایپس کا مجموعہ نہیں، بلکہ کچلے ہوئے طبقوں کا نظریاتی مورچہ، سوئے ضمیروں کی بیداری کا ذریعہ، اور مظلوم کی سسکتی آواز کو ظالم کے ایوانوں تک پہنچانے والا عالمی اسٹیج بن چکا ہے۔خاص طور پر بھارتی مقبوضہ کشمیر میں، جہاں روایتی میڈیا پر تالے پڑے ہوں، صحافت کی زبان بند ہو، انٹرنیٹ بار بار معطل کیا جائے، اور سچ بولنے والوں کو عبرت کا نشانہ بنایا جائے، وہاں سوشل میڈیا کشمیری عوام کےلیے مقدس کھڑکی بن کر ابھرا ہے۔ اس پلیٹ فارم نے نوجوانوں کو اپنے زخم دنیا کے سامنے پیش کرنے کا موقع دیا، جہاں گولیوں کی بوچھاڑ کے باوجود آزادی کا پرچم بلند رکھا جا سکتا ہے۔اس ڈیجیٹل بیداری کی تاریخ میں شہید برہان مظفر وانیؒ کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ وہ روایتی جدوجہد میں ڈیجیٹل مزاحمت کا پہلا، سب سے معتبر اور طاقتور استعارہ بنے۔ برہان نے اگرچہ دفاع کے لیے بندوق اٹھائی، مگر ان کا اصل ہتھیار ان کی تصویر، مسکراہٹ اور پیغام تھا جس نے سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا کا رخ کشمیر کی طرف موڑ دیا۔
جب انہوں نے عسکری رازداری کے روایتی اصول توڑ کر وردی میں بندوق کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں، تو انہوں نے دنیا کو پیغام دیا کہ کشمیری نوجوان اب چھپ کر نہیں، بلکہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لڑ رہے ہیں۔ ان کی ہر ویڈیو نے مایوسی کے اندھیروں کو چیر کر شعور، حوصلہ اور ایمانی غیرت کا لافانی جذبہ پھونکا۔ برہانؒ نے ثابت کیا کہ بعض اوقات بیانیہ ہتھیار سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے—وہ بیانیہ جو درد کو بے نقاب کر دے۔برہان وانی 1994 ء میں ترال، ضلع پلوامہ میں پیدا ہوئے۔ ایک عام گھرانے سے تعلق رکھنے والے برہان نے ابتدائی تعلیم مکمل کی اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو متاثر کیا۔ 2010 ء کے احتجاجات کے بعد انہوں نے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیا اور ہزب المجاہدین سے منسلک ہو گئے۔ جولائی 2016 ء میں بھارتی فورسز نے انہیں شہید کر دیا۔ ان کی شہادت کے بعد کشمیر میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے، جو ہفتوں تک جاری رہے۔ سوشل میڈیا پر ان کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوئیں، جو ہزاروں نوجوانوں کو متاثر کر گئیں۔ ان کی شہادت نے ڈیجیٹل دور میں مزاحمت کی نئی لہر پیدا کی، جہاں ایک تصویر ہزاروں الفاظ کی طاقت رکھتی ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی داستان صدیوں پرانی ہے، مگر آج یہ زیادہ وحشیانہ شکل اختیار کر چکی ہے۔ 5 اگست 2019 ء کے بعد جب بھارت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کیا، تو وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا۔ لاک ڈاؤن، انٹرنیٹ بلیک آؤٹ (مہینوں تک)، ہزاروں گرفتاریاں، نوجوانوں کی جبری گمشدگیاں، اور ماورائے عدالت ہلاکتیں عام ہو گئیں۔ عالمی رپورٹس، بشمول ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل، نے پیلٹ گن کی استعمال، تشدد، اور شہریوں پر ریاستی دباؤ کی تصدیق کی ہے۔ بھارتی فورسز کی کارروائیوں میں عام شہریوں، بچوں اور خواتین بھی نشانہ بنتے ہیں۔ گھروں میں تلاشی، بے گھر کرنا، اور احتجاجیوں پر گولی چلانا معمول بن چکا ہے۔ کشمیری نوجوان سوشل میڈیا پر لائیو ویڈیوز شیئر کرتے ہیں—آنگن میں گرتے بم، فوجیوں کی کارروائیاں، اور ماؤں کے آنسو—جو کروڑوں ڈالر کی پروپیگنڈا مشینری کو چیلنج کرتے ہیں۔ ایک بوڑھی ماں کا اپنے شہید بیٹے کے جنازے پر آنسو بہانا، یا نوجوان کا گولی لگنے کی ویڈیو، ضمیر جگانے والی دستاویز بن جاتی ہے۔بھارت کشمیر کی تحریک کو دہشت گردی” کا لیبل دے کر پیش کرتا ہے۔ گودی میڈیا اور ریاستی پروپیگنڈے کے ذریعے یہ بیانیہ پھیلایا جاتا ہے کہ یہ چند “گمراہ” عناصر کی کارروائی ہے۔ مگر سوشل میڈیا نے اس جھوٹے بیانیے کو بے نقاب کر دیا۔ فیس بک، انسٹاگرام، X (ٹوئٹر) اور یوٹیوب پر کشمیریوں نے بغیر فلٹر کے اپنی کہانیاں، مائیں، آنسو اور جدوجہد پیش کی۔ اس سچائی نے سرحدوں کو توڑا اور عالمی شعور کو جھنجھوڑا۔ نتیجتاً بھارت کو انٹرنیٹ بندش، اکاؤنٹس بلاک، اور پوسٹس پر گرفتاریوں کا سہارا لینا پڑا—یہ ان کا خوف ہے کہ نہتے نوجوانوں کا ڈیجیٹل سچ ان کے جھوٹے بیانیے کے لیے زہر ہے۔برہان وانی کی میراث آج بھی زندہ ہے۔ انہوں نے ایک نسل کو بیدار کیا۔ آج کشمیری نوجوان نہ صرف زمینی میدان میں بلکہ سائبر اسپیس میں بھی مزاحمتی سپاہی ہیں۔ الفاظ گولی بنتے ہیں، شیئر یلغار بنتے ہیں۔
سوشل میڈیا عصر حاضر کا فکری میدان جنگ ہے، جہاں بیانیہ لڑتا ہے۔تاہم، حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ پیچیدہ ہے۔ دونوں طرف تشدد ہوا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع نے کئی جنریشنز کو متاثر کیا۔ بھارت سلامتی کے نام پر اقدامات کا دفاع کرتا ہے جبکہ کشمیری عوام خودمختاری اور انسانی حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کا ذکر، plebiscite کی بات، اور علاقائی استحکام کی ضرورت سب اہم ہیں۔ مگر ریاستی طاقت کا وحشیانہ استعمال، شہریوں کی خاموشی کا دباؤ، اور میڈیا کنٹرول حقیقت کو نہیں چھپا سکتا۔ہمیں ڈیجیٹل وراثت کے امین بننا چاہیے۔ سوشل میڈیا کو تفریح سے آگے بڑھ کر منظم، فکری ہتھیار بنانا ہوگا۔ برہانؒ کا مشن ادھورا ہے—اسے اگلی نسلوں تک پہنچانا ہے۔ فولادی زنجیریں جسم تو جکڑ سکتی ہیں، مگر روحوں پر پہرہ نہیں بٹھا سکتیں۔ سچائی کا نور جابر دیواروں کو ہلا سکتا ہے۔یہ جنگ اسکرینوں اور زمین دونوں پر جاری رہے گی—جب تک آزادی کا سورج طلوع نہ ہو اور غلامی کے بادل چھٹ نہ جائیں۔ کشمیر کی آواز دبی نہیں رہے گی۔ برہان مظفر وانیؒ جیسے ہزاروں نے قربانی دی ہے۔ تاریخ انہیں فراموش نہیں کرے گی۔