Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

(گزشتہ سے پیوستہ)
لیکن معاملہ صرف کشمیر تک محدود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج پورے بھارت میں مسلمان اسی خوف، امتیاز اور جبر کا شکار ہیں جس کا سامنا کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے کر رہے ہیں۔ ہندوتوا نظریے نے پورے بھارتی معاشرے کو اس طرح زہر آلود کر دیا ہے کہ مسلمانوں کی عبادات، تہذیب، لباس، خوراک، کاروبار، تعلیمی مواقع اور حتیٰ کہ ان کے وجود تک کو مشکوک بنا دیا گیا ہے۔ بی جے پی اور اس سے وابستہ انتہاء پسند تنظیموں نے مسلمانوں کو سیاسی دشمن اور سماجی خطرہ بنا کر پیش کرنے کی ایسی منظم مہم شروع کر رکھی ہے جس نے پورے بھارت میں نفرت کو ایک باقاعدہ سیاسی ہتھیار بنا دیا ہے۔
عیدالاضحیٰ کے قریب آتے ہی بھارت کی کئی ریاستوں میں مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا دی جاتی ہے۔ گائے کے نام پر سیاست نے مسلمانوں کو براہ راست تشدد اور ہجومی دہشت گردی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت محدود کی جاتی ہے، ٹرک روکے جاتے ہیں، تاجروں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور بعض اوقات زندہ جلا دیا جاتا ہے۔ گاؤ رکھشا کے نام پر سرگرم ہندو انتہاء پسند گروہ قانون سے بالاتر ہو چکے ہیں۔ انہیں سیاسی سرپرستی حاصل ہے اور پولیس اکثر تماشائی بنی رہتی ہے۔
محمد اخلاق، پہلو خان، تبریز انصاری، جنید اور ایسے بے شمار نام بھارتی مسلمانوں کے خلاف اس سفاک نفرت کی علامت بن چکے ہیں۔ کسی کو صرف اس شک میں مار دیا جاتا ہے کہ اس نے گائے کا گوشت کھایا ہے، کسی کو داڑھی اور ٹوپی کی بنیاد پر ہجوم کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ ہجومی تشدد یا ماب لنچنگ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ایک منظم ہتھیار بن چکا ہے۔ خوفناک امر یہ ہے کہ قاتلوں کو اکثر سیاسی حمایت حاصل ہوتی ہے، بعض کو ضمانتوں پر رہا کر دیا جاتا ہے جبکہ کچھ کو انتہاء پسند حلقے ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں۔
عیدالاضحیٰ سے قبل مختلف ریاستوں میں پولیس چھاپے، گرفتاریوں اور نگرانی کے نام پر مسلمانوں کو ہراساں کرنا معمول بن چکا ہے۔ ہندو انتہاء پسند تنظیموں کے کارکن جا بجا مسلمانوں کی تاک میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ چند روز قبل آسام میں دو مسلمان نوجوانوں کو ہجوم نے تشدد کرکے قتل کر دیا۔ ایسے واقعات اب استثنا نہیں بلکہ ایک خطرناک معمول بنتے جا رہے ہیں۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق گاؤ رکھشا کے نام پر ہونے والے بیشتر حملے مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد ہوئے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ نفرت اور تشدد کو کس طرح سیاسی سرپرستی حاصل ہے۔یہ صرف مذہبی آزادی کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشی تباہی کا بھی معاملہ ہے۔ مویشیوں کی تجارت سے وابستہ ہزاروں مسلمان اور غریب ہندو خاندان معاشی بربادی کا شکار ہو چکے ہیں۔ دیہی معیشت متاثر ہوئی، کاروبار تباہ ہوئے اور لاکھوں افراد بے روزگاری اور قرضوں کے بوجھ تلے دب گئے۔ ایک ایسا کاروبار جو برسوں سے لاکھوں خاندانوں کی روزی کا ذریعہ تھا، آج مذہبی جنونیت کی نذر ہو رہا ہے۔مودی حکومت کی ’’بلڈوزر سیاست‘‘نے مسلمانوں کو اجتماعی سزا دینے کا نیا طریقہ متعارف کرایا ہے۔ کسی واقعے کے بعد عدالتی کارروائی کے بغیر مسلمانوں کے گھروں، دکانوں اور کاروباروں کو بلڈوزروں سے مسمار کر دیا جاتا ہے۔ یہ کارروائیاں انصاف نہیں بلکہ انتقامی سیاست کا حصہ ہیں جن کا مقصد مسلمانوں میں خوف پیدا کرنا اور انہیں دوسرے درجے کا شہری ثابت کرنا ہے۔عدلیہ، جو جمہوریت میں انصاف کی آخری امید سمجھی جاتی ہے، وہ بھی کئی معاملات میں جانبدار دکھائی دیتی ہے۔ بابری مسجد کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے نے مسلمانوں کے زخم مزید گہرے کر دیے۔ اس کے بعد گیان واپی مسجد، شاہی عیدگاہ اور دیگر تاریخی مساجد کے خلاف مقدمات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اچانک “مندر کے آثار” تلاش کیے جاتے ہیں، مقدمات کھولے جاتے ہیں اور یوں مسلمانوں کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ ان کی تاریخ، عبادت گاہیں اور تہذیب اس سرزمین پر محفوظ نہیں۔بھارتی میڈیا کا ایک بڑا حصہ بھی اس نفرت انگیز فضا کو ہوا دینے میں پیش پیش ہے۔ ٹی وی مباحثوں میں مسلمانوں کو غدار، دہشت گرد اور دشمن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر جھوٹ، افواہوں اور اشتعال انگیزی کی منظم مہمات چلائی جاتی ہیں۔ نفرت انگیز زبان کو قوم پرستی کا لبادہ پہنا دیا گیا ہے۔ اس مسلسل پروپیگنڈے نے بھارتی معاشرے میں مسلمانوں کے خلاف تعصب کو مزید مضبوط کیا ہے۔ مسلمان آج اپنے ہی وطن میں اجنبی بنائے جا رہے ہیں۔ ان کے نام، لباس، عبادات، خوراک اور ثقافت تک کو متنازعہ بنایا جا رہا ہے۔ انہیں ہر شعبے میں حاشیے پر دھکیلا جا رہا ہے۔یہ سب کچھ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ خود بھارت کی روح کا بحران ہے۔ بھارت تعصب کے شکنجے میں جکڑتا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں