پانی نہ صرف زندگی ہے بلکہ قوموں کی بقا، معیشت اور خودمختاری کا بنیادی ستون بھی ہے۔ کوئی بھی خودمختار ریاست اپنے عوام کے لیے پانی کی فراہمی پر سمجھوتہ نہیں کر سکتی، کیونکہ یہ انسانی وجود کا لازمی عنصر ہے۔ جب بین الاقوامی معاہدے اس تقسیم کو منظم کرتے ہوں تو ان کی خلاف ورزی نہ صرف اخلاقی بلکہ قانونی طور پر بھی ناقابل قبول ہوتی ہے۔ موجودہ حالات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدے پر پیدا ہونے والا تناؤ اسی حقیقت کو اجاگر کر رہا ہے کہ پانی اب صرف ایک قدرتی وسائل نہیں، بلکہ علاقائی استحکام کا سب سے بڑا امتحان بن چکا ہے۔کرہ ارض پر پانی اور خشکی کا توازن زندگی کے تسلسل کی ضمانت ہے۔ زمین کا 71 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے جبکہ 29 فیصد خشکی ہے۔ سمندر، دریا، جھیلیں اور گلیشیئرز نہ صرف پانی کے ذخائر بڑھاتے ہیں بلکہ موسمیاتی نظام کو متوازن رکھتے ہیں۔ تبخیر کے عمل سے بارشیں ہوتی ہیں اور سمندری حیات زمین کی آکسیجن کا بڑا ذریعہ ہے۔ دوسری طرف خشکی زراعت، جنگلات اور معدنی وسائل کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اس ہم آہنگی میں کوئی بگاڑ قحط، سیلاب یا ماحولیاتی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے پانی کی منصفانہ تقسیم عالمی اصولوں کا تقاضا ہے، خاص طور پر جب اوپر سے نیچے کی طرف بہاؤ روکنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو۔1960 کا سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک اہم ترین دستاویز ہے۔ عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والا یہ معاہدہ آج بھی 66 برس بعد علاقائی پانی کی سیاست کا مرکز ہے۔ معاہدے کے تحت مشرقی دریاؤں (راوی، بیاس، ستلج) کا حق بھارت کو دیا گیا جبکہ مغربی دریاؤں (سندھ، جہلم، چناب) پر پاکستان کو زیادہ تر کنٹرول حاصل ہے۔ بھارت کو مغربی دریاؤں پر محدود غیر آبی استعمال (جیسے پن بجلی) کی اجازت ہے مگر بڑے ڈیموں یا رخ موڑنے پر سخت پابندیاں ہیں۔ معاہدے میں مستقل کمیشن کا قیام کیا گیا جو تنازعات کا حل کرتا ہے اور اختلاف کی صورت میں غیر جانبدار ماہر یا ثالثی کا راستہ کھلا ہے۔ ورلڈ بینک ضامن کا کردار ادا کرتا ہے۔یہ معاہدہ تین پاک بھارت جنگوں کے باوجود زندہ رہا، جو اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ مگر حالیہ برسوں میں بھارت کی جانب سے پن بجلی منصوبوں اور پانی کے بہاؤ میں تبدیلی کے الزامات نے کشیدگی بڑھا دی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ معاملہ ہے۔ ملکی معیشت کا بڑا حصہ زراعت پر منحصر ہے، جہاں 40 سے 50 فیصد آبادی کا روزگار اور قومی معیشت کا 20 سے 25 فیصد حصہ اسی شعبے سے جڑا ہے۔ غذائی تحفظ اور پانی کا براہ راست تعلق ہے۔اپریل 2025 میں مقبوضہ کشمیر کی وادی بیسرن پہلگام میں ہونے والے واقعے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا۔ بھارت نے بغیر جامع تفتیش کے پاکستان پر الزام لگایا، جس کے نتیجے میں مئی کے ابتدائی دنوں میں پاکستان اور آزاد کشمیر پر حملے ہوئے۔ پاکستان نے جوابی کارروائی میں بھارتی طیاروں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اب بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے حصے کا پانی روکنے اور رخ موڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ پانی کو جنگی ہتھیار بنانے کی پالیسی کا مظہر بھی ہے۔پاکستان کی حکومت نے اس پر واضح اور دوٹوک موقف اختیار کیا ہے۔ وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ “پاکستان کے پانی پر ہاتھ ڈالنے والے کا ہاتھ کاٹ دیں گے”۔ انہوں نے زور دیا کہ معیشت، روزگار اور غذائی تحفظ پانی پر منحصر ہے، اس لیے کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔
وزیراعظم اور فوجی قیادت نے بھی اسے بقا کا معاملہ قرار دیا ہے۔ حکومت کا عزم ہے کہ سفارتی، قانونی اور بین الاقوامی فورمز پر پاکستان اپنا کیس مضبوطی سے پیش کرے گا۔حال ہی میں پاکستان میں سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی سیمینار منعقد ہوا، جس کا اہتمام وزارت اطلاعات اور انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز نے کیا۔ سیمینار میں مختلف ممالک کے ماہرین شریک ہوئے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا یکطرفہ اقدام غیر قانونی اور اشتعال انگیز ہے۔ پانی ہماری زندگی کی بنیاد ہے۔ ہم دریائے سندھ کے معاملے پر مضبوطی سے قائم ہیں۔ انہوں نے سفارتی سطح پر آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ، اگر ضرورت پڑی تو سخت اقدامات کا حق بھی محفوظ رکھا۔دفاعی تجزیہ نگار ڈاکٹر ماریہ سلطان نے خبردار کیا کہ معاہدے کو کمزور کرنے سے علاقائی استحکام متاثر ہوگا۔ پانی کو ہتھیار بنانا کشیدگی بڑھائے گا۔ بین الاقوامی امور کی ماہر ڈاکٹر روکسلینا زیگون نے کہا کہ یہ معاہدہ جنوبی ایشیا میں امن کا ستون ہے۔ ڈیٹا شیئرنگ اور رابطوں کی کمی غیر یقینی پیدا کرتی ہے۔ سیمینار میں انجینئر خرم دستگیر خان، احمر بلال صوفی اور دیگر ماہرین نے بھی خطاب کیا۔سندھ طاس معاہدہ اس لیے قابل قدر ہے کہ اس نے دونوں ممالک کو جنگی راستے سے ہٹ کر بات چیت کا راستہ دیا۔ مگر موجودہ قیادت کی جانب سے یکطرفہ اقدامات اس معاہدے کی روح کو مجروح کر رہے ہیں۔