Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء
No upcoming prayer found.

بھارت میںبلڈوزر راج،مسلمانوں کا امتحان

بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے، لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں رونما ہونے والے واقعات اس دعوے پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔ مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی کارروائیاں، عبادت گاہوں کی مسماری، رہائشی آبادیوں کو نشانہ بنانا اور نفرت انگیز سیاسی ماحول نے ملک کے سماجی توازن اور جمہوری تشخص کو شدید متاثر کیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں مہاراشٹر اور گجرات میں پیش آنے والے واقعات اسی تشویشناک رجحان کی ایک اور مثال ہیں۔مہاراشٹر کے ضلع پونے میں حکام نے متعدد مذہبی مقامات کے خلاف انہدامی کارروائی شروع کی۔ اطلاعات کے مطابق اپریل 2025 میں 31 مذہبی ڈھانچوں کو نوٹس جاری کیے گئے جن میں 18 مساجد بھی شامل تھیں۔ حکام نے انہیں غیر قانونی تعمیرات قرار دیتے ہوئے مسماری کا عمل شروع کیا اور اب تک 15 ڈھانچے گرائے جا چکے ہیں جن میں سات مساجد شامل ہیں۔ چکھلی کدلواڑی کے علاقے میں تازہ کارروائی کے دوران مساجد سمیت 11 عمارتوں کو منہدم کر دیا گیا۔اس کارروائی کے بعد مقامی آبادی اور پولیس کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی، مقدمات درج کیے گئے اور سینکڑوں افراد کی شناخت کی گئی۔ دوسری جانب متاثرہ افراد اور مسجد کمیٹیوں نے قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے وقف بورڈ سے رجوع کیا۔ بعض مقامات کے لیے عبوری ریلیف بھی حاصل کیا گیا، تاہم سوال یہ ہے کہ اگر معاملہ عدالتوں اور قانونی فورمز میں زیر سماعت ہے تو انہدامی کارروائیوں میں اس قدر عجلت کیوں دکھائی جا رہی ہے؟
یہ سوال صرف مہاراشٹر تک محدود نہیں۔ گجرات کے صنعتی شہر سورت میں مسلم اکثریتی آبادی پر مشتمل ناصر نگر بستی میں تقریباً سو مکانات کو منہدم کر دیا گیا۔ مقامی باشندوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں کوئی مؤثر پیشگی نوٹس نہیں دیا گیا اور اچانک بلڈوزر پہنچ کر گھروں کو ملبے کا ڈھیر بنا گئے ۔ اس کارروائی کے نتیجے میں درجنوں خاندان بے گھر ہو گئے۔ ان کے گھروں، سامان اور برسوں کی جمع پونجی کو چند گھنٹوں میں ختم کر دیا گیا۔اس واقعے کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ اتنی بڑی کارروائی کی ذمہ داری کوئی سرکاری ادارہ کھلے طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ متاثرین یہ سوال اٹھانے میں حق بجانب نظر آتے ہیں کہ اگر کارروائی قانونی تھی تو اس کی ذمہ داری لینے میں ہچکچاہٹ کیوں ہے، اور اگر غیر قانونی تھی تو پھر اتنے بڑے پیمانے پر انہدام کیسے ممکن ہوا؟
یہ واقعات ایک بڑے اور زیادہ تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران بھارت میں نفرت انگیز بیانیہ مسلسل مضبوط ہوا ہے۔ وہ زبان اور طرز سیاست جو کبھی معاشرے کے کناروں پر موجود تھی، آج مرکزی سیاسی دھارے میں دکھائی دیتی ہے۔ مذہبی اشتعال انگیزی، اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور سماجی تقسیم کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا معمول بنتا جا رہا ہے۔اس فضا کا سب سے زیادہ اثر اقلیتوں پر پڑا ہے۔ عبادت گاہیں، تعلیمی ادارے، قبرستان اور مذہبی مراکز مختلف تنازعات کی زد میں آ رہے ہیں۔ کئی مقامات پر انہدامی کارروائیوں کو قانونی جواز کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ قانون کا اطلاق یکساں نہیں بلکہ منتخب انداز میں کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متاثرہ طبقات میں عدم تحفظ کا احساس مسلسل بڑھ رہا ہے۔ایک جمہوری معاشرے میں مذہبی مقامات سے متعلق تنازعات کو شفاف قانونی عمل، عدالتی نگرانی اور تمام فریقوں کو سنے بغیر حل نہیں کیا جاتا۔ لیکن جب بلڈوزر عدالتی فیصلوں سے پہلے یا متوازی طور پر حرکت میں آ جائیں تو یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ انتظامی طاقت کو انصاف پر فوقیت دی جا رہی ہے۔ یہی تاثر جمہوری اداروں پر عوامی اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ملک میں ماورائے عدالت کارروائیوں، پولیس مقابلوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات کے بے دریغ استعمال پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکن بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ریاستی طاقت کا استعمال قانون کی حدود سے باہر محسوس ہونے لگے تو اس کے اثرات صرف ایک طبقے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا نظام متاثر ہوتا ہے۔
انتخابی اور شہریت سے متعلق حالیہ اقدامات نے بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ شہریوں کی شناخت، ووٹر رجسٹریشن اور شہریت کے معاملات پر ہونے والی کارروائیوں نے لاکھوں لوگوں میں بے چینی پیدا کی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد صرف انتظامی اصلاحات نہیں بلکہ بعض طبقات کی سیاسی نمائندگی کو محدود کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ اگر یہ تاثر مزید مضبوط ہوا تو اس کے اثرات بھارت کے جمہوری ڈھانچے پر دور رس ہوں گے۔ بھارت کی اصل طاقت اس کی مذہبی، ثقافتی اور لسانی تنوع میں رہی ہے۔ یہ وہی تنوع تھا جس نے اسے ایک مضبوط وفاقی اور جمہوری ریاست کے طور پر شناخت دی۔ لیکن اگر کسی ایک طبقے کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کا احساس پیدا ہو جائے، اگر عبادت گاہوں اور آبادیوں کی مسماری معمول بن جائے، اگر سیاسی اختلاف کو قومی وفاداری کے پیمانے سے ناپا جانے لگے تو پھر معاشرتی ہم آہنگی شدید متاثر ہوتی ہے۔مہاراشٹر اور گجرات کے حالیہ واقعات صرف دو مقامات کی کہانیاں نہیں بلکہ ایک وسیع تر رجحان کی علامت ہیں۔ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ قانون کی بالادستی، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور ریاستی طاقت کے منصفانہ استعمال کا نام بھی ہے۔ اگر یہ اصول کمزور پڑ جائیں تو جمہوری ادارے اپنی روح کھو دیتے ہیں۔بھارت کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ اپنی آئینی اقدار، مذہبی آزادیوں اور شہری مساوات کے اصولوں کو محض دستاویزات تک محدود نہ رہنے دے بلکہ عملی طور پر بھی ان کا تحفظ یقینی بنائے۔ بصورت دیگر عدم اعتماد، سماجی تقسیم اور سیاسی کشیدگی کا یہ سلسلہ نہ صرف اقلیتوں بلکہ پورے بھارتی معاشرے کے مستقبل کو متاثر کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں