Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

ایران کے نئے سپریم لیڈر سید مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟

تہران: سید مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کی مجلسِ خبرگان نے ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے۔ وہ سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دوسرے صاحبزادے ہیں اور کئی برسوں سے ایران کے مذہبی، سیاسی اور سکیورٹی حلقوں میں ایک بااثر شخصیت کے طور پر جانے جاتے رہے ہیں۔

سید مجتبیٰ خامنہ ای 8 ستمبر 1969 کو مشہد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد تہران اور قم کے معروف دینی مدارس میں فقہ اور اسلامی علوم کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ کئی برسوں تک وہ قم کے حوزہ علمیہ میں تدریس سے بھی وابستہ رہے۔

ایران عراق جنگ کے دوران انہوں نے رضاکارانہ طور پر عسکری خدمات انجام دیں، جس کے باعث پاسدارانِ انقلاب اور دیگر ریاستی اداروں کے ساتھ ان کے روابط مضبوط ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے سپریم لیڈر کے دفتر میں مختلف اہم انتظامی اور مشاورتی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق وہ گزشتہ کئی برسوں سے ایران کے اہم ریاستی فیصلوں، سکیورٹی معاملات اور اعلیٰ سطحی مشاورت میں مؤثر کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ انہیں اپنے والد کے قریبی ترین مشیروں میں شمار کیا جاتا تھا اور وہ ریاستی اداروں کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ بھی سمجھے جاتے رہے ہیں۔

مجلسِ خبرگان کی جانب سے ان کے انتخاب کے بعد اب وہ ایران کے تیسرے سپریم لیڈر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ ایران میں سپریم لیڈر کو مسلح افواج کی کمان، خارجہ پالیسی، عدلیہ، اہم ریاستی اداروں اور اسٹریٹجک فیصلوں پر آئینی اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کو موجودہ علاقائی کشیدگی، معاشی دباؤ اور سفارتی چیلنجز جیسے اہم مسائل کا سامنا ہوگا۔ ان کی قیادت ایران کی داخلی اور خارجی پالیسی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں