اسلام آباد: گندم بحران کے خدشات کے پیش نظر وفاقی وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق (فوڈ سکیورٹی) نے اعلیٰ سطح کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا ہے، جس میں ملک بھر میں گندم کی پیداوار، ذخائر اور دستیابی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق گندم بحران سے متعلق اجلاس میں چاروں صوبوں کے فوڈ ڈیپارٹمنٹس کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس کا مقصد گندم کی کٹائی کے تقریباً تین ماہ بعد سامنے آنے والی صورتحال کا جائزہ لینا اور مستقبل کے لیے حکمت عملی مرتب کرنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت فوڈ سکیورٹی نے تمام صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اجلاس میں گندم کی موجودہ پیداوار، سرکاری و نجی ذخائر، خریداری اور دستیاب اسٹاک سے متعلق مکمل اعداد و شمار پیش کریں تاکہ زمینی حقائق کی روشنی میں فیصلے کیے جا سکیں۔
حکام کے مطابق اجلاس میں ملک میں گندم کی طلب و رسد، آئندہ مہینوں کے لیے ممکنہ ضروریات اور مارکیٹ میں قیمتوں کی صورتحال پر بھی غور کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ذخیرہ اندوزی، سپلائی چین اور گندم کی ترسیل سے متعلق معاملات بھی ایجنڈے کا حصہ ہوں گے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اگر اجلاس میں گندم کے ذخائر یا سپلائی سے متعلق کسی قسم کی کمی یا خطرات سامنے آئے تو وفاقی حکومت فوری اقدامات کے لیے سفارشات مرتب کرے گی تاکہ عوام کو آٹے اور گندم کی ممکنہ قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

