خیبرپختونخوا کی روایتی سیاست ملک، خان، مشر اور سردار کے گرد گھومتی تھی، جہاد افغانستان اور بعد میں امریکہ کے خلاف طالبان کی جنگ آزادی کے دوران خیبرپختونخوا، بلوچستان کے پشتون علاقے، جنوبی پنجاب اور کراچی جہاد افغانستان کا کچھ براہ راست اور کچھ بالواسطہ بیس کیمپ بنے رہے، ان تیس چالیس برسوں میں افغانستان میں جو تبدیلیاں آئیں وہ ہمارا آج کا موضوع نہیں، کیونکہ اس پر بہت کچھ لکھا اور بیان کیا جا چکا ہے، ہمارا آج کا موضوع یہ ہے کہ جہادی اور شدت پسند تنظیموں کے طویل عرصہ سرگرم رہنے کی وجہ سے ملک کے مذکورہ بالا ایریاز کی سیاست میں اسٹریٹجک تبدیلی آ گئی اور سب سے زیادہ یا یوں کہیں کہ فیصلہ کن تبدیلی خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے پشتون ایریاز میں آئی ، اس تبدیلی کی وجہ سے ملک، خان، مشر اور سردار کے گرد گھومتا روایتی مقامی سیاسی ڈھانچہ ٹوٹ گیا اور اس کی جگہ شدت پسند تنظیموں خاص طور پر علماء کرام اور نوجوانوں نے لے لی، ملک کے دوسرے صوبوں کی طرح ملک، خان، مشر اور سردار کے گرد گھومتی سیاست کے اپنے فائدے اور اپنے نقصانات ہیں، ان میں بھی مختلف اضلاع میں شدت اور جبر کا عنصر موجود ہے لیکن یہ شدت اور جبر پچیس تیس فیصد یا اس سے کچھ کم یا زیادہ ہوگا، لیکن اس کی جگہ شدت پسند مذہبی تنظیموں کے جس متبادل انفرااسٹرکچر نے ’’جنم‘‘لیا وہ 80سے 90فیصد شدت اور جبر سے کام لینے والا ہے، نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ پاکستان کے پشتون ایریاز کی سیاست مستقل طور پر خون آلود ہو گئی، اپنے سیاسی و مذہبی مخالفین کو فائرنگ کرکے یا بم دھماکوں اور خود کش حملوں کے ذریعے نشانہ بنانے کا کلچر عام ہوگیا۔
صوفیاء کرام کا کہنا ہے کہ ظلم و زیادتی یا جبر و استبداد کو مزید ظلم و زیادتی اور جبر و استبداد کی زیادہ سخت طاقت کے ذریعے ختم کرنا ایسے ہی ہے کہ آپ ایک میلے کچیلے بدبودار کپڑے کو صاف کرنے کیلئے گٹر کے پانی سے یا خون سے دھوئیں، اس طریقے سے کپڑا پاک صاف نہیں بلکہ مزید غلیظ ہو جائے گا۔ ملک، خان، مشر اور سردار کے گرد گھومتی سیاست جب سے شدت پسند مذہبی تنظیموں کے گرد گھومنے لگی ہے، تو بات سیاسی و مذہبی مخالفین سے نمٹنے والے ’’فارمولے‘‘کی طرح ریاست و حکومت سے اختلاف کو بھی بندوق کی گولی یا بم دھماکوں اور خود کش حملوں کے ذریعے ’’طے‘‘کرنے کی طرف چل پڑی اور اس وقت صورتحال یہ ہے ملک کے دو صوبے پراکسی وار کی آگ میں جل رہے ہیں اور اس مصیبت سے جان چھوٹنے کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی،پچھلے آٹھ دس برسوں سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ صوبہ سندھ، خاص طور پر اندرون سندھ میں شدت پسند مذہبی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جو اب آگے بڑھے کر مقامی سطح پر مسلح تصادم کے مرحلے کی دہلیز پر پہنچ گیا ہے، نوجوانوں کو اپنے مخالفین کیخلاف بندوق کی گولی استعمال کرنے کی ذہنی سطح تک لانے کیلئے پہلے مرحلے میں مذہبی جذبات میں شدت پسندی لائی جاتی ہے، اس حوالے سے توہین مذہب اور فرقہ وارانہ اختلاف رائے کو جواز بنایا جاتا ہے، اور دلیل یہ دیدی جاتی ہے کہ رسول اللہ کے زمانے میں اور بعد میں خلفائے راشدین کے دور حکومت میں گستاخی کے مرتکب افراد سے سخت ترین انداز میں نمٹا گیا، لیکن یہ بات نظر انداز کر دی جاتی ہے کہ رسول ﷺ اللہ کے نبی و رسول ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے وقت کے فوج کے کمانڈر انچیف بھی تھے، حکومت کے سربراہ بھی تھے اور ریاست مدینہ کے چیف جسٹس بھی تھے، اس لیئے کسی گستاخ کے معاملے میں حکم جاری کرنے کا آپ کا اختیار نبی و رسول ہونے کے ساتھ ساتھ حکومت و ریاست کا فیصلہ بھی ہوتا تھا، ہمارے ہاں شدت پسند مذہبی تنظیموں کی طرف سے موقف یہ اختیار کر لیا جاتا ہے کہ چونکہ علماء کرام انبیاء کے وارث ہیں اس لئے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے تحت علماء کرام اور دینی جماعتوں کا کردار صرف وعظ و نصیحت کرنا نہیں بلکہ اسلامی تعزیرات کی تشریح اور ان کا نفاذ بھی ان کا اختیار ہے۔ یہ گویا ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے والی بات ہے جس کا آخری مرحلہ یہ آتا ہے کہ پھر ان شدت پسند تنظیموں کا آخر کار حکومت و ریاست سے جھگڑا شروع ہو جاتا ہے جیسا کہ اس وقت خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں جاری ہے۔
تحریک لبیک پاکستان کی اٹھان بھی اسلامی تعزیرات کی تشریح اور نفاذ کے حوالے سے’’ازخود نوٹس‘‘ سے شروع ہوئی اور پھر معاملہ اتنا بڑھا کہ اس جماعت نے ملک کے خارجہ و دفاعی امور میں بھی ریاست کو ڈکٹیشن دینا اپنا فرض یا اپنا حق سمجھنا شروع کر دیا، نتیجہ آخر کار انتہائی المناک نکلا، یہ پنجاب خاص طور پر۔ شمالی اور وسطی پنجاب میں شدت پسندی سے وابستہ ایک تنظیم کے آغاز و انجام کی کہانی ہے، اس سے قبل جنوبی اور وسطیٰ پنجاب میں فرقہ وارانہ شدت پسندی سے اٹھان پانے والی ایک اور شدت پسند تنظیم کی قیادت اور سرگرم کارکن حکومت و ریاست سے ٹکرانے کی وجہ سے افسوسناک انجام سے دوچار ہو چکے ہیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان کے بلوچ علاقوں اور اندرون سندھ میں بہت سے مقامی سردار، وڈیرے اور نواب اپنی اپنی پرائیویٹ ملیشیا رکھتے ہیں، ان کے اپنے نجی ٹارچر سیل ہیں، بعض وڈیروں اور پتھاریداروں نے قریبی جنگلوں، کچہ ایریاز یا پہاڑی علاقوں میں ڈاکوئوں کے گروہ یا اغوا برائے تاوان گینگز پال رکھے ہیں، جبر و تشدد کی اس سیاست کا خاتمہ اگر ریاست و حکومت کی طاقت کے ذریعے کیا جائے تو صورتحال میں جو تبدیلی آئے گی وہ بہتری کی طرف جائے گی لیکن اگر بندوق کی گولی کے ذریعے اپنے اپنے آبائی حلقہ انتخاب پر قابض وڈیروں اور سرداروں کے خاتمے کیلئے خیبرپختونخوا اور بلوچستان والا ’’طریقہ‘‘استعمال ہوا اور ریاست و حکومت نے اس سے آنکھیں بند کیئے رکھیں تو نتیجہ بھی آخر کار خاکم بدہن خدا نخواستہ پھر خیبرپختونخوا اور بلوچستان والا بھی نکل سکتا ہے، یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ سندھ، خیبر پختونخوا نہیں ہے، اس کی سرحدیں پاکستان کے ازلی دشمن اور چار پانچ گنا بڑے ہمسایہ ملک بھارت سے ملتی ہیں، اس لیئے اگر اندرون سندھ میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان جیسے مضبوط شدت پسند نیٹ ورک قائم ہو گئے تو انہیں تھر پارکر راجھستان کے زمینی روٹ اور بحیرہ عرب کے سمندری روٹ کے ذریعے براہ راست پراکسی جنگ کا ایندھن فراہم کرنا نسبتاً آسان ہوگا، اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی، جی ڈی اے اور تحریک انصاف کے ساتھ ساتھ جے یو آئی ف اور ٹی ایل پی کو آن بورڈ لے کر شدت پسندی کی طرف بڑھنے والی تقریروں اور بیانات اور خاص طور پر سوشل میڈیا پوسٹس سے سختی کے ساتھ اجتناب کی ’’درخواست‘‘کی جائے،کیونکہ مثل مشہور ہے کہ ’’گربہ کشتن روزِ اول‘‘ فصل کو بچانے کا صحیح وقت ابتدائی مہینے ہوتے ہیں اگر اس دوران خود رو جڑی بوٹیوں کو تلف کر دیا جائے تو پیداوار بھر پور آتی ہے، اور اگر ابتدائی مہینوں میں سستی کی جائے تو پھر جڑی بوٹیاں اتنی پھیل جاتی ہیں کہ کسی طرح قابو میں نہیں آتیں اور فصل کی تباہی کا باعث بن کر پیداوار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتی ہیں۔