Search
Close this search box.
جمعرات ,11 جون ,2026ء

گلگت بلتستان کا تازہ سبق

گلگت بلتستان میں انتخابی نتائج کا اونٹ اپنی روایتی کروٹ بیٹھ چکا ہے اور وہاں پیپلز پارٹی و مسلم لیگ ن کے اتحاد سے حکومت بننے کا امکان واضح ہو گیا ہے، دونوں سیاسی جماعتوں کی قیادت میں جو معاملات طے پائے ہیں ان کی خبر رکھنے والوں کا دعویٰ ہے کہ یہ نیا حکومتی اتحاد پی ڈی ایم طرز پر ہوگا۔ پاکستان میں یہ دیرینہ روایت چلی آ رہی ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں حکومتیں بھی انہی سیاسی جماعتوں کی بنتی ہیں کہ جن کی وفاق میں حکومت ہو، خود پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں اس روایت پر عمل ہوا، اس لئے اب اگر ایک بار پھر یہ روایت دہرائی جا رہی ہے تو اس پر پی ٹی آئی ، جے یو آئی ف اور مجلس وحدت المسلمین کا شور مچانا روایتی سیاسی بیان بازی کے سوا کچھ نہیں کیونکہ زمینی حقائق اور تاریخی حقائق سے یہ اپوزیشن جماعتیں خوب آگاہ ہیں اور انتخابی نتائج کے حوالے سے بیان بازی پاکستان کے مخصوص جمہوری کلچر کا حصہ قرار دی جا سکتی ہے کہ جہاں ہر عام انتخابات میں ایک فریق جیت جاتا ہے اور دوسرے سے دھاندلی ہو جاتی ہے، الیکشن میں ہارتا کوئی نہیں۔گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے لئے جو فارمولا طے پایا ہے اس کے حوالے سے کہا کہ جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان میں وزیراعلی پیپلزپارٹی کا ہوگا جب کہ گورنر مسلم لیگ (ن)کا ہو گا، اس نئی اتحادی حکومت میں وزارتوں کی تقسیم کیلئے 60/40 کا فارمولا طے پایا ہے۔ یعنی 60 فیصد وزرا ء پاکستان پیپلز پارٹی سے ہوں گے اور 40فیصد مسلم لیگ ن سے۔ دو روز قبل ایوان صدر میں وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری کی اس حوالے سے اہم ملاقات بھی ہوئی جس میں یہ تمام معاملات طے پائے۔ اس اہم ملاقات میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، وزیرِ داخلہ محسن نقوی، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور رانا ثنا اللہ موجود تھے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے اس ملاقات میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، شیری رحمان، نوید قمر، سلیم مانڈویوالا، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور اور راجہ پرویز اشرف بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ملاقات میں گلگت بلتستان کے انتخابات اور آزاد کشمیر کی صورتحال سمیت قومی اہمیت کے امور پر بھی گفتگو ہوئی جب کہ ملاقات میں حکومت اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے کی بیشتر بجٹ تجاویز سے اتفاق کرلیا اور پیپلز پارٹی نے بجٹ منظور کروانے کے لئے اپنی مکمل حمایت کا گرین سگنل بھی دے دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان الیکشن میں کامیابی پر صدر زرداری کو مبارک باد دی اور مسکراتے ہوئے کہا کہ نوجوان بلاول بھٹو نے ہم سے بہتر انتخابی مہم چلائی، جس پر صدر آصف زرداری نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، آخر بیٹا کس کا ہے! وزیرِ اعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان میں عام انتخابات کے کامیاب، پرامن اور شفاف انعقاد پر وہاں کے عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد دی اور انتخابی نتائج میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اکثریتی سیاسی جماعت بننے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے خصوصی طور پر مبارکباد کا مستحق قرار دیا، واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24نشستوں پر ہونے والے عام انتخابات میں ابتدائی انتخابی نتائج میں 24 میں سے 21نشستوں کے مکمل غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج سامنے آنے پر پاکستان پیپلز پارٹی 9نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے سب سے آگے تھی۔ اس سیاسی مقابلے میں آزاد امیدوار بھی بھرپور طریقے سے سامنے آئے ہیں اور وہ 7نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں۔ اسی طرح پاکستان مسلم لیگ (ن) 4 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی، جب کہ مجلس وحدت مسلمین یعنی ایم ڈبلیو ایم کو ایک نشست پر کامیابی ملی۔گلگت بلتستان کے عام انتخابات کے نتائج نے اقتدار و اختیار کے معاملات پر ریاست کی رٹ کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے، اور یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ گلگت بلتستان سے ملنے والا تازہ سبق یہ ہے کہ مجوزہ 28 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد ملک بھر میں نئے بلدیاتی نظام کے تحت ضلعی و تحصیل حکومتوں کے انتخابات میں کامیابی کن سیاسی جماعتوں کے حصے میں آئے گی اور کٹی پھٹی تحریک انصاف کی ملک گیر مقبولیت کا جو ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے اسے کتنا بڑا جھٹکا لگنے جا رہا ہے؟
سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت کے ضلعی و تحصیل ناظمین والے مقامی حکومتوں کے سسٹم سے ملتے جلتے نئے بلدیاتی انتخابات کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کو ملک گیر سطح پر گراس روٹ لیول پر جو نیا انتظامی ڈھانچہ حاصل ہونے جا رہا ہے اس آئینے میں ملک کے سیاسی مستقبل کا چہرہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا یے، اس لئے پاکستان میں پاور پالیٹکس کے معاملات پر حکومتی و ریاستی رٹ قائم کرنے کا سلسلہ ان بلدیاتی انتخابات کے بعد واضح ہو جائے گا اور اس کے بعد سیاسی عدم استحکام کے ذریعے حکومت کیخلاف احتجاجی تحریک چلانے کے منصوبے بنانے والوں کیلئے نئے زمینی سیاسی حقائق کو تسلیم کرنے کے سوا دوسرا کوئی چارہ کار نہیں رہے گا، گلگت بلتستان سے حاصل ہونے والے اس تازہ سبق میں پاکستان تحریک انصاف کیلئے سیکھنے کے بہت کچھ ہے بشرطیکہ اس کی قیادت حقیقی زمینی حقائق سے کچھ سیکھنے پر تیار ہو تو….!

یہ بھی پڑھیں