Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

مریم نواز شریف اور غلام حیدر وائیں

بھارتی ریاست کرناٹک میں بیجا پور اور مہاراشٹر میں احمد نگر مغلیہ دور کی دو اہم سلطنتیں تھیں، جنوبی ہند کی بیٹی سلطانہ چاند بی بی باری باری ان دونوں ریاستوں کی حکمران رہی، ایک ریاست (بیجا پور) اس کے آبائو اجداد کی تھی اور دوسری(احمد نگر)اس کے سسرالی خاندان کی، اپنے دور حکمرانی میں اس نے مغلیہ سلطنت کی جنوبی ہند میں توسیع پسندی کیخلاف بڑی زوردار مزاحمت کی اور اس وقت کے مغل بادشاہ اکبر اعظم کے خلاف دلیرانہ جنگیں لڑتے ہوئے احمد نگر کے قلعے کا دفاع کیا، سیاست اور میدان جنگ دونوں کی شہسوار ہونے کے ناطے جنوبی ہند کی یہ مسلمان بیٹی ایک افسانوی کردار بن گئی اور صدیوں تک قصے کہانیوں کا موضوع رہی، بھارتی فلم انڈسٹری نے اس پر فلمیں بھی بنائیں اور ڈرامہ سیریل بھی تیار کیں جنہیں خاصی مقبولیت ملی، سلطانہ چاند بی بی کی یاد ہمیں پنجاب کی ’’چاند بی بی‘‘ مریم نواز شریف کی حکومت کے دو تین اہم اقدامات کے تجزیہ کے دوران آئی، اس لئے آج کے کالم کا آغاز ہم نے جنوبی ہند کے معرکوں کی شہسوار کے تذکرے سے کیا اور بات جنوبی پنجاب کے حالیہ معرکوں کی شہسوار مریم نواز شریف تک آ پہنچی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے تین صوبوں کے سنگم پر کئی عشروں سے جاری اغوا برائے تاوان کے منظم نیٹ ورک کا خاتمہ ہی نہیں کیا، بلکہ اس’’کینسر‘‘کے مستقل علاج کے لئے دریائے سندھ کے کچہ ایریا کے لئے 23ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام کی ’’کیمو تھراپی‘‘بھی شروع کر دی ہے تاکہ اغوا برائے تاوان سمیت جرائم کی اس دلدل کا مستقل بنیادوں پر خاتمہ کیا جا سکے۔
چند روز قبل ضلع رحیم یارخان میں مسلم لیگ ن کے سرکردہ رہنمائوں حاجی محمد ابراہیم ، شیخ فیاض الدین، موجودہ ضلعی صدر سردار اظہر خان لغاری، سابق ضلعی صدر میاں خالد شاہین، سردار فاروق خان لغاری، چوہدری ظفر یاسین اور حاجی عبد الطیف بھٹی پر مشتمل نمائندہ وفد نے ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان ظہیر انور جپہ سے ملاقات کرکے مجوزہ ترقیاتی اسکیموں کو حتمی شکل دینے پر تفصیلی مشاورت کی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا دوسرا اہم منصوبہ پنجاب میں کپاس، گنے، چاول اور گندم کی لاکھوں ایکڑ زرخیز اراضی کو سیم و تھور سے ہونے والی تباہی سے بچانے کے لئے ہے، اس سلسلے میں حال ہی میں ضلع رحیم یارخان کے سیم و تھور سے متاثرہ 29 ہزار ایکڑ کی بحالی کے لئے پنجاب حکومت نے 2ارب روپے سے زائد کا میگا پراجیکٹ منظور کر لیا ہے، اس حوالے سے محسن رحیم یار خان چوہدری محمد منیر، مسلم لیگ ن کے سابق ایڈیشنل جنرل سیکرٹری چوہدری محمد جعفر اقبال گجر اور ضلع رحیم یار خان کی ہردلعزیز اور ہنس مکھ شخصیت بڑے کاشتکار و صنعتکار سرکردہ ن لیگی رہنما حاجی محمد ابراہیم نے کلیدی کردار ادا کیاہے، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اس تاریخی فیصلے سے چولستان کے پکا ایریا کے چکوک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ایک طرف شکریہ مریم نواز شریف کے پیغامات کا سیلاب آگیا ہے اور دوسرے طرف پکا ایریا کے پریشان حال کاشتکار ایک دوسرے کو مبارکبادیں دے رہے ہیں، کیونکہ اس منصوبے کی تکمیل سے 29ہزار ایکڑز سے منسلک ہزاروں گھرانوں کی معاشی حالت میں انقلابی تبدیلی آئے گی اور خوشی و خوشحالی ان کے آنگن کا رخ کرے گی،ضلع رحیم یار خان میں چنی گوٹھ سے ٹلو بنگلہ منٹھار تک پکا ایریا کی کم و بیش پانچ لاکھ ایکڑ سے زائد زرخیز زرعی زمین سیم و تھور کی وجہ سے ناکارہ ہونے کے شدید خطرات سے دوچار ہے، اس لئے واپڈا اسکارپ منصوبہ بحال کرنے کے مطالبے کے لئے کاشتکاروں نے پچھلے سات آٹھ برسوں کے دوران بار بار احتجاجی مظاہرے کئے لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی، محسن رحیم یارخان چوہدری محمد منیر، سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی چوہدری محمد جعفر اقبال اور لیاقت پور سے ن لیگی ایم پی اے چوہدری محمود احمد نے اس حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی توجہ دلائی، ترقی پسند کاشتکار و صنعتکار اور ضلع کے سرکردہ ن لیگی رہنما حاجی محمد ابراہیم نے مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے طویل آگاہی مہم چلائی، یوں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ذاتی دلچسپی سے تحصیل رحیم یار خان کے گائوں چک 95پی سے اس میگا پراجیکٹ کے تحت 24 کلومیٹر طویل نئی ڈرین تعمیر کی جائیگی، تحصیل رحیم یارخان اور تحصیل صادق آباد کے چولستانی چکوک کی مجموعی طور پر 97کلومیٹر پرانی و ناکارہ ڈرینز کی بحالی ہوگی، 37نئے ٹیوب ویلز نصب کئے جائیں گے، 50پرانے ٹیوب ویلز کو سولر سسٹم پر منتقل کیا جائیگا، مجموعی طور پر 87ٹیوب ویلز ماحول دوست اور کم لاگت جدید نظام کے تحت کام کرینگے۔
واپڈا اسکارپ منصوبہ سے منسلک پمپنگ اسٹیشنز کی بحالی بھی اس بڑے منصوبے میں شامل ہے، ضلع رحیم یار خان کے پکے کے چکوک عرصہ دراز سے سیم و تھور کی تباہ کاریوں کے باعث معاشی مشکلات کا شکار تھے ، ہزاروں ایکڑ سونا اگلتی زمینیں بنجر ہو چکی تھیں، یہ ایریا اپنی زرخیزی اور ترقی پسند محنتی کاشتکاروں کی وجہ سے ملکی فوڈ باسکٹ کا اہم ترین حصہ ہے، لیکن سیم و تھور کی تباہ کاریوں کی وجہ سے اس ایریا کی گندم، چاول، کپاس اور گنے کی پیداوار شدید متاثر ہو چکی ہے، لیکن اب اس منصوبے کی وجہ سے صورتحال میں بڑی اور انقلابی تبدیلی آئے گی، نہ صرف ہزاروں دیہی گھرانے معاشی خوشحالی حاصل کریں گے بلکہ صوبے اور ملک کی مجموعی زرعی پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو گا،خاتون آہن وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا ایک اہم منصوبہ پنجاب کی نہروں، مائنرز اور کھالوں کی بھل صفائی ہے، اس سلسلے میں اطلاعات یہ ہیں کہ کم و بیش 15,300میل (تقریباً 24,600کلومیٹر)طویل نہری نظام کی بھل صفائی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس میں 4ہزار کلومیٹر دوامی (سالانہ)اور کم و بیش 20600کلومیٹر غیر دوامی(ششماہی)نہریں، مائنرز اور کھالے شامل ہیں، پنجاب کی آئرن لیڈی وزیر اعلیٰ مریم نواز کی شخصیت میں صوبے کے تین سابق وزرائے اعلیٰ کی خوبیاں یکجا نظر آتی ہیں، اگر وہ ایک طرف میاں نواز شریف کی طرح صوبے کے ترقیاتی پروگرام کو اس کی معراج تک پہنچائے ہوئے ہیں، تو دوسری طرف انہوں نے میاں شہباز شریف کی طرح دریائے سندھ کے کچہ ایریا سے اغوا برائے تاوان کا بھی قلع قمع کر دیا ہے، اور اب سیم و تھور کے خاتمے اور نظام آبپاشی کی بھل صفائی کے حوالے سے پنجاب کے درویش وزیر اعلیٰ غلام حیدر وائیں کے نقش قدم پر چل پڑی ہیں، سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب غلام حیدر وائیں 6اگست 1990ء سے 25اپریل 1993ء تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ بھل صفائی کے لئے مریم نواز شریف اپنے اہداف کو سابق وزیر اعلیٰ غلام حیدر وائیں کی طرح جامع مہم میں بدل کر پنجاب کی زرعی پیداوار اور صوبے کے کاشتکاروں کی معیشت کو بہت بڑے پیمانے پر اپ گریڈ کرنے کا بڑا جامع پلان دیں گی جو وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں